دنیا افغانستان کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرے ،پاکستان سے ملکر کام کرینگے ،چینی وزیر خارجہ

دنیا افغانستان کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرے ،پاکستان سے ملکر کام کرینگے ...

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ +اے این این )چین کے وزیر خارجہ وانگ ٹری نے کہا ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ تعلقات کوانتہائی اہمیت دیتا ہے جبکہ معیشت اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون دونوں ملکوں کے لیے اہم ہے اسلام آبا د میں وزیر اعظم کے مشیربرائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان معیشت اور سلامتی سے متعلق معاملات پر مکمل اتفاق رائے ہے ۔دونوں ملک افغانستان کے استحکام کے لیے مل کر کام کریں گے اور افغانستان کی تعمیر نو میں مدد کریں گے اے این این کے مطابق سرتاج عزیز نے کہا کہ پاک چین دوستانہ تعلقات کے تناظر میں چینی وزیر خارجہ کا دورہ انتہائی اہم ہے ، سیاسی ، سفارتی اور اسٹرٹیجک معاملات پر بات چیت ہوئی ، پاکستان اور چین دونوں دہشتگردی کے خاتمے پر متفق ہیں ہم دہشتگردی کے خاتمے اور افغانستان میں امن و استحکام کے لئے چین کے ساتھ مل کر کام کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چینی صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے ، افغانستان امن کے لئے پاکستان اور چین کی سوچ ایک ہے ، چین نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے ا قدامات کو سراہا ۔

اس موقع پر وانگ ژی نے کہا کہ مشیر خارجہ سر تاج عزیز سے باہمی تعاون کے فروغ پر بات ہوئی ، چین پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے ،چین پاکستان میں مختلف تعمیراتی پروجیکٹس مکمل کرنے میں مصروف ہے عوام کے درمیان باہمی رابطے بڑھانے پر اتفاق ہوا ۔اقتصادی راہداری ،توانائی کے منصوبے میں چین پاکستان کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کا اہم پڑوسی ہے ، افغانستان میں امن کے لئے چین اور پاکستان مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں ، افغان میں امن خطے بہت ضروری ہے ،پاکستان افغانستان کے مسائل کا بہتر حل پیش کر سکتا ہے،ہم افغانستان کی تعمیر نو میں مدد کریں گے،دنیا کو افغانستان کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے ‘ افغانستان میں امن کے لئے پاکستان اور چین کی سوچ ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9سال بعد چینی صدر کا دورہ نہایت اہم ہے ،چینی صدر اسی سال پاکستان آئیں گے ،دونوں کے عوام کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے ۔

چینی وزیر خارجہ اپنے دو روزہ دورے کے دوران وزیر اعظم نواز شریف سمیت اعلیٰ عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

مزید : صفحہ اول