جسٹس ڈاکٹر سید نسیم حسن شاہ کی یاد میں

جسٹس ڈاکٹر سید نسیم حسن شاہ کی یاد میں
جسٹس ڈاکٹر سید نسیم حسن شاہ کی یاد میں

  

میں نے اکتوبر 1947ء میں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں داخلہ لیا۔قیام پاکستان کے بعد داخلوں کا یہ پہلا سال تھا۔ چونکہ ہندو اور سکھ بھارت چلے گئے تھے اس لئے صرف 25طالب علم ہی داخل ہوئے۔ انہی میں سید نسیم حسن شاہ بھی تھے۔ کچھ دنوں کے بعد ہمارے دوستوں نے مہم چلائی کہ لاء کالج کا ایل ایل بی کا کورس تین سال کے بجائے دو سال کر دیا جائے۔ اگرچہ مَیں شروع میں اس مطالبے کے حق میں نہیں تھا اور سمجھتا تھا کہ اس سے وکالت کرنے والوں کی قابلیت اور استعداد میں فرق پڑ جائے گا۔ لیکن جب حکمران جماعت مسلم لیگ نے اس معاملے کو سیاسی رنگ دیا اور کہنا شروع کیا کہ حصول آزادی کے بعد طالبعلموں کو صرف کتابوں سے غرض رکھنی چاہیے کسی سیاسی مہم جوئی میں نہیں پڑنا چاہئے تو میں بھی مذکورہ بالا مطالبے کے حق میں کھڑا ہوگیا۔

سال کے اختتام پر جب ہم پی ای ایل (Preliminary Examination in Law)کا امتحان دے رہے تھے تو پرنسپل لاء کالج پروفیسر عبدالقیوم نے خوشخبری سنائی کہ آپ لوگوں کی مہم کامیاب ہوگئی ہے اور کورس تین کے بجائے دوسال کردیا گیا ہے۔ تم میں سے وہ جو پی ای ایل کا امتحان دے رہے ہیں، انہیں رعایت دی گئی ہے کہ اگر وہ ایف ای ایل اور ایل ایل بی کے امتحانات اکٹھے دینا چاہیں تو ان کو بھی یہ رعایت مل جائے گی۔

داخلے کے دوسال بعد امتحان ہوا تو شاہ صاحب اور میں اچھے نمبروں میں پاس ہوگئے، البتہ شاہ صاحب کے مجھ سے چار نمبر زیادہ تھے۔ جب میری شادی ہوئی تو وہ میری بارات کے ساتھ ساہیوال کے نزدیک یوسف بنگلہ گئے تھے۔ خود ان کی بارات افغانی روڈ (لاہور) گئی تھی جہاں ان کے سسرال والے رہائش پذیر تھے۔ ہم سب کلاس فیلوز ان کی بارات میں شامل تھے۔ دوستوں نے ان سے ازراہ تفنن کہا تھا، شاہ جی آپ کی شادی تو ہم نے کرادی، بیوی کو بسانا اب آپ کا کام ہے۔ شگفتہ مزاج آدمی تھے، طنزو مزاح کا لطف اٹھاتے تھے۔

جب وہ ہائی کورٹ کے جج بنے تو میں نے سیوریج ٹیکس کے خلاف ایک رٹ دائر کی جس کی سماعت دوججوں کے بینچ نے کرنی تھی۔ ان دو میں ایک شاہ صاحب تھے۔ انہوں نے مجھے کہا، چونکہ آپ نے ذاتی طورپر میرے گھر پر اس مسئلے پر بات کی تھی، اس لئے میں اس کیس کی سماعت سے معذرت کرتا ہوں۔ اتفاق سے اسی بینچ کے روبرو جماعت اسلامی کے لیبر لیڈر عبدالمجید قریشی پیش ہوئے وہ خود مذکورہ بینچ کے سامنے کیس کے ضمن میں دلائل دے رہے تھے۔ وہ مقدمہ ایک آٹے کی چکی کے مالک کے خلاف تھا جس کے پٹے میں آکر ایک مزدور ہلاک ہوگیا تھا۔ عدالت کے دونوں جج حیران تھے کہ ایک مولوی کتنی روانی اور مہارت کے ساتھ انگریزی زبان میں دلائل دے رہا تھا۔ عبدالمجید قریشی مطالبہ کررہے تھے کہ متوفی کے لواحقین کو ایک سو مہرے اونٹ (سواری والا اونٹ) کی صورت میں معاوضہ ادا کیا جائے،یا اس کی قیمت دے دی جائے، حضور اکرم ؐ کے فیصلے کی روسے شریعت کا قانون یہی ہے۔ چکی کا مالک دفعتاً ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوگیا، کہنے لگا میری جج حضرات سے درخواست ہے کہ قریشی صاحب مرحوم کے لواحقین کو میری چکی مع کوٹھے دے دیں اور مجھے چھوڑ دیں۔

ایل ایل بی فائنل میں ہمارے کلاس فیلوز میں دوقسم کے طالبعلم تھے : ایک وہ جو PELاور FELکرکے آئے تھے اور دوسرے وہ جو پی ای ایل سے ڈائریکٹ ایل ایل بی میں پہنچ گئے۔ لاء کالج کی تعلیم کے دوران ہی میرے نسیم حسن شاہ صاحب سے دوستانہ تعلقات قائم ہوگئے تھے۔ وہ بڑے محنتی آدمی تھے۔ ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ ان کے والد سید محسن شاہ اور چچا جو ریلوے میں انجینئر تھے وہ بھی مجھ سے محبت و شفقت رکھتے تھے۔ میں اکثر ان کے ہاں ہی بیٹھ کر مطالعہ وغیرہ کرتا تھا۔ محسن شاہ صاحب لاہور کی معروف شخصیت تھے۔ وہ علامہ اقبال کے دوستوں میں سے تھے۔ میں چونکہ تاریخ کے مطالعہ کا عادی تھا اس لئے مجھے اس واقعہ سے کامل آگاہی حاصل تھی کہ 1936ء میں بادشاہی مسجد لاہور کی مرمت کے سلسلے میں محسن شاہ صاحب نے انجمن اسلامیہ کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ تحریک چلائی اور وزیراعظم پنجاب سردار سکندر حیات نے مسجد کی حالت بہتر کرنے کے لئے ایک خاص قانون منظور کرایا جس کا نام ’’بادشاہی ماسک فنڈ سیس (CESS)تھا اس کے تحت مسلمان زمینداروں سے لگان وصول کرتے ہوئے ایک پیسہ فی روپیہ وصول کیا جاتا تھا۔

ایک دفعہ ان سے ڈاکٹر اختر خاں پرنسپل کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے بیٹے کے ولیمے میں ملاقات ہوئی۔ وہ اپنی نشست چھوڑ کر میرے پاس آبیٹھے ۔ کہنے لگے آپ سیاستدان یہ چاہتے ہیں کہ آپ کی تمام سیاسی لڑائی بھی ہم اعلیٰ عدالتوں کے جج ہی لڑیں؟ میں نے جواب میں کہا : کرم الٰہی چوہان صاحب کو بھی ادھر بلالیں پھر میں آپ سے بات کرتا ہوں۔ چنانچہ چوہان صاحب بھی ہمارے قریب ہی آبیٹھے۔ میں نے کہا شاہ صاحب !اگر کوئی قسمت کا مارا آپ کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا ہی بیٹھے اور آپ اس سے تحصیلدار کی عدالت کا سا سلوک کریں تو کیا اس سے بہتر نہیں کہ آپ ججی چھوڑ کر وکالت شروع کردیں۔ میری اس بات کا پس منظر کچھ اس طرح تھا کہ حمزہ ایم اے اور علامہ احسان الٰہی ظہیر نے بہاولپور کے ایک جلسہ سے خطاب کیا۔ اس زمانے میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے گورنر غلام مصطفی کھر کے بارے میں کہا تھا کہ وہ سوہنا منڈا ہے۔ جناب حمزہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ سوہنا منڈا تو ہے مگر جیسے ایک گھوڑا خوبصورت تو ہو لیکن جب اس پر سواری کریں تو وہ دولتیاں جھاڑنے لگے۔ سی آئی ڈی والوں نے رپورٹ میں منڈے کے لفظ کو ’لونڈے‘ میں تبدیل کردیا اور دونوں مقررین کے خلاف بہاولپور میں مقدمہ درج ہوگیا۔ ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے جناب جسٹس کرم الٰہی چوہان کی عدالت میں درخواست دی گئی۔ چوہان صاحب اس وقت بہاولپور بنچ کے سربراہ تھے۔ درخواست جب ان کے سامنے پیش ہوئی تو انہوں نے فیصلہ تحریر کرتے ہوئے ضمانت کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی کہ ملزموں نے پورنوگرافک لینگویج (فحش زبان ) استعمال کی ہے۔ میں نے دونوں جج دوستوں سے کہا کہ اگر ہائی کورٹ کا کوئی جج ضمانت کی درخواست پر یہ فیصلہ صادر فرمادے کہ ملزموں نے فحش زبان برتی ہے تو کونسا مجسٹریٹ اتنی جرأت کرے گا کہ اصل مقدمہ کی سماعت کے وقت ہائی کورٹ کے جج کے ریمارکس کو رد کرتے ہوئے ملزموں سے انصاف کرسکے ۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں ایم انور بارایٹ لاء نے پٹیشن دائر کی جس پر فاضل جج جناب سجاد احمد جان اور ان کے دوسرے ساتھی نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہBail Granted provided They give undertaking that they will not repeat the utterances!\' ایم انور بارایٹ لاء نے دلائل دیتے ہوئے میر کا شعر کوٹ کیا اور کہا ’لونڈا‘ کا لفظ تو ہمارے ادب کا حصہ ہے :

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

میں نے کہا، آپ فرمائیں کہ کیا اس فیصلے کا بھی یہی مفہوم نہیں ہے کہ ملزموں سے کوئی جرم صادر ہوا ہے؟اتنے میں بھانڈ آگئے ۔ میں نے کہا، میرا معاملہ ان سے طے ہے کہ میں انہیں 50روپے دوں گا اور وہ ٹھٹھول سے باز رہیں گے۔ (وہ بھانڈ دراصل سمن آباد کے تھے اور مجھے جانتے تھے، اس وقت میں یونین کمیٹی کا چیئرمین ہوتا تھا) شاہ صاحب کہنے لگے، رانا صاحب !یہ کمبخت مجھ سے پیسے لے کر بھی مجھے نہیں بخشتے !میں نے ان بھانڈوں کو بلایا اور کہا، جو لینا ہے مجھ سے لے لو مگر شاہ صاحب سے بدتمیزی نہیں کرنی۔

جب میرے داماد نے اپنے ایک دوست کے اشتراک سے لبرٹی مارکیٹ کی ایک بغلی گلی میں کمپیوٹر کالج کھولا تو میں نے اس کی افتتاحی تقریب میں انہیں بطور مہمان خصوصی تشریف لانے کی درخواست کی تو انہوں نے بڑی خوشی کے ساتھ آنے کا وعدہ فرمایا۔ چنانچہ وہ اس تقریب میں تشریف لائے اور میں نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں ان کا تعارف کراتے ہوئے لاء کالج کے زمانۂ طالب علمی کو یاد کیا اور یہ فارسی شعر پڑھا:

ماومجنوں ہم سبق بودیم دردیوان عشق

اوبہ صحرا رفت ومادر کوچہ ہا رسواشدیم

شاہ صاحب نے میرے انتخاب شعر پر بہت داد دی۔ اس دل افروز محفل کی یاد میرے دل پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نقش ہوچکی ہے۔ اب وہ اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں تو گردوپیش میں ان جیسی خوبیوں والا کوئی دوسرا نظر نہیں آتا، بلاشبہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے !اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے !آمین!

مزید : کالم