اُپلوں کی میناکاری اور ’’بن‘‘ کی تیاری

اُپلوں کی میناکاری اور ’’بن‘‘ کی تیاری
اُپلوں کی میناکاری اور ’’بن‘‘ کی تیاری

  

3 فروری 2016ء کے اخبار میں چھپی ایک دل خراش اور افسوسناک خبر نظر سے گزری’’ کیک رس کھانے سے دو بچیاں انتقال کر گئیں اور دو کو ڈاکٹروں نے سرتوڑ کوشش کے بعد زندہ بچا لیا۔‘‘ رس یا کیک رس غریب انسان کا پسندیدہ کھانا ہے۔ جوان لوگ صبح ناشتے میں حلوہ پوری، نان چنے اور پراٹھے کھا لیں تو بزرگوں اور بچوں کے حصے میں رس ہی آتے ہیں جو کھانے میں اور خریدنے میں بھی آسان ہیں۔ یہ ایک ہلکی پھلکی غذا ہے۔ لیکن اس غذا کو جس طریقے سے تیار کیا جاتا ہے وہ نہایت نا مناسب اور قابلِ گرفت ہے۔ میں نے اتفاقاً یہ پراڈکٹ دو تین مقامات پر تیار ہوتے دیکھی ہے۔ گرین ٹاؤن، جو کہ غریب لوگوں کی آبادی ہے، اس کے ساتھ ہی فیکٹری ایریا ہے، جہاں ڈبل روٹی اور بند کیک رس بنانے کی بڑی بڑی مشہور زمانہ فیکٹریاں بھی موجود ہیں۔ اسی ایریا میں کیک رس اور بند بنانے کے چھوٹے چھوٹے یونٹ بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک دن میں اپنی دو تین سہیلیوں کے ساتھ گرین ٹاؤن کے ایک گھر کے سامنے سے گزر رہی تھی کہ مجھے بن بنانے کی خوشبو محسوس ہوئی۔

میں نے ایک محلے دار خاتون سے پوچھا کہ یہاں بن کہاں بنتے ہیں؟ اس نے قریب ہی واقع ایک گھر کی طرف انگلی سے اشارہ کیا جس کی بیرونی دیوار پر مجھے اُپلوں کی ’’مینا کاری‘‘ نظر آئی۔ اس گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا میں اور میری سہیلیاں اس گھر میں بے دھڑک داخل ہو گئیں۔ جہاں سامنے ہی تین چار لڑکے بیٹھے ایک کالی سیاہ ٹرے پر آئل لگا رہے تھے۔ وہ کالے سیاہ ہاتھوں سے اپنا کام سر انجام دینے میں مصروف تھے۔ ہمیں دیکھ کر اُٹھ کھڑے ہوئے ایک لڑکے نے جس کی شلوار قمیص کا رنگ ان کے میلے ہونے کی وجہ سے پہچانا نہیں جا سکتا تھا، مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’میڈم آپ کو کیا چاہئے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’میں آپ سے کچھ خریدنے نہیں بلکہ آپ کو ایک مشورہ دینے آئی ہوں۔ یہ جو اُپلے آپ نے باہر کی دیوار پر سجا رکھے ہیں۔ انہیں وہاں سے اتار دیں۔ ان کی وجہ سے بن اور اُپلے میں تمیز کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ’’اس نے جواب دیا ’’میڈم ہم تو کام فیکٹری کے اندر کرتے ہیں۔ باہر سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اُپلے تو باہر لگے ہیں باقی کوئی بات ہو تو آپ مالکان سے کر سکتے ہیں۔ آپ یہ بتائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں‘‘ ۔میں اسے کوئی جواب دیئے بغیر باہر نکل آئی اور سوچنے لگی کہ اپنا منہ تو دھو نہیں سکتا ہماری کیا خدمت کرے گا۔ایک بار گرمیوں کی چھٹیوں میں سب بہن بھائی فیصل آباد گئے۔ جہاں ہمارے ماموں جان ایک کالج میں انگلش کے پروفیسر تھے۔ ان کا گھر پیپلزکالونی ڈی گراؤنڈ میں تھا جہاں قریب ہی ایک بیکری بھی تھی جس پر بظاہر بہت عمدہ اور لذیذ کیک رس تیار کئے جاتے تھے۔ یہ فیصل آباد میں نہایت مقبول تھے۔

اس بیکری کے مالک ایک مولانا صاحب تھے۔ہم روزانہ ان سے رس لینے جاتے۔ جو سب بچے مل کر چائے کے ساتھ ناشتے میں بہت شوق سے کھاتے۔ جب مولانا صاحب نماز پڑھنے جاتے تو اپنی بیکری کسی ورکر کے سپرد کر جاتے۔ ایک دن میرا دل چاہا کہ میں دیکھوں کہ یہ رس کس طرح تیار کئے جاتے ہیں۔ شام کو جب مولانا نماز پڑھنے گئے تو میں نے موقع غنیمت جانا اور بیکری میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ دیکھا کہ ایک بہت بڑا ناند (ٹب) بنا ہوا ہے۔ جس میں ایک آدمی نہایت گندی بنیان اور تہبند باندھے کھڑا ہوا تھا۔ اور اس میں موجود بہت سے آٹے کو اپنے پیروں سے گوندھ رہا تھا۔ یہ آٹا رس ہی بنانے کے لئے