تقاضے

تقاضے
تقاضے

  


دور بدل گیا تو دور کے تقاضے بھی بدل گئے۔ روحِ عصر پُرانے جسم میں کیسے سمائی لے۔ میاں محمد نواز شریف اگر سیاست کر رہے تو ٹھیک ہے، مگر وہ اس سے کوئی جوہری بدلاؤ چاہتے ہیں ،تو آخری تجزیئے میں یہ راستہ اُن کی چھوی کو مزید خراب کرے گا۔۔۔روایت ہے کہ حضرت داؤد ؑ رات کو بھیس بدل کر گشت کے لئے نکلتے تاکہ کوئی پہچان نہ سکے۔ دوسروں کے بارے میں ہی نہیں وہ اپنے بارے میں بھی سوال کرتے۔ تاکہ جان سکیں کہ خلق خدا غائبانے میں اُنہیں کس طرح یاد کرتی ہے۔ میاں محمد نواز شریف کو شاید اس کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ عوام سے خود اپنے بارے میں جانیں۔ کائنات کی آنکھ نے اب تک کسی آدمی کو خلیف�ۂ ثانی حضرت عمر فاروق ؓ سے زیادہ تقویٰ، اُوالعزمی اور عدل میں ثابت قدم نہیں پایا۔دنیا اُن کے خوف سے کانپتی تھی جن کے پاس حکومت کے لئے دُرّے کے علاوہ کوئی دوسرا ہتھیار نہ تھا۔ قیصر روم کے ایلچی کو وہ دھوپ میں گرم ریت پر سوئے ہوئے ملے تھے۔ وہی دُرّہ اُن کے سرہانے تھا اور بہتے پسینے سے زمین تر تھی۔یہی حضرت عمرؓ رات کو شہر کی خود چوکیداری فرماتے۔ تاکہ خرابیوں کا خود مشاہدہ اور فوراًاس کا تدراک بھی فرما سکیں۔ بعد کے خلفاء بھی عوام سے بے خبر نہ رہتے تھے۔ خرابیاں در آئیں تھیں،مگر اموی عہد میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں، جب حکمران عوام کے احوال سے آگہی کے لئے راتوں کو بھیس بدل لیتے۔ اب ہمارے حکمران کو یہی شوق بہ اندازِ دگر چرایا ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے اتوار کے روز جی ٹین اور آبپارہ مارکیٹوں کا رُخ کیا اور عام آدمیوں کے بظاہر درمیان رہ کر اشیائے صرف کی قیمتوں کے متعلق براہِ راست پوچھا۔

دراصل پچھلے زمانوں میں حالات کی سچی آگہی کے لئے کوئی دوسرا ذریعہ نہ تھا۔ ہرعہد میں یہ مقربین ہی ہوتے ہیں، جن سے حالات کی غلط تصویر کشی کا خطرہ رہتا ہے۔ نفسیات کی گتھی کھل چکی اور شعر میں ڈھل گئی کہ :

حیرت کی جا نہیں یہ اُصولِ تضاد ہے

دھوکا وہیں پہ ہو گا جہاں اعتماد ہے

کتابوں میں ایک نصیحت ’’بزر جمہر‘‘ کی ملتی ہے۔ بادشاہ نوشیرواں عادل کی مجلسِ مشاورت برپا تھی۔ بادشاہ کی تجویزسے کہیں بہتر تجاویز موجود تھیں، مگر بزر جمہر نے بادشاہ کی تائید کی جو سب سے دانا وزیر کی شہرت رکھتا تھا۔ بعد ازاں دیگر وزرا نے اُسے گھیر لیا کہ بادشاہ سے بہتر تجاویز سامنے تھیں، مگر وہ ایک غلط تائید کا مرتکب کیوں ہوا؟ بزر جمہر نے جواب دیاکہ اگر بادشاہ کی تدبیر ناکام ہوئی تو ذمہ دار بھی خود ہی ہوگا۔ اور اگر کامیاب ہوئی تو ہمیں بھی اُس کی خوشنودی حاصل ہوگی۔ پھر بادشاہ اپنی رائے کے خلاف کوئی بات سن کر خوش نہیں ہوتے۔ شاہ ایران ہرمز نے تو تخت پر بیٹھتے ہی اپنے باپ کے عہد کے تمام وزرا کو قید کر دیا تھا۔ ایک معتمد نے ( شاید معاونِ خصوصی ہوں) سوال کیا کہ عالم پناہ نے ایسا کیوں کیا؟ ہرمز نے جواب دیا کہ بے شک ان میں سے کسی نے کوئی جرم نہیں کیا، مگر یہ میرے خوف سے زبان نہیں کھولتے، جس سے مجھے خوف آتا ہے۔ ان کی یہ ظاہر پرستی میرے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ مضمون واحد ہے۔

