کچھ اور کیس بھی ہیں فوجی عدالتوں کیلئے۔۔۔!!

کچھ اور کیس بھی ہیں فوجی عدالتوں کیلئے۔۔۔!!
کچھ اور کیس بھی ہیں فوجی عدالتوں کیلئے۔۔۔!!

  

ہماری سڑکوں پر ٹریفک جتنی بے ترتیب ہے، اس کا کوئی شمار نہیں ! اوپر سے یہ کہ انہیں پوچھنے والا بھی کوئی نہیں، جو سڑک پر ہے اپنے آپ کو اس کا مالک سمجھتا ہے ۔۔۔کل ہی کا واقعہ سنیں دفتر جاتے ہوئے کینال روڈ پر ٹریفک کے ہجوم میں ہم نے دیکھا کہ بے ہنگم انداز میں چلتا ہوا ٹرک انڈر پاس سے گزرا ۔تو ایک لمحے کے لئے یوں لگا کہ یہ ٹرک انڈر پاس سے ٹکرا جائے گا، لیکن اردگرد والوں کی خوش قسمتی کہ ٹرک چند انچوں کے فاصلے سے انڈر پاس سے بچ کر گزر گیا۔انڈر پاس سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر کھڑے ایک پولیس اہلکار نے ٹرک کو روک لیا ۔ ہم نے دل ہی دل میں پولیس اہلکار کو خراج تحسین پیش کیا اور یہ خیال کیا کہ اب ٹرک والے کی خیر نہیں، کیونکہ جس لاپرواہی کا مظاہرہ اس نے کیا ہے ، قانون کے شکنجے سے بچ نہیں سکے گا۔ اسی صورت حال کو دیکھنے کے لئے ہم نے بھی اپنی گاڑی ٹرک کے پیچھے کھڑی کر دی ۔ اتر کر دیکھا تو پولیس والا ٹرک ڈرائیورسے کچھ پوچھ رہا تھا ۔ حیرانگی کی بات یہ تھی کہ ڈرائیور پولیس والے کی باتوں پر جواب دیتے ہوئے لاپرواہی سے مسکرائے جا رہا تھا ۔ہم نے جاتے ہی پولیس والے سے کہا کہ ’’تمہیں پتہ ہے یہ کون ہے‘‘ پولیس والا تھوڑا سا غصے میں آیا اور بولا مجھے تو نہیں پتہ آپ ہی بتا دیں ۔ہم نے فوری جواب دیا ۔ تمہیں نظر نہیں آ رہا کہ یہ دہشت گرد ہے ۔پولیس والے کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ کہنے لگا بظاہر تو مجھے ایسا نہیں لگ رہا۔ کیوں نہیں لگ رہا ہمیں تھوڑا سا غصہ آ گیا ۔تم نے دیکھا نہیں کہ اس ڈرائیور نے بغیر سوچے سمجھے اتنے بڑے ٹرک کو انڈر پاس کی طرف موڑ دیااور پھر ڈھٹائی کی انتہا کہ اس نے رفتار بھی کم نہیں کی اور پوری تیزرفتاری سے انڈر پاس سے گزرا ۔

