عالم ِ اسلام کی دوسری ایٹمی قوت

عالم ِ اسلام کی دوسری ایٹمی قوت

ایرانی مجلس (پارلیمینٹ) کے سپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے یہ انکشاف کر کے دُنیا کو حیران و ششدر اور اسرائیل جیسے ملکوں کو لرزہ براندام کر دیا ہے کہ ایران ایٹمی قوت ہے اور اگر کسی نے ایران پر حملے کی کوشش کی تو اُسے یہ حملہ مہنگا پڑے گا۔ ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لئے صرف ایٹمی اسلحہ کافی نہیں، اِس کے لئے دیگر عوامل بھی ضروری ہیں اور ہم ہر طرح ایران کی حفاظت کر سکتے ہیں، ہم صرف ایٹمی ہتھیار پر انحصار نہیں کر رہے، دوسرے دفاعی شعبوں میں بھی مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا اسرائیل میں اتنی جرا¿ت اور طاقت نہیں کہ وہ ایران پر حملہ کر سکے۔ اسرائیل چھوٹے سے گروپ سے شکست کھا چکا ہے، ایران اِس سے کہیں بڑا اور مضبوط ملک ہے۔ایران کی نیو کلیئر صلاحیت طویل عرصے سے مغرب کی نگاہ میں خار کی طرح کھٹکتی رہی ہے اور اب ایرانی مجلس کے سپیکر کا پاکستان کی سرزمین پر باقاعدہ یہ اعلان کر دینا کہ وہ ایٹمی قوت بن چکا ہے۔ مغرب کو پسند نہیں آئے گا،ایرانی رہنما نے اِس اعلان کے لئے پاکستان کی سرزمین کا انتخاب کیا جو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت کے اعزاز سے سرفراز و سربلند ہے۔ پاکستان نے جن حالات میں ایٹمی صلاحیت کا آپشن اختیار کیا وہ پاکستانیوں سے ڈھکے چھپے نہیں، پاکستانیوں کو اچھی طرح یاد ہے کہ بھارت1974ءمیں اِس راہ پر چل پڑا تھا، پھر اُس نے1998ءمیں ایٹمی دھماکے کرتے ہی پاکستان کو دھمکیوں کا جو سلسلہ شروع کر دیا تھا اور پاکستان کو خوفزدہ کرنے کے راستے پر چل پڑا تھا، اِس کا جواب ضروری تھا اور اِس جواب نے ہی بھارتی قیادت کو ہوش کے ناخن لینے پر مجبور کیا۔ایران کو پاکستان جیسے تو نہیں، لیکن مغربی ملکوں اور اِس کے پروردہ اسرائیل کے پیدا کردہ سلامتی کے خطرات کا سامنا ہے۔ مغربی ملکوں اور اسرائیل نے اپنی یہ خواہش کبھی نہیں چھپائی کہ وہ ایران کو کسی صورت ایٹمی طاقت نہیں بننے دیں گے، اسرائیل تو ایران پر حملے کے لئے بے قرار اور بے چین رہتا ہے، اس کا ہاتھ کسی نہ کسی طرح امریکہ نے روک رکھا ہے، کیونکہ سپر طاقت ہونے کے باوجود امریکہ ایران کی ہمسائیگی میں افغان سرزمین پر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اگرچہ امریکہ، افغانستان میں اپنی بعض کامیابیاں گنواتا رہتا ہے، لیکن افغانستان کے سنگلاخ پہاڑ گواہ ہیں کہ اُن کے ساتھ سرپٹخنا غیر ملکی افواج کے لئے کبھی آسان نہیں رہا اور امریکہ اِس سے کوئی استثنا نہیں رکھتا، امریکہ ایک عشرے سے زیادہ جاری رہنے والی جنگ میں افغانستان میں کچھ حاصل کر سکا یا نہیں، لیکن یہ اِسی جنگ کا اعجاز تھا کہ اُسے عراق اور افغانستان کے بعد تیسرے اسلامی ملک ایران پر حملے کی جرا¿ت نہیں ہو سکی، حالانکہ اسرائیل اِس کے لئے امریکہ کو انگیخت کرتا رہا، لیکن امریکہ نے بہرحال دانشمندی کی کہ عراق اور افغانستان کے بعد ایران کا محاذ نہیں کھولا۔ ایسا ہوتا تو دُنیا کا خرمن امن تباہ ہو گیاہوتا اور عین ممکن تھا کہ جنگ کی صورت میں آبنائے ہرمز بند ہو جاتی اور دُنیا کی معیشت کا پہیہ اگر رُک نہ گیا ہوتا تو سست ضرور ہو گیا ہوتا:امریکہ دُنیا کا وہ پہلا ملک ہے، جس نے نہ صرف خود ایٹم بم بنایا، بلکہ اس کو سب سے پہلے استعمال کرنے کا ”اعزاز“ بھی اس کے حصے میں آیا اور اُس نے جاپان کے دو شہر ....