اطالوی فیری کے کپتان قتلِ عام کے مرتکب، 16 برس قید

اطالوی فیری کے کپتان قتلِ عام کے مرتکب، 16 برس قید

 روم (آن لائن)2012ء میں حادثے کا شکار ہونے والے اٹلی کے تفریحی بحری جہاز کوسٹا کونکورڈیا کے کپتان فرینسسکو شیٹینو کو قتلِ عام کے الزام میں 16 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔جب یہ جہاز چٹانوں سے ٹکرا کر ڈوبا تو اس وقت کپتان فرینسسکو شیٹینو نے جہاز کا کنٹرول سنبھال رکھا تھا۔ان پر الزام ہے کہ وہ جہاز کو ساحل کے بہت قریب لے گئے تھے اور حادثے کا شکار ہونے کے بعد وہ مسافروں اور جہاز کے عملے کو چھوڑ کر وہاں سے نکل گئے۔کپتان فرینسسکو شیٹینو ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ جہاز کا حادثہ ایک اجتماعی ناکامی تھی اس لیے جہاز کا دیگر عملہ بھی اس واقعے کا اتنا ہی ذمہ دار ہے۔عدالت کے جج نے جب فیصلہ پڑھ کر سنایا تو اس وقت فرینسسکو شیٹینو عدالت میں موجود نہیں تھے۔فیصلے سے قبل 19 ماہ سے جاری اس سماعت کے دوران کپتان فرینسسکو شیٹینو جج سے کافی جذباتی اپیل کی۔فرینسسکو شیٹینو نے روتے ہوئے جج کو بتایا کے وہ تین برس سے میڈیا کے عتاب کا نشانہ بن رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’سچائی کا خیال نہ کرتے ہوئے سارا الزام مجھ پر ڈالا جا رہا ہے۔‘ حادثے کے بعد جہاز ٹکرانے کے فوراً بعد کپتان اور زمینی امدادی اہلکار کے بیچ ہونے والی بات چیت کی ایک مبینہ ریکارڈنگ بھی جاری کی گئی تھی۔اس ریکارڈنگ میں کوسٹ گارڈ عملے کے ایک شخص نے بار بار کپتان کو جہاز پر واپس جا کر امدادی کارروائیاں مکمل کرنے کی ہدایت کی جس کے جواب میں کپتان فرینسسکو شیٹینو نے تین امدادی کارکنوں کی موجودگی اور اندھیرے کی وجہ سے دیکھنے میں مشکلات کی وجوہات بتاتے ہوئے انکار کیا۔تفریحی سفر کے لیے استعمال ہونے والے اس بحری جہاز پر چار ہزار سے زائد افراد سوار تھے جن میں سے بیشتر حادثے کے بعد لائف بوٹس کی مدد سے یا تیر کر کنارے تک پہنچ گئے تھے۔

مزید : عالمی منظر