20ہزار سے زائد رضا کار جنگجو شام کا رخ کررہے ہیں، امریکہ

20ہزار سے زائد رضا کار جنگجو شام کا رخ کررہے ہیں، امریکہ

واشنگٹن(آن لائن)امریکی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ بیس ہزار سے زیادہ رضاکار اسلامک اسٹیٹ یا دیگر انتہا پسند گروپوں میں شامل ہو نے کے لئے شا م کا رخ کر رہے ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، فرا نسیسی خبر رسا ں ادارے نے واشنگٹن سے اپنے ایک جائزے میں لکھا ہے کہ یہ اعداد و شمار انسدادِ دہشت گردی کے قومی امریکی سینٹر (NCTC)نے اپنے تازہ ترین اندازوں کی روشنی میں جاری کیے ہیں۔ اس سینٹر کا مزید کہنا ہے کہ دنیا کے نوّے ممالک سے رضاکار شام پہنچے ہیں، جن میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے بھی کم از کم تین ہزار چار سو رضاکار شامل ہیں۔ سینٹر کے مطابق ان میں سے بھی ایک سو پچاس سے زیادہ امریکی شہری ہیں۔این سی ٹی سی کے مطابق یہ تعداد جنوری میں لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ تب دنیا بھر سے شام کا رخ کرنے والے رضاکاروں کی تعداد کا اندازہ تقریباً اْنیس ہزار لگایا گیا تھا۔بڑی تعداد میں شام کا رخ کرنے والے غیر ملکی رضاکاروں میں خواتین بھی شامل ہیں۔این سی ٹی سی کے ڈائریکٹر نکولس راسموسن نے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ کوئی قطعی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں تاہم ’رجحانات واضح اور باعثِ تشویش‘ ہیں۔ اْنہوں نے یہ بیان کانگریس کی ایک سماعت کے لیے تیار کیا ہے،۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جس رفتار کے ساتھ اور جتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی رضاکار شام جا رہے ہیں، وہ گزشتہ بیس برسوں کے دوران اسی مقصد کے لیے افغانستان، پاکستان، عراق، یمن یا پھر صومالیہ جانے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔راسموسن کے مطابق یہ رضاکار ایک دوسرے سے مختلف پس منظر کے حامل ہیں اور انہیں کسی ایک خانے میں فِٹ نہیں کیا جا سکتا: ’’عراق اور شام میں جنگ کے میدانوں میں غیر ملکی جنگجوؤں کو لڑائی کے تجربے کے ساتھ ساتھ ہتھیار اور بارودی مواد استعمال کرنے کی تربیت ملتی ہے اور اْن کی ایسے دہشت گرد گروہوں تک رسائی ہوتی ہے، جو مغربی دنیا کو بھی نشانہ بنانے والے حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔مغربی دنیا میں، خاص طور پر پیرس میں جہادیوں کے حالیہ حملوں میں سترہ افراد کی ہلاکت کے بعد سے اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی ’جنگجوؤں‘ کے شام کا سفر اختیار کرنے پر سخت تشویش پائی جاتی ہے۔بتایا گیا ہے کہ کوبانی پر قبضے کے لیے ہونے والی لڑائی میں بڑی تعداد میں ’آئی ایس‘ کے لیے لڑنے والے غیر ملکی بھی مارے گئے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ترکی کی سرحد کے قریب واقع شامی شہر کوبانی پر قبضے کے لیے ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی میں جو جہادی مارے گئے، اْن میں غیر ملکیوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔راسموسن کے مطابق آئی ایس کے عسکریت پسند نئے رضاکار بھرتی کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کر رہے ہیں اور مختلف زبانوں میں اپیلیں جاری کر رہے ہیں۔ ویڈیو گیمز کے رسیا نوجوانوں کو مہم جوئی سے بھرپور زندگی کے خواب دکھائے جاتے ہیں اور اس طرح کے نعرے دیے جاتے ہیں کہ ’مرنا تو ایک ہی بار ہے تو پھر شہادت کی موت کیوں نہیں؟‘ایسے زیادہ تر نوجوان ترکی کے راستے شام پہنچ رہے ہیں کیونکہ ترکی نے یورپی یونین کے رکن ملکوں سمیت 69 حکومتوں کے ساتھ ایسے معاہدے کر رکھے ہیں، جن کے تحت اِن ملکوں کے شہری ویزے کے بغیر ترکی جا سکتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ترکی نے سفری پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان غیر ملکی ’جنگجوؤں‘ کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی کوششیں کی ہیں اور ایک فہرست جاری کی ہے، جس کے تحت تقریباً دس ہزار افراد کے ترکی کے سفر پر پابندی عائد ہے۔ راسموسن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تمام تر اقدامات اپنی جگہ، ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی کے لیے نوجوانوں میں پائی جانے والی ’کشش‘ کو کسی طرح سے ختم کیا جائے اور نوجوانوں کو اس طرح کی انتہا پسند تنظیموں میں شامل نہ ہونے کا قائل کیا جائے۔

مزید : عالمی منظر