یہ تو خوش قسمتی رہی کہ چند انچوں کے فاصلے سے یہ گزر گیا، اگر یہ انڈر پاس کی چھت سے ٹکرا جاتا ‘ تو کم از کم دس گاڑیاں حادثے کا شکار ہوتیں ۔کتنا جانی اور مالی نقصان ہوتا ۔ایک ایسا شخص جس نے جان بوجھ کر لوگوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈال دیا ۔وہ دہشت گرد نہیں ہے تو کیا محب وطن ہے؟تم نے اس کوگولی سے کیوں نہیں اڑایا ؟ تم ایکشن میں کیوں نہیں آئے ؟ اسے گرفتار کرو اور اس پر وہ دفعات لگاؤ ،جس کے تحت اس کا مقدمہ بھی فوجی عدالت میں چلایا جائے ، اس صورت حال میں جہاں ڈرائیور ہمیں گھور رہا تھا، وہیں پولیس والا بھی آئیں بائیں شائیں کرنے لگا ۔اتنے میں دوسری طرف سے مرغیوں سے لدی ہوئی ویگن برق رفتاری سے گزر گئی ۔لگ رہا تھا کہ جیسے یہ مرغیاں بھارت پر حملہ کرنے جا رہی ہیں ۔ اس ساری صورت حال سے الجھے ہوئے ہم نے اپنا راستہ پکڑا او روہاں سے چل دےئے ۔کوئی دس منٹ بعد ہم چوتھے انڈر پاس پر پہنچے ہی تھے کہ مرغیوں کی اس ویگن کو نہر میں لڑھکتے پایا ۔کوئی سو سے زیادہ مرغیاں سڑک پر مری پڑی تھیں ۔اور ویگن والا ۔۔۔ایک پولیس اہلکار کے ساتھ کھڑا کسی کو فون کر رہا تھا ۔ہم سے رہا نہ گیااورگاڑی پھرروک لی اور پولیس والے کے پاس جاکر کہا کہ تم نے اس ڈرائیور کو گرفتار کیوں نہیں کیا ۔ ۔۔۔صدقے جائیں ۔۔۔پولیس والے کی معصومیت کے کہنے لگا ایک تو اس بچارے کا نقصان ہو گیا ہے، اوپر سے اسے گرفتار بھی کر لوں ۔کتنی شرمناک سوچ ہے تمہاری ۔۔۔! تم دیکھ نہیں رہے، اس شخص نے جان بوجھ کر گاڑی اتنی خطرناک انداز میں چلائی کہ جس کے الٹنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا ۔اس کی وجہ سے اتنے معصوم پرندے موت کی آغوش میں چلے گے۔یہ دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے ۔۔!! اسے گرفتار کرو اور اس کو بھی فوجی عدالت سے فوری سزا دلواؤ ۔ ہمیں معلوم ہے کہ پولیس اہلکار ۔۔۔اس کی قطعا پروا نہیں کی ۔۔۔لیکن ہم اپنے دل کی بھڑاس نکال کر چلتے بنے ۔

دیکھا جائے اس طرح کے واقعات روزانہ ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں، جن کے ذمے داراں کو واقعی فوجی عدالتوں میں پیش کرنا چاہئیے ،جو لوگ کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرتے ہیں ان کے کیسز بھی فوجی عدالتوں کو سننے چاہئیں ۔مہنگے ٹیسٹ اور ڈاکٹروں کی بھاری فیں دینے کے بعد جن کو جعلی دوائیں ملتی ہیں ان جعلی دوائیں بنانے والوں کو بھی فوجی عدالتوں کے کٹہرے میں لانا چاہئیے ۔قبضہ گروپ جو یتیموں غریبوں اور کمزوروں کی جائیداد ہڑپ کرجاتے ہیں اور پھر سول عدالتوں میں اپنی دولت کے بل بوتے پر ان کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں ۔ان کیسز کا فیصلہ بھی فوجی عدالتوں کو کرنا چاہئیے ۔قوم آج کل دہشت گردوں سے جنگ لڑ رہی ہے ۔ عسکری اور سیاسی قیادت متحد ہے ۔جہاں ہمیں دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑنی ہے اور انہیں فوجی عدالتوں سے سزا دلوانی ہے اسی طرح ایسے لوگ جو جان بوجھ کر معصوم جانوں کے لئے خطرہ ہیں، انہیں بھی انہی خصوصی عدالتوں کے سامنے کھڑا کرنا چاہئیے کیونکہ انصاف وہ ہے جو نظر آئے۔ اگر پارلیمنٹ سمجھتی ہے کہ فوری انصاف کا ذریعہ فوجی عدالتوں سے بہتر نہیں ۔۔! تو کچھ اور کیسز بھی ہیں جو فوجی عدالتوں میں جانے چاہئیں ۔

مزید :

کالم -