پولیس افسران کے تبادلوں سے عوام مشکلات کا شکار

پولیس افسران کے تبادلوں سے عوام مشکلات کا شکار
پولیس افسران کے تبادلوں سے عوام مشکلات کا شکار

  

سابق دور حکومت میں مسلم لیگ ن نے پانچ سالوں میں تین چیف سیکرٹری اور چار آئی جی تبدیل کیے تھے، اسی طرح لاہور میں 3سی سی پی او اور صرف 2ڈی آئی جی آپریشنز تبدیل ہوئے تھے مگر موجودہ حکومت نے تین سالوں میں ہی یہ ریکارڈ توڑ دیا۔ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کے حکومت میں آنے کے بعد سے اب تک پنجاب میں پانچ چیف سیکرٹری اور سات آئی جی پولیس تبدیل جبکہ پانچ سی سی پی او اورآٹھ ڈٰی آئی جی آپریشنز تبدیل ہو چکے ہیں۔حکومت بنتے ہی آئی جی کلیم امام تعینات تھے، تین ماہ بعد انہیں تبدیل کر کے محمد طاہر کو تعینات کیا گیا۔ ایک ماہ بعد انہیں بھی ہٹا دیا گیا اور امجد جاویدسلیمی کو عہدہ سونپا گیا۔تاہم چھ ماہ بعد انہیں بھی ہٹا دیا گیا۔ ان کے بعد عارف نواز کو آئی جی پنجاب کا عہدہ سونپا گیا مگر سات ماہ بعد ہی انہیں ہٹا کر شعیب دستگیر کو یہ عہدہ سونپ دیا گیا۔نو ماہ تک آئی جی پنجاب رہنے کے بعد شعیب دستگیر بھی ٹرانسفر کر دیے گئے اور چھٹے آئی جی پنجاب انعام غنی کونو ستمبر 2020 کو پولیس کا صوبائی سربراہ مقرر کردیاگیا۔وہ بھی بزدار حکومت کو زیادہ مطمئن نہ کر سکے لہذا انہیں بھی عہدے سے تبدیل کر کے 8 ستمبر 2021 کو راؤسردار علی خان کو تین سالوں میں ساتویں آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا ہے اسی طرح پانچ سی سی پی او ایڈیشنل آئی جی بی اے ناصرکے بعد ذوالفقار حمید،عمر شیخ،غلام محمود ڈوگر اور اب فیاض احمد دیو کو تعینات کیا گیا  ان میں تعیناتی کاسب سے لمبا عرصہ ایڈیشنل آئی جی بی اے ناصر کا رہا ہے جو کہ اب تک کے سب سے کامیاب پولیس آفیسر تصور کیے جاتے ہیں، اسی طرح موجودہ حکمرانوں کے دور میں پہلے ڈی آئی جی آپریشنزرانا شہزاد اکبر تھے۔شہزاد اکبر کے بعد وقاص نذیر کو ڈی آئی جی آپریشنز تعینات کیا گیا،وقاص نذیر کے بعد اشفاق احمد خان کو ڈی آئی جی آپریشنز تعینات کیا گیا تھا۔

اشفاق احمد خان کی تعیناتی کے چند ماہ بعد ہی رائے بابر سعید کو ڈی آئی جی آپریشنز تعینات کر دیا گیا۔رائے بابر سعیدکے بعد اشفاق احمدخان کو دوبارہ تعینات کیا گیا انھیں تبدیل کرکے آرپی او سرگودھا اور ان کی جگہ ساجد کیانی کو لایا گیا پھر انھیں تبدیل کرکے ڈی آئی جی سہیل چوہدری کو تعینات کیا گیا سہیل چوہدری کی جگہ سی پی او روالپنڈی احسن یونس کو لا یا گیا اب انھیں تبدیل کرکے آئی جی اسلام آباد لگادیا گیا ہے جبکہ اب 

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ڈاکٹر عابد راجہ کو لگایا گیا ہے اسی طرح حکمران جماعت نے تین سال قبل جب اقتدار سنبھالا تو سب سے پہلے اکبر حسین درانی کو چیف سیکرٹری تعینات کیا گیا۔ چند ماہ بعد انہیں تبدیل کر کے نسیم کھوکھر کو تعینات کردیا گیا۔پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد انہیں بھی ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری تعینات کیا گیا، لیکن وہ بھی کچھ عرصہ ہی گزار سکے۔ انہیں بھی تبدیل کر کے سینئربیوروکریٹ جواد رفیق ملک کو چیف سیکرٹری پنجاب بنایا گیا۔ لیکن چند ماہ بعد ہی ان کی کارکردگی سے بھی حکومت مطمعن نہ ہوئی اور اب ان کی جگہ کامران علی افضل کو تعینات کیاگیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اب کی طرح اس سے قبل بھی آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری اکھٹے تعینات کرکے انھیں پنجاب میں اپنے مرضی کے آفیسرزتعینات کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ بیوروکریسی گڈ گورننس کا باعث بن سکے،اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعلیٰ کے پاس چیف سیکرٹری اور صوبائی آئی جی کو تبدیل کرنے کا آئینی اور قانونی اختیار ہے اور وہ جب چاہیں انہیں بدل سکتے ہیں لیکن اداروں کے سربراہان کو بار بار تبدیل کرنے سے مورال ڈاؤن ہوا ہے۔

تبدیلیوں کے حوالے سے سینئر پولیس افسران اور بیوروکریٹ کا کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری یا آئی جی کی تبدیلی کا اختیار قانونی طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو حاصل ہے لیکن بار بار اس طرح اعلیٰ افسران اور ضلعی افسران کی بلاوجہ تبدیلی سے بیوروکریسی فرائض میں عدم دلچسپی کا شکار دیکھائی دیتی ہے۔ان کا کہنا ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک بار مکمل چھان بین کر کے اعلیٰ عہدوں پر افسران کو تعینات کر کے انہیں نظام کو سمجھنے اور بہتر کرنے کا موقع دیا جائے۔ جب کوئی افسر اپنی گرپ بناتا ہے تو اسے تبدیل کردیا جاتا ہے۔افسران کے بقول گذشتہ تین سالوں سے ہی حکومت اور بیوروکریسی میں آئیڈیل روابط دکھائی نہیں دیے جس کی وجہ سے عوام بھی مشکلات کا شکار ہیں،۔ صوبے میں امن و امان قائم رکھنے اور قانون کی بالادستی کیلئے اہم ترین عہدہ آئی جی پولیس کا ہوتا ہے، جبکہ لاہور میں سی سی پی او اور ڈی آئی جی آپریشنزکا ہے ان اہم عہدوں کے لئے را? محمد سردار علی خان اور فیاض احمد دیو اور ڈاکٹر عابدراجہ کا انتخاب درست معلوم ہوتا ہے۔انکی تعیناتی سے ہمیں امید ہے کہ پنجا ب اور لاہور میں امن وامان کی بحالی کا قبلہ درست ہو جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -