کارگل اور تاریخ کی قبر

کارگل اور تاریخ کی قبر
کارگل اور تاریخ کی قبر

  


٭....جنرل (ر) شاہد عزیز کی کتاب سامنے آنے کے بعد کارگل پرکمیشن بنانے کی بحث چھڑ گئی ہے۔٭....لیکن کمشن بنانے کی کیا ضرورت ہے؟٭....ضرورت تو ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔٭....اصل حقائق سامنے آ بھی گئے تو ہمیں کیا فائدہ ہو گا؟٭....کم از کم دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی تو ہو جائے گا۔٭....اس سے کیا فرق پڑے گا؟٭....اس مہم جوئی کا ذمہ دار کون تھا، اس کا تعین ہو جائے گا٭....تعین ہو گیا تو کیا ہو گا؟٭....احتساب کرنے میں آسانی رہے گی۔٭....احتساب کون کرے گا؟٭....قوم کرے گی۔٭....قوم پہلے کتنے لوگوں کا احتساب کر سکی ہے؟٭....کیا مطلب؟٭....کیا کارگل کا واقعہ ....سقوط ڈھاکہ سے زیادہ سنگین ہے؟٭....ایسا تو نہیں کہا جا سکتا۔٭....سقوط ڈھاکہ کے بعد حمود الرحمٰن کمشن بنا تھا، اس کی رپورٹ کہاں گئی؟ کس کا احتساب ہوا۔٭....کئی دہائیوں تک تو رپورٹ ہی سامنے نہیں آئی پھر احتساب کیسے ہوتا۔٭....تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کارگل آپریشن پر جو کمشن بنے گا، اس کی رپورٹ سامنے آئے گی؟٭....اب حالات اور ہیں؟٭....جب ایبٹ آباد میں اسامہ پکڑا گیا تو کمشن بٹھا کر اس کی رپورٹ سامنے لانے کی بات کی گئی تھی، پھر میمو گیٹ پر کمشن بنا وہ بھی معمہ ہی ہے، بہت پہلے جب اوجڑی کیمپ کے سانحے پر کمشن بٹھانے کی بات ہوئی تو اس وقت بھی یہ کہا گیا تھا کہ اس کی رپورٹ جلد سامنے آئے گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بھی ہو گی مگر اس وقت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو ابھی اس کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ انہیں سندھڑی واپس بھیج دیا گیا۔٭....لیکن اب کمشن کا مطالبہ ایک ایسی پارٹی کر رہی ہے جو اس وقت برسر اقتدار تھی اور جس کے قائد پر الزام ہے کہ اس کی وجہ سے کارگل میں فوج کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔ کیا ان کے مطالبے کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟٭....آپ کا اشارہ غالباً مسلم لیگ ن اور محمد نواز شریف کی طرف ہے۔ سوال یہ ہے کہ انہوں نے بارہ سال تک زبان پر تالے کیوں لگائے رکھے۔ کیوں اتنا وقت گذار دیا کہ لوگ اب یہ کہتے ہیں کہ کارگل ایک گڑامردہ ہے ، جسے اکھاڑنے کی ضرورت نہیں۔٭....مگر اب تو کئی لوگ اس حوالے سے زبان کھول رہے ہیں۔ سوائے جنرل(ر) پرویز مشرف کے سبھی کا خیال ہے کہ اس کے اصل حقائق سامنے آنے چاہئیں۔٭....یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ ہمارے ہاں سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے کی روایت موجود ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت کی مثال دیکھئے۔ انہوں نے کارگل واقعہ پر فوراً ایک کمشن بٹھایا، ذمہ داروں کا تعین کیا اور انہیں سزا سنا دی، ہماری سیاسی حکومت اور جرنیل جب تک باہم شیرو شکر رہے، کارگل کو ایک قابل فخر معرکہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا، اب اچانک یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کارگل پر کمشن بننا چاہئے یا نہیں۔ برسوں بعد آخر ہمیں حقائق جاننے یا انہیں سامنے لانے کا دورہ کیوں پڑ جاتا ہے۔٭....مگر اس میں برائی کیا ہے؟٭....اس میں اچھائی بھی کوئی نہیں۔ آپ ترقی یافتہ اور جمہوری ممالک کو دیکھیں ۔ وہ آج کی بات کو آج ہی نمٹاتے ہیں۔ عراق پر حملے کے بارے میں امریکہ اور برطانیہ کے فیصلے پر ان کے انکوائری کمشن نے یہ رائے دی کہ دونوں ممالک نے ناقص انٹیلی جنس رپورٹوں پر عراق کو ہدف بنایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت بش اور ٹونی بلیئر ابھی اقتدار میں تھے کہ رپورٹ آ گئی ا ور دونوں نے اس رپورٹ کو تسلیم بھی کیا۔ ہم منیر نیازی کی نظم ”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں“ کے مصداق سیاسی مصلحتوں کے باعث چپ سادھے رکھتے ہیں اور زبان کھولتے بھی ہیں تو اس کا مقصد سیاسی یا مالی فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔٭....آپ کی باتوں سے لگتا ہے کہ آپ اس کا ذمہ دار سیاستدانوں کو قرار دے رہے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جس معاملے میں فوج بھی فریق ہو، اس میں کوئی سیاسی حکومت اپنے طور پر کمشن مقرر کر سکتی ہے۔ کیا ہمارے ہاں ایسے ججز موجود ہیں کہ جو آزادانہ طور پر ایسے کسی معاملے کی انکوائری کریں اور ذمہ داروں کا تعین بھی کر سکیں۔ میرے نزدیک تو ایسا سوچنا بھی حماقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کارگل بارے کمشن بنانے کی بحث مجھے ایک سیاسی سٹٹنٹ لگ رہی ہے جس کا مقصد انتخابی مہم میں فائدہ اٹھانا ہے۔٭....یہ ایک روایتی الزام ہے۔ حقائق جب بھی سامنے آئیں غنیمت ہے۔ آخر قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم بھی تو ہوتا ہے۔ قتل ثابت ہو جائے تو مقدمہ بھی درج کر لیا جاتا ہے۔٭....انسان اور تاریخ کی قبرمیں بہت فرق ہوتا ہے۔انسان کی قبر میں سوائے اس کے اور کوئی داخل نہیں ہو سکتا۔اس لئے قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم کے ذریعے حقائق معلوم کئے جا سکتے ہیں۔ مگر جب کوئی چیز تاریخ کی قبر میں اتار دی جاتی ہے تو حقائق بری طرح مسخ ہو جاتے ہیں۔ آج ہم کارگل کے حقائق جاننے کے لئے بحث میں الجھے ہوئے ہیں، جبکہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گذر چکا ہے۔ آج پاکستان اور بھارت دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں اور سرحد پار دہشت گردی کی باتیں خواب و خیال سمجھی جا رہی ہیں ایسے میں تاریخ کی قبر کھودنے سے پنڈورا بکس بھی کھل سکتا ہے۔٭....تو اس میں کیا حرج ہے، حقائق کو سامنے لانے کے لئے ایک بار تو پنڈورا بکس کھولنا ہی پڑے گا۔ ایک بار تو کڑوا گھونٹ پی ہی لینا چاہئے۔ تاکہ کوئی اچھی روایت قائم ہو سکے۔٭....تمہاری سوچ سقراط سے ملتی جلتی ہے۔ حالانکہ ہم سقراط بننے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ امریکی تھنک ٹینک ہمیں ناکام ریاست قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں ہم اگر کارگل کا پنڈورا بکس کھول کر یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ یہاں فوج اور حکومت کے درمیان سٹرٹیجک معاملات میں بھی اتفاق نہیں ہوتا اور راستے جدا ہوتے ہیں، تو وہ یہ بھی کہیں گے کہ ایسے میں پاکستان کے ایٹمی اثاثے بھی محفوظ نہیں۔٭....تو گویا مشہور زمانہ”قومی مفاد“ میں کارگل کے معاملے پر مٹی ڈال دی جائے۔٭....دانشمندی یہی ہے کیونکہ کل تک یہ بات شاید قومی مفاد میں نہ ہو مگر اب یہ تاریخی مفاد میں ہے کہ تاریخ کی اس قبر کا پوسٹ مارٹم نہ کیا جائے، کارگل کی قبر سے مٹی ہٹانے کی نہیں ڈالنے کی ضرورت ہے۔٭....اور ہمارا اجتماعی ضمیر٭....اسے نیند کی گولیاں دیکر سلائے رکھنا چاہئے، چند سال اور نکل جائیں اور پھر کارگل کی بجائے ہم کسی اور سانحے کو یاد کر رہے ہوں گے۔       

مزید : کالم