مقربین یہی کرتے ہیں،مگر نوازشریف کو اپنے مقربین سے زیادہ بڑا خطرہ درپیش ہیں۔ وہ اشیائے ضروریہ کی اُن قیمتوں کو چھپا نہیں سکتے، جس کا علم وہ کسی بھی دوسرے ذریعے سے حاصل کر سکتے ہیں اور آج کے دور کے ’’بادشاہ سلامت‘‘ پہلے کی طرح اتنے بے خبرنہیں سمجھے جاسکتے کہ اُنہیں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے علم کے لئے بازاروں کا رُخ کرنا پڑے۔ اب یہ طریقے موثر نہیں رہے۔ تب حکمران بھیس بدلتے تھے اور خاموشی سے حقائق جاننے کے لئے اسے ایک موثر ذریعہ سمجھتے تھے۔ اب ماجرا ذرا مختلف ہے۔ اب بادشاہ سلامت تشریفاتی تقاضوں اور حفظِ مراتب(پروٹوکول) کا پورا خیال کرتے ہیں کہ حکمرانی کا حصول ہی اُن کے لئے شان وشکوہ اور دبدبے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اُن سے پہلے کیمرے پہنچتے ہیں ۔ انتہائی ادب سے عرض ہے کہ اب اس طرح کے اقدامات تماشے سے بڑھ کر نوسربازی لگتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ قیمتوں کا تعین اب ’’منڈی کی قوتیں‘‘ کرتی ہیں اور سرکاری اداروں کی نگرانی اُن سے ایک منافع بخش تال میل کی صورت میں ڈھل چکی ہے۔اسلام آباد میں قیمتوں کے تعین کا نظام ہی کارگر نہیں رکھا گیا۔

میاں نواز شریف کامقصوداگر قیمتوں کا ایک حقیقی جائزہ لینا ہوتا اور عوام میں اُس کے ثمرات پہنچانا ہوتے تو وہ یہ کام کسی بھی بازار کا رُخ کرنے کے بجائے اپنے ہی دفتر میں بآسانی کر سکتے تھے، جو حکومت ایک ٹھیلے والے کی قیمتوں پر سرکاری نرخ کا نفاذ نہ کر سکے، اُسے کوئی بھی دعویٰ کرنے کا حق نہیں ۔ اب جبکہ میاں صاحب کے اس دورے کو ایک ہفتہ ہونے والا ہے، تو ہم اس دورے کی کسی بھی پیشرفت سے بے خبر ہیں۔ گویا یہ ایک دکھاوا ہی تھا۔اب نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں جی ٹین ٹریڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر رانا قدیر کی یہ بات درست مان لینی چاہئے کہ یہ دورہ ایک فوٹو سیشن سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو حکمرانی کی ابتر صورتِ حال کو بہتر کرنے کے لئے اُنہیں بہت لمبے چوڑے دعووں کی ضرورت نہیں ، وہ اس کی ایک مناسب سی ابتدا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر ایک سرکاری نگرانی کا موثر نظام نافذ کر کے کر سکتے ہیں، مگر اس کے لئے اُنہیں ریاکاری اور دکھاوے سے اجتناب کرکے حقیقی اقدامات کاسہارا لیناہو گا،جس کاآغاز بازار سے کرنے کے بجائے وہ اپنی ٹیم کے درست انتخاب سے کر سکتے ہیں۔ اس کے بغیر بازاروں کے بے مقصد دورے اُن کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ حکمرانوں کے لئے اولین کام حالات کا درست ادراک ہوتا ہے، مگر یہاں اس کی کوئی لگن ہی نہیں۔ انسانی تمدن کی تجربہ گاہ تاریخ ہے اور تاریخ کا سبق یہ ہے کہ دور کو اس کے تقاضوں سے پہچانو ۔

امام غزالی ؒ کے بارے میں معلم احمد جاوید نے فرمایا:’’آپ عظمت سے ماخوذ نہیں،بلکہ اُس کے موجد ہیں‘‘۔ فرمایا کہ اُن کے بعد آنے والے کسی بھی بڑے سے بڑے آدمی کانام امام غزالی کے نام کے ساتھ ’’اور‘‘ لگا کے کیا جائے گا‘‘۔ امام کی فکر پڑھتے ہیں تو آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ وہ کس طرح عظمت کو عظیم کرتے ہیں۔یہ غزالی کو ہی زیبا تھا کہ فرماتے ’’عقل کے علاوہ کوئی امام نہیں پھر سلجوقی سلطان محمد بن ملک شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اے سلطان جان لو ! کمال عقل یہ ہے کہ ہر چیز کی اصلیت بعینہ سمجھ سکے‘‘ظاہر پرستی مغالطوں میں مبتلا کرتی ہے اور رعیت کو رعایا کاری سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ میاں صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ اُنہیں ہرمز جیسے اقدامات اُٹھانے اور بزرجمہروں سے بچنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ وہ بازار کے بے مقصد دوروں میں ہی اپنی حکمرانی خرچ کر بیٹھیں گے۔

مزید : کالم