گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے ، سینئر وکلاء

گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے ، سینئر وکلاء

لاہور(کامران مغل) آج 13فروری کو دنیا بھر میں گلے ملنے کا دن منایا جا رہا ہے ، اس لئے آج ہر سطح پر تقاریب ، سیمینار ، واکس اور مباحثے ہو نگے ،یہ مواقع گارڈین کورٹ میں زیرسماعت میاں بیوی کی علیحدگی اور بچوں سے ملنے ملانے کے وقت ان کی آپسی دوریاں ختم کرنے کے لحاظ سے بھی بہت اہم ہو تے ہیں ۔ اس حوالے سے سینئر وکلاء مدثر چودھری ، مرزا حسیب اسامہ، ارشاد گجر، مجتبی چودھری ،ساگر علی ڈھلوں نے نمائندہ \"پاکستان\"سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ ترقوانین اٹھاکر صرف ماں کی جھولی میں ڈال دیئے گئے ہیں جس سے باپ کے حقوق متاثر ہورہے ہیں ،گارڈئین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890ء میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے تاکہ ماں اور باپ کو بچوں تک رسائی کے برابری کی سطح پر قوانین فراہم کیے جاسکیں اوردونوں کو بچوں سے ملاقات کا یکساں وقت دیا جائے پھر ہی یہ مسئلہ حل کی جانب جا سکتا ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سائلین عائلی معاملات کے حل کے لئے عدالت کا نام سن کر ہی گھبراجاتے ہیں اور اسی وجہ سے اکثر مطلقہ والدین گارڈئین عدالت میں بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں ، وہ اپنے بچوں کو گلے لگانا تودرکنار ان کی صورت دیکھنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں ،اس لیے اس گلے لگانے کے عالمی دن کے موقع پر تمام کو ششیں محض زبانی جمع خرچ تک محدود رکھنے کی بجائے عملی طورپر اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں تاکہ کئی کئی دنوں سے اپنے بچوں کی صورتوں کو ترستے ہوئے والدین بھی اپنی اولادوں کو گلے سے لگاسکیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کی آپس میں صلح صفائی کی کوئی صورت نکل آئے اور وہ پھر سے ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگیں۔

مزید : صفحہ آخر