طلبہ یونینیں 31سال بعد بھی بحال نہ ہوسکیں ؟

طلبہ یونینیں 31سال بعد بھی بحال نہ ہوسکیں ؟
طلبہ یونینیں 31سال بعد بھی بحال نہ ہوسکیں ؟

  

جنرل ضیاء الحق مرحوم نے 9فروری کو طلبہ کو جمہوری حقوق سے محروم کرتے ہوئے طلبہ یونین پر پابندی عائد کردی تھی۔ آنے والی جمہوری حکومتوں نے طلبہ یونین کی بحالی کو منشور کا حصہ ضروربنایا مگر عملی طورپر بحالی کا فیصلہ نہ کرسکے۔ طلبہ یونین پر پابندی لگاتے وقت تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے تشدد اور اسلحہ کو جواز بنایاگیا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری بار حکومت کے 8نکاتی ایجنڈا میں طلبہ یونین کی بحالی شامل تھی اور محترمہ کے بعد یوسف رضا گیلانی نے بطور وزیراعظم خطاب میں بھی طلبہ یونین کی بحالی کا عزم کیا تھا۔ 1988ء میں بھی پابندی کے چارسال بعد کی جمہوری حکومت نے بھی طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا تھا مگر وہ بھی اعلان ہی ثابت ہوا۔

31سال بعد طلبہ کو جمہوری حق تک نہ مل سکا البتہ کے پی کے میں تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو پہلے مرحلے میں اسلحہ رکھنے اور انہیں قانونی جواز فراہم کرنے کے لئے لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے پشاور کے آرمی سکول میں ہونے والے المناک واقعہ کو بنیاد بناکر ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو جیلوں جیسی سکیورٹی فراہم کرتے ہوئے اونچی اونچی چاردیواری جنگلوں اور تاروں میں بند کردیا گیا ہے ایک اخباری خبر کے مطابق کے پی کے کے بڑے تعلیمی اداروں میں بڑی کلاس کے طلبہ کو اسلحہ ٹریننگ اور انہیں اسلحہ لائسنس جاری کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے ۔ طلبہ یونین کے دور میں کیا ہوتا تھا، طلبہ جمہوری قدروں سے واقفیت حاصل کرتے تھے، طلبہ یونین جمہوریت کی نرسری کا کردار ادا کرتی تھی طلبہ غیرنصابی سرگرمیوں کے ذریعے کردار سازی میں نمایاں پوزیشن حاصل کرکے معاشرے میں اہم عہدوں تک پہنچتے تھے۔ تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیاں طلبہ کو تعلیم میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ تحریری تقریری طورپر مضبوط بناتی تھیں۔

تلاوت، نعت، تقریر، مباحثے، ٹورنامنٹ دوڑ کے مقابلے اور دیگر بے شمار ایونٹ تعلیمی اداروں کی شان ہوا کرتے تھے ۔ طلبہ وطالبات آج کل کی بیماریوں سے لاتعلق تھے طلبہ یونین کی موجودگی میں طلبہ کی ذہنی نشوونما، بلوغت ، مثبت انداز میں پروان چڑھتی تھی۔ تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والے جہاں اچھے ڈاکٹر انجینئر، استاد ہوتے تھے وہاں پر ڈاکٹر ، ماسٹر، انجینئر اخلاقی قدروں کا مینار ہوا کرتے تھے ، بہتر ڈاکٹر اور بہترین قلم کار بن کر نکلتے تھے۔ تعلیمی اداروں میں گھٹن کا ماحول نہیں تھا۔ طلبہ میں وطن عزیز کی محبت کے ساتھ ساتھ باہمی انڈرسٹینڈنگ فروغ پاتی تھی۔

بیورو کریسی میں اس وقت موجوددرجنوں افراد کے نام لکھ سکتا ہوں جو آئی جی۔ ایڈیشنل آئی جی ، سیکرٹری ایڈیشنل سیکرٹری، سیکشن آفیسر کی نشستوں پر ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں انہیں ایماندار افسر کی حیثیت سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔جائزہ لیا جائے تو ان کی ذہنی نشوونما بلوغت اور جرأت اظہار کے پیچھے طلبہ یونین کے دور کی غیرنصابی سرگرمیاں ہی نظر آئیں گی۔ طلبہ یونین کے دور کے میدان میں آنے والے رہنماؤں کا جوش خطابت ان کی تحریریں کیوں اہم اور انفرادیت کی حامل ہیں اس کی وجہ جمہوریت نرسری کی کلاسز ہیں جن میں یہ کندن بنے ہیں۔

