شیخ اعجاز اور سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب میں اختیارات کی جنگ

شیخ اعجاز اور سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب میں اختیارات کی جنگ

 فیصل آباد(بیورورپورٹ)حکومت پنجاب کے ایک نوٹیفکیشن کے تحت نامزد کردہ چیئرمین گورننگ باڈی ایف ڈی اے فیصل آباد شیخ اعجاز احمداور سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب کے درمیان اختیارات پر تحریری پھڈا پڑگیا۔ کئی روز تک سیاسی ڈیروں‘سرکاری دفاتر اور شہربھرمیں سخت ترین الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد شیخ اعجاز احمدنے بالآخر 11فروری کو اس لیٹر پر دستخط کرہی دئیے جس میں انہوں نے نہ صرف سیکرٹری ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ پنجاب لاہور کے اختیارات کوچیلنج کردیابلکہ ایف ڈی اے کی گورننگ باڈی کے 30جنوری 2015ء کے اجلاس میں طے کئے گئے فیصلوں کو کالعدم قرار دینے سے ہونے والے متوقع نقصان کا ذمہ دار بھی قرار دے دیااور ایف ڈی اے کے آئندہ اجلاس میں انہیں ذاتی طورپر آکر اپنا تفصیلی نقطہ نظر بیان کرنے کے بارے بھی تحریر کیا11فروری کے اپنے تحریری لیٹر میں چیئرمین گورننگ باڈی شیخ اعجاز احمدنے کہاکہ حکومت پنجاب نے آئینی طورپر مجھے چیئرمین گورننگ باڈی بنایاجس کے تحت میں نے 30جنوری 15ء کو ایف ڈی اے کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں قانونی طورپر ضروری امور کی بروقت انجام دہی کے لئے کئی فیصلوں کی منظوری دی مگر سیکرٹری ہاؤسنگ نے اس اجلاس کی کاروائی کوئی وجہ بتائے بغیر ہی معطل کردی جس کا کوئی جوازنہ تھااور ان کے اس اقدام کو غیر قانونی اور مس کنڈکٹ قرار دیا۔علاوہ ازیں ایف ڈی اے میں گورننگ باڈی کی سیاسی چیئرمین شپ اور واسا میں سیاسی وائس چیئرمین شپ کی تقرریوں کے بعد دونوں اداروں میں تھرتھلی مچ گئی۔ سیاسی،ذاتی اور سرکاری گفتگو کرنے کیلئے ریٹائرنگ روم ،جدید واش رومز کی ضروریات بھی پوری کرنی پڑیں تب کہیں جاکر وہ عام لوگوں اور سائلین کی ’’خدمت‘‘کے قابل ہوسکے۔ کچھ عرصہ قبل ہی بااثر سیاسی شخصیات کے گھروں‘دفاتر‘ڈیروں اور ’’کاغذات‘‘میں ہی ڈیوٹی دینے والے 600سے زائد وہ ملازمین واسا سے نکالنا پڑے مگر جونہی ایک بار پھر ان اداروں میں سیاسی تقرریاں شروع ہوئیں تو اپنے کارکنوں کو نوکریوں کے جھانسے دیتے آنے والے ان سیاسی عہدیداروں نے پھر اسی ڈگرپر درخواستیں اکٹھاکرنا شروع کردیں۔

اور سسکتے سسکتے چلنے والے ان اداروں میں پھر نئی بھرتیوں کی تقرریاں شروع ہونے لگیں۔ ان حالات میں اگر کوئی انہیں قانون اور آئین کا راستہ دکھاتاہے تو وہ اسے اپنے اختیارات میں مداخلت سمجھنے لگے ہیں۔اسی طرح ان اداروں کی کارکردگی کا مظاہرہ جلد ہی سامنے آنا شروع ہوجائے گا۔

مزید : علاقائی