روپے کی قدر....بے قدری کے نرغے میں

روپے کی قدر....بے قدری کے نرغے میں
روپے کی قدر....بے قدری کے نرغے میں

  

نہایت بری بات منہ سے نکالنے سے قبل بھلے وقتوں میں ایک محاورے کی کلّی ضرور کر لی جاتی تھی۔ میرے منہ میں خاک، اس کے بعد پوری تسلی سے بری خبر مع اپنی جزئیات بیان کرنے کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ملکی معیشت کے چلن کافی عرصے سے چغلی کھا رہے تھے کہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ تجزیہ کاروں اور ماہرین کا خاصا بڑا گروہ معیشت کے ایک ایک قدم پر ”رننگ کمنٹری“ کرتے ہوئے پیشن گوئی کر رہا تھا کہ روپے ڈالر کی شرح مبادلہ گرتے گرتے اب سو روپے تک پہنچنے والی ہے۔پرانی قدریں منہدم ہونے کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ایسی بری فال نکالنے اور بار بار زبان پر لانے سے قبل ان ماہرین نے تکلفاً بھی اپنے منہ میں خاک کا عندیہ نہ دیا۔ مُلکی معیشت میں خاک کئی سالوں سے اڑ ہی رہی ہے۔ ہمیں ڈر تھا کہ یہ خاک ایک نہ ایک دن ہمارے سر میں ضرور آ کر رہے گی۔ سو وہ منحوس لمحہ آ ہی گیا۔ گزشتہ روز کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح مبادلہ سو روپے تک جا پہنچی۔ یہ نفسیاتی حد چند ماہ قبل ہی عبور ہو چکی ہوتی اگر اسی دوران اسٹیٹ بنک مسلسل کرنسی مارکیٹ میں مداخلت سے اسے باز نہ رکھتا۔تضادات سے بھرے ہمارے معاشرے اور ملک میں یہ واقعہ ہمارے تضادات کو بے نقاب کر رہا ہے۔ جس روز روپے کی بے قدری ایک ڈالر کے مقابلے میں سو روپے کی خاک چاٹ رہی تھی۔ عین اسی روز ہم 60کلو میٹر رینج کے حتف میزائل کا کامیاب تجربہ کر رہے تھے جس پر نیوکلیائی ہتھیار بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔ عین اسی روز ہم سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی آئینی یا غیر آئینی تشکیل کا قضیہ بھی طے کر رہے تھے ۔ روزمرہ کی زندگی میں ہُماشُما سے لیکر بڑے بڑے طُرم خان قانون کوچٹکیوں میں اڑا دینے میں یکتا ہیں۔ اسی ملک میں آئین کی مختلف شقوں سے ایسی ایسی بقراطی نکالی جا رہی ہے کہ عش عش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ ہم ایسا قانون پسند دنیا میں نہ ہو گا۔ لیکن دوسری طرف ایف بی آر دہائی دے رہا ہے کہ ٹیکس گذاروں کی شرح مزید کم ہو گئی ہے۔ تضادات کے اس کار زار میں روپے کی بے قدری ایک اور درجہ گر گئی۔جذبات سے لتھڑی تقاریر اور بیانات سنیں تو عالم ہی کچھ اور ہے اسلامی ملک جو جوہری طاقت ہے۔ جنوبی ایشیا اکا واحد ملک جس کی جیب میں علاقائی خطے کے امن کی چابی ہے۔ ہمیں بھارت کو سبق سکھانے کا کار خیر بھی جلد از جلد انجام دینا ہے اور افغانستان کے سیاسی و عسکری حل میں اپنی حیثیت اور مرضی منوانے میں بھی تاخیر گوارہ نہیں۔ بلکہ 2014ءمیں امریکی فوج کی روانگی کے بعد ہمیں اپنی حیثیت کے جھنڈے وسطی ایشیا میں بھی گاڑنے کا غم کھائے جا رہا ہے لیکن دوسری طرف حالت یہ ہے کہ اسٹیٹ بنک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہوتے ساڑھے آٹھ ارب ڈالر تک ر ہ گئے ہیں۔ یہ رقم گذشتہ سات ماہ کے دوران بیرون ملک سے وصول شدہ تر سیلات زر کے برابر ہے۔ زرمبادلہ کے یہ ذخائر (ترکیب اسی غلط فہمی میں ڈالتی ہے۔ زرمبادلہ کی نہ جانے کتنی بہتات ہے!) تین ماہ کی درآمدت کے لئے بھی ناکافی ہیں۔ معاشیات کی معمولی سی سوجھ بوجھ رکھنے والے بھی اس تضاد پر سربگریباں ہیں کہ زمانے میں پنپنے کے کیا یہی طور طریقے ہوتے ہیں ۔عالمی تجارت میں ایک دو سال کو چھوڑ کر پاکستان کو ہمیشہ تجارتی خسارے کا سامنا رہا ہے۔ بیرون ملک سے زرمبادلہ کی ترسیل کے باوجود ملکی ادائیگیوں میں خسارے کا ہمیشہ سامنا رہا ہے۔ سالہا سال سے بلکہ کئی دہائیوں سے یہی وطیرہ چلا آ رہا ہے کہ ہم اپنے وسائل بڑھانے سے پہلوتہی کرنے پر بضد چلے آئے ہیں۔ حکومت آمرانہ ہو یا یا جمہوری دور کی پی پی پی یا مسلم لیگ ن یا ق، ٹیکس گذاروں میں اضافے کے بھاری پتھر کو اٹھانے کی نیم دلانہ کوششیں ضرور ہوئیں لیکن فیصلہ کن مراحل سے احتیاط ہی برتی گئی۔ معیشت کا نصف سے زائد غیر دستاویزی ہے۔ معیشت کو دستاویزی دائرے میں لانے کی تمام کوششیں بیکار گئیں۔ معیشت سے زیادہ تجارتی حلقوں اور زرعی علاقوں کے زمینداروں کی ناراضگی کا خوف غالب رہا۔ ماضی قریب میں چند قابل ذکر کوششیں کی گئیں تو مخالف سیاسی جماعتیں مفاد پرستی سے باز نہ آئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملکی معیشت میں ٹیکس گذاری، دستاویزی طورا طوار اور اندرونی وسائل بڑھنے کا کلچر فروغ نہ پا سکا۔ دوسری جانب مالی خسارے کے لئے آئی ایم ایف کا بار بار سہارا لینا بھی مجبوری بنا رہا۔ منافقت اور تضاد کی حد ہے کہ اپنے معاشی طور طریقے بدلنے پر آمادہ بھی نہیں اور آئی ایم ایف کو بات بات پر رگیدنے سے گریزاں بھی نہیں۔ گزشتہ پانچ سال جس طرح گذرے سب کے سامنے ہیں۔ مفاہمت اور مفادات کی سیاست کا عروج بھی تھا مگر معیشت پر بھرپور توجہ دینے کا جذبہ اور مہارت بھی مفقود نظر آئی۔ پاکستان اسٹیل خسارے میں رہی۔ بھلی چنگی سینٹیاں بجاتی ریلوے اپنے شیڈ میں محدود ہو گئی۔ پی آئی اے فضا میں کم اور زمین بوس زیادہ ہے اور علیٰ ہذا القیاس بجلی اور گیس کی کمی نے ملکی معیشت کی کمر توڑ دی لیکن حکومت نے وزیر اور سیکریٹری تبدیل کرنے کے سوا عملی قدم سے گریز ہی کیا۔ گیس کے بحران میں ایک سے ایک مفاد سے بھرپور اسکینڈل اور بد انتظامی کا اسکینڈل سامنے آیا ہے لیکن فیصلہ کن نظامت کا فقدان ہی ہر جگہ نمایاں رہا۔ صوبائی حکومتوں نے بھی حسب توفیق غارت گری کے اس فیصلے میں اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ ضرور ڈالا ہے۔ شہباز شریف لاکھ میں نہیں مانتا کے ترانے گائیں پنجاب میں حالات میں سدھار کے ہزار موقعے ابھی باقی ہیں۔پانچ برس یونہی گذر گئے۔ روپے کی بے قدری 68سے گرتے گرتے 100روپے تک جا پہنچی ہے۔ اس سے قبل پرویز مشرف دور میں زرمبادلہ کی افراط کے باوجود پراپرٹی، اسٹاک ایکسچینج اور موبائل فون کی ترقی کو ہی ملک کی ترقی کا ترانہ بنا دیا گیا اور اب نئے انتخابات کا موقع ایک بار پھر آیا ہے۔ لیکن انتخابات سے پہلے ہی افواہوں، شکوک اور بے یقینی کا ایک طو مار در آیا ہے۔ آئین کی موشگافیاں گاجر مولیوں کی طرح چھیل چھیل کر نکالی جا رہی ہیں۔ ایسے میں معیشت کا کوئی دیوانہ ہی سوچے گا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی منڈل میں دیوانوں کا قحط الرجال ہے۔ البتہ وزارتوں کی بہتات ہے۔ طاہر القادری سے لے کر چودھری شجاعت حسین تک، الطاف حسین سے لے کر اسفند یار ولی تک، زرداری سے لے کر نواز شریف تک، سیاست یقیناً زندہ باد ہے۔ معیشت کو مردہ باد کہنے کی ضرورت ہی نہیں مکمل نہ سہی قریب المرگ تو ضرور ہے۔ ٭

مزید :

کالم -