آج کہا جاتا ہے طلبہ یونین نہ ہونے سے تعلیمی اداروں کا امن بحال ہوگیا ہے ، تعلیمی ادارے اسلحے سے پاک ہوگئے ہیں، ہمارے بچے امن کے ساتھ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ،میرا ایک ہی سوال ہے، تعلیمی ادارے تو جیلوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ طلبہ طالبات غیرنصابی سرگرمیوں میں پابندیاں عائد کردی گئی ہیں، تعلیمی اداروں سے نکلنے والے اخلاق باختہ ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی قدروں سے بھی عاری نظر آتے ہیں ، گھر سے بھاگنے والی بچیوں کی تعداد، والدین کے نا فرمان طلبہ طالبات کی تعداد ،گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والوں کی تعداد، کیفے میں حقہ پینے اور جنسی طورپر دیوالیہ ہونے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔

آج کے تعلیمی اداروں میں تحریر اورتقریر کے ذریعے جوہر دکھانے والوں کی تعداد کا بھی پتہ کرلیں تو اندازہ ہوجائے گا ہم کتنی تیزی کے ساتھ منزل کھورہے ہیں ، میں کہتا ہوں یہ سب جمہوری نرسری یعنی طلبہ یونین پر پابندی کی وجہ سے ہوا ہے، بلکہ تھینک ٹینک بنایا جائے یا تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے جو 84سے پہلے دور کا جائزہ لے اور 88کے بعد تعلیمی اداروں سے نکلنے والوں اور تعلیمی اداروں کے اندرونی ماحول کا جائزہ لے پھر قوم کے سامنے حقائق رکھے جائیں، اگر پھر بھی موجودہ تعلیمی اداروں اور 88سے پہلے کے تعلیمی اداروں کے ماحول کی تبدیلی اور ہمارے معاشرے پر مرتب ہونے والے اثرات مثبت نہ ہوں تو غلطی تسلیم کرکے فوری طورپر تعلیمی اداروں میں طلبہ کو جمہوری حقوق دے دیئے جائیں۔ آخر میں میرا سوال وفاقی وزیر احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور پنجاب کے روح رواں رانا ارشد اور میاں محمود الرشید اور اس وقت موجودہ اسمبلی میں موجود ارکان اور بیوروکریسی کے احباب ہے آپ کب ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے؟

آپ کو بولنے آپ کو جرأت مندی اور تحریر کی صلاحیت کہاں سے آئی دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں اور گزشتہ 20سال سے تعلیمی اداروں سے نکلنے والے کچرے کا بھی جائزہ لے لیں، قوم کو صرف اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کے لئے گمراہ نہ کریں ، اپنی اپنی پارٹیوں کے سربراہوں کو بتائیں ہم تیزی سے منزل کھو رہے ہیں۔ سیاسی پارٹی مسلم لیگ کی ہو یا جماعت اسلامی کی اے این پی کی ہو یا ایم کیوایم کی وہ سیاسی پارٹی تحریک انصاف کی ہو یا پیپلزپارٹی کی سب کے طلبہ ونگ موجود ہیں اور تعلیمی اداروں میں کام بھی کررہے ہیں ، طلبہ تنظیمیں اس وقت تک ہی طلبہ تنظیمیں رہ سکتی ہیں جب تک وہ تعلیمی اداروں کے اندر رہ کر جمہوری انداز میں پروان چڑھیں ورنہ خود بخود عسکری ونگ بنتے جائیں گے اس وقت یہی ہورہا ہے، خداراسوچئے ، طلبہ کو اخلاقی طورپر پختہ کرنے چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے انہیں جمہوری نرسری میں پروان چڑھنے دیا جائے پھر دیکھیں ہیروئن سے کیسے جان چھوٹتی ہے ،غیر نصابی سرگرمیاں اور طلبہ یونین پر عائد پابندی کا خاتمہ سینکڑوں دنیاوی الائشوں کا واحد حل ہے۔ سوچئے !

مزید : کالم