ہیرو شیما اور ناگا ساکی.... آن ِ واحد میں صفحہ ہستی سے مٹا دیئے، جاپان دُنیا کا پہلا (اور تاحال آخری)ملک ہے جو ایٹمی جارحیت کا نشانہ بن چکا ، دُنیا کے جو نام نہاد دانشور پاکستان اور ایران جیسے ملکوں کی ایٹمی صلاحیت کو ہدف ِ تنقید بلکہ ہدف ِ ملامت بناتے رہتے ہیں اور اب تک اُن کی زبانیں اِس سلسلے میں کترنی کی طرح چل رہی ہیں۔ اُن سے سوال ہے کہ اگر دوسری عالمی جنگ میں جاپان بھی ایٹمی قوت ہوتا تو کیا امریکہ اسی طرح اس پر بے حجابانہ نیو کلیئر حملہ کر کے لاکھوں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا؟ ایٹمی جارحیت میں یہ امریکہ کی پہل کاری ہی تھی جس نے باقی دُنیا کو بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا راستہ دکھایا اور ضرورت کا احساس دلایا یوں یکے بعد دیگرے چار دوسرے ملک بھی ایٹمی کلب میں شامل ہو گئے، تب امریکہ اور اس کے حامیوں نے محسوس کیا کہ بڑے پیمانے پر تباہ کاری کے اِس ہتھیار کے پھیلاﺅ کو روکنا چاہئے، کیونکہ اپنی سالمیت کے تحفظ کے لئے بہت سے ملک اس راہ پر چل نکلے تھے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کی راہ میں کیا کیا روڑے نہیں اٹکائے گئے، لیکن بھارتی جارحانہ رویئے کی وجہ سے پاکستان کو بالآخر ایٹمی دھماکے کرنے پڑے اور یوں اِس ایٹمی ڈیٹرنس نے جنوبی ایشیا کو جنگ سے محفوظ رکھا ہوا ہے، کیونکہ کمزوری جارحیت کو دعوت دیتی ہے، امریکہ اور جاپان یہ ثابت کر چکے ہیں۔ایران کے معاملے میں اسرائیل کا رویہ نہ صرف جارحانہ ہے، بلکہ ایران اور اسرائیل کے ماضی کے تعلقات کا منہ بھی چڑا رہا ہے۔ محمد رضا شاہ پہلوی کے دورِ شہنشاہیت میں ایران اور اسرائیل کے درمیان نہ صرف سفارتی تعلقات قائم تھے، بلکہ دونوں ملکوں میں گاڑھی چھنتی تھی، امریکہ بھی ایران پر مہربان تھا اور اسرائیل بھی، لیکن جب ایران کی انقلابی قیادت نے شاہ کا تختہ اُلٹ کر ایران کو اسلامی جمہوریہ بنایا تو امریکہ اور اسرائیل سمیت مغرب نے یک دم آنکھیں پھیر لیں اور انقلاب کو ناکام بنانے کے لئے تُل گئے، چونکہ مغرب کو ڈاکٹر محمد مصدق کے زمانے میں ایک کامیابی حاصل ہو چکی تھی، اِس لئے اُن کا خیال تھا کہ اب کی بار بھی ایسا کر لیں گے، لیکن امام خمینی ؒ کا انقلاب نہ صرف پائیدار ثابت ہوا، بلکہ اِس سارے عرصے میں وہ ایران میں اپنی جڑیں اتنی مضبوط کر چکا ہے کہ باوجود کوششوں کے دشمنان ِ ایران کو کامیابی نہیں ہو رہی ۔ ان حالات میں ایرانی قیادت اپنے ملک کا دفاع مضبوط بنانے کی طرف مائل ہوئی اور اس نے ایٹمی صلاحیت کے حصول پر بھرپور توجہ دی، دُنیا نے اِس کا راستہ روکا ، روکنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں، لیکن ایرانی قیادت استقامت کے ساتھ اِس راستہ پر چلتی رہی۔ ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای یہ فتویٰ دے چکے ہیں کہ ایران ایٹم بم نہیں بنائے گا، لیکن ایٹمی صلاحیت کا حصول اُس کا حق ہے جسے روکنے کا دُنیا کے کسی ملک کو اختیار نہیں، تمام تر عالمی دباﺅ کے باوجود ایران نے یورینیم کی افزودگی کا راستہ ترک نہیں کیا تھا اور اب ایران بالآخر اِس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اُس کے رہنما یہ اعلان کر رہے ہیں کہ وہ ایٹمی قوت بن چکا ہے۔ ایٹمی پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے دُنیا جو کوششیں کر رہی ہیں وہ اب تک اس لئے کامیاب نہیں ہو سکیں کہ اِس ضمن میں انصاف کا راستہ نہیں اپنایا گیا۔ اگر واقعتا ایٹمی پھیلاﺅ کو روکنا ہے تو امتیازی روئے ختم کر کے انصاف کا راستہ اختیار کیا جائے اور غیر ایٹمی ملکوں کا خوف ختم کیا جائے ورنہ پھیلاﺅ بڑھتا رہے گا اور کسی کو اس میں کامیابی نہ ہو سکے گی۔

مزید : اداریہ