شیڈو وزیراعظم

شیڈو وزیراعظم
شیڈو وزیراعظم

  


پاکستانی سیاست میں گورنر پنجاب بن کے ابھرنے والے چودھری محمد سرور اب تحریک انصاف میں سے ’’وزیراعظم‘‘ بن کے ابھرے ہیں۔ تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر انہوں نے بہت اچھی تقریر کی۔ تحریک انصاف نے بھی ان کی شمولیت کے موقع پر زبردست اہتمام کیا، تحریک کی نمایاں قیادت کے ساتھ ساتھ کے پی کے، کے وزیراعلیٰ ،تمام ممبران پارلیمنٹ اور دیگر کارکنان کی بہت بڑی تعداد یہاں موجود تھی، گویا چودھری غلام سرور کے لئے وزیراعظم کا ’’پروٹوکول‘‘ موجود تھا۔ چودھری محمد سرور نے اپنی تقریر میں تحریک انصاف کو منظم کرنے اور اسے ایک منفرد سیاسی جماعت بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وہ تحریک انصاف کو پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کی روایتی سیاست سے مختلف کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ’’شیڈو‘‘ کابینہ کے تصور پر بھی یقین رکھتے ہیں اور پارٹی قیادت نے بھی انہیں یہی فریضہ سونپا ہے، گویا وہ اب تحریک انصاف کی ’’شیڈو‘‘ کابینہ کے ’’وزیراعظم‘‘ ہیں۔ باقی وزراء کون ہوں گے؟ اس کے لئے کچھ دن انتظار کرنا پڑے گا۔ چودھری محمد سرور نے تحریک انصاف کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اپنی شمولیت کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے جب گورنر کا عہدہ چھوڑا تو ایئرپورٹ پر جاتے ہوئے ہر ایک شخص نے انہیں تحریک انصاف میں شامل ہونے کا مشورہ دیا۔ چودھری محمد سرور کے خطاب کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ عوامی رائے کا احترام کرتے ہیں، مگر اس خطاب کے دوران انہیں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ جب وہ گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے لئے لندن کی شہریت چھوڑنے والے تھے اور پھر جب وہ گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے لئے واپس پاکستان آ رہے تھے تو کیا انہیں کسی نے نہیں کہا تھا کہ آپ غلطی کررہے ہیں؟ میرے خیال میں انہیں اس وقت بھی بہت سے لوگوں نے کہا ہوگا کہ آپ کا فیصلہ بہت اچھا ہے۔ گورنر کا عہدہ سنبھالنے پر ہماری مبارکباد قبول فرما لیجئے۔

گو کہ اپنی تقریر میں انہوں نے نوازشریف پر تنقید نہیں کی، مگر جب وہ ’’نظام‘‘ کی بات کرتے ہیں تو دراصل نوازشریف کی ہی بات کرتے ہیں، گویا انہوں نے نوازشریف کا نام ’’نظام‘‘ رکھ دیا ہے، انہیں نوازشریف یا نظام کے ساتھ اختلاف تھا، انہیں ان کے ’’طرزحکمرانی‘‘ پر بھی اعتراض ہے، ان کے اس اعتراض پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے، مگر سوال یہ ہے کہ وہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان،کامیاب تاجر بھی ہیں، کیا گزشتہ 16سال سے وہ نوازشریف کے ’’طرز حکمرانی‘‘ کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں؟ کیا وہ نوازشریف اور ان کی ’’طرز حکمرانی‘‘ سے آگاہ نہیں تھے؟ میرے خیال میں چودھری محمد سرور اتنے بچے نہیں ہیں اور نہ ہی اتنے بھولے ہیں کہ وہ پاکستان کے سیاستدانوں، پاکستان کے نظام سے یہاں کے حالات سے بے خبر ہوں، انہیں پاکستان کے حالات، مسائل، سیاستدانوں کی سوچ، یہاں کی بیورو کریسی کے ہتھکنڈے سب کے بارے میں علم ہے اور یہ سب مسائل پرویز مشرف اور یوسف رضا گیلانی کے ادوار میں بھی موجود تھے، جنرل ضیاء الحق اور اس سے پہلے ایوب خان، الغرض گزشتہ 66سال سے وہ تمام مسائل موجود ہیں، جن پر چودھری محمد سرور خفا نظر آتے ہیں۔ حالات کی یہ تصویر صرف پنجاب تک محدود نہیں ہے، بلوچستان، سندھ اور کے پی کے جہاں اب ان کی اپنی حکومت ہے، وہاں بھی ’’آوے کا آوا‘‘بگڑا ہوا ہے، مگر یہاں ایک ’’حقیقت‘‘ یہ بھی ہے کہ خود چودھری محمد سرور چونکہ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے ذاتی مفاد اور دوستوں کے مفادات ان کے آبائی شہر سے وابستہ ہیں۔ سو انہیں صرف اپنی اور اپنے دوستوں کے مفادات کا تحفظ چاہیے تھا، بدقسمتی سے وہ اپنے دوستوں کے معیار پر پورے نہیں اترے اور پھر دوستوں کے اصرار پر ہی مستعفی ہو گئے ہیں۔

گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ چودھری محمد سرور اگر خلوص نیت کے ساتھ نظام تبدیل کرنا چاہتے تو اس کے لئے انہیں ’’الطاف حسین‘‘ یا پھر ’’طاہرالقادری‘‘ کے سہارے کی ضرورت نہیں تھی، وہ وزیراعظم نوازشریف یا پھر شہباز شریف کے ساتھ نظام کی تبدیلی کی بات کرتے، وہ جو کچھ تحریک انصاف کے اندر کرنا چاہتے ہیں، وہی کچھ مسلم لیگ (ن) کے ذریعے بھی کر سکتے تھے، وہ نوازشریف یا شہباز شریف کو عوامی بھلائی کے کاموں کی طرف بھی لگا سکتے تھے (اگر چودھری محمد سرور کا خیال ہے کہ نوازشریف اور شہباز شریف عوامی مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں لیتے تو) مگر انہوں نے حکومتی سطح پر کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھایا کہ جس کے بارے میں کہا جائے کہ انہوں نے نظام کو بدلنے کے لئے کوئی عملی کوشش کی ہے اور پھر وہ گورنر پنجاب تھے، اگر ان کے علاقے میں قبضہ گروپ ان کی اور ان کے دوستوں کی جائیدادوں پر قبضہ کررہے تھے تو وہ حکومتی سطح پر اپنا کردار ادا کر سکتے تھے ،مگر وہ تو پریس کانفرنس کرکے اپنا ’’دکھڑا‘‘ بیان کر دیا کرتے تھے اور جن سے وہ اپنا ’’دکھڑا‘‘ بیان کرتے تھے، آگے سے وہ اپنا ’’دکھڑا‘‘ سنا دیتے تھے، یوں بات آ گئی ہو جاتی تھی۔

بہرحال اب وہ ہر طرح کی ’’بندش‘‘ سے آزاد ہیں، عمران خان جیسی مخلص اور باکردار شخصیت کے ساتھ انہوں نے اپنا سیاسی رشتہ قائم کر لیا ہے۔ یقینی طور پر عمران خان بھی ان کی تحریک انصاف میں شمولیت پر خوش ہوں گے، عمران خان نے بھی اپنی تقریر میں چودھری محمد سرور کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چودھری محمد سرور کو برسوں سے جانتے ہیں، گویا نوازشریف کی طرح عمران خان بھی چودھری محمد سرور کے لئے اجنبی نہیں ہیں، سو اس حوالے سے تو چودھری محمد سرور ایک بار پھر غلطی کررہے ہیں کہ وہ ایک ’’جانے پہچانے‘‘ شخص کی سیاست کے اسیر ہو گئے ہیں، مگر اس بار چودھری محمد سرور کو بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا، کیونکہ وہ تحریک انصاف کی ’’شیڈو‘‘ کابینہ کے ’’ہیڈ‘‘ ہیں اور اگر انہوں نے ایک بار پھر ’’نظام‘‘ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تو اب معاملہ نواز شریف کے ساتھ نہیں عمران خان کے ساتھ ہے اور عمران خان تو ’’لندن‘‘ تک چلے جاتے ہیں۔ وہ جس کسی کے ساتھ محبت کرتے ہیں، اس سے دگنی شدت کے ساتھ نفرت بھی کر دکھاتے ہیں۔ چودھری محمد سرور کو اب بہت احتیاط کے ساتھ اپنی سیاست کو آگے بڑھانے کا مشورہ حاضر ہے۔

اپنے گزشتہ روز کے خطاب میں بھی چودھری محمد سرور بہت مدبر نظر آئے، ان کی تقریر سن کر مجھے ایسا لگا کہ اب تحریک انصاف کا کچھ نہ کچھ بن جائے گا، چودھری محمد سرور کا انداز خطاب بالکل ’’شیڈو‘‘ وزیراعظم کی طرح تھا، سو تحریک انصاف میں اب ایک ایسے شخص کا اضافہ ہو گیا ہے ،جو اپنی تقریر سے متاثر ضرور کرتا ہے، چاہے دس پندرہ منٹ کے لئے ہی کرے، گو کہ شاہ محمود قریشی بھی بہت اچھی تقریر کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ایک تو وہ بہت لمبی تقریر کرتے ہیں، دوسرا ان کے لب و لہجے اور چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ دل سے نہیں صرف زبان سے ’’کلمہ حق‘‘ ادا کررہے ہیں، رہ گئے پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین تو اوّل تو وہ تقریر نہیں کرتے، کیونکہ انہیں ہروقت اپنے قائد کے زیر استعمال ہیلی کاپٹر کے ایندھن اور ریپئرنگ کی پڑی رہتی ہے۔ سو ان کی تقریر بھی ’’خانہ پُری‘‘ ہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ شیخ رشید اچھے مقرر ہیں، مگر عمران خان کے لئے اپنی ہر تقریر میں کوئی نہ کوئی مصیبت ضرور کھڑی کر دیتے ہیں، اب چودھری محمد سرور کی آمد گویا ایک اچھے مقرر کی آمد ہے۔ میرا خیال ہے کہ چودھری محمد سرور کو چاہیے کہ وہ پہلی فرصت میں ’’لندن‘‘ جائیں۔ وہاں اپنے زبان و بیان کے زور پر الطاف بھائی کا کوئی ’’بندوبست‘‘ ضرور کریں، کیونکہ عمران خان نے گِلہ کیا ہے کہ نوازشریف کو چاہیے تھا کہ وہ برطانیہ کے وزیراعظم کو بتاتے کہ الطاف حسین دہشت گرد ہے، مگر نوازشریف نے ایسا کچھ نہیں کیا، میرے خیال میں عمران خان کے اس مطالبے کو چودھری محمد سرور بہت اچھے طریقے سے پیش کر سکتے ہیں۔ ان کی تو لندن میں ’’پُہنچ‘‘ ہی بڑی ہے۔ کیا چودھری محمد سرور اپنے قائد کے اس مشن میں ان کی مدد کرنے پر آمادہ ہیں، چلو وہ وزیراعظم نہ سہی، شیڈو وزیراعظم تو ہے نا!

مزید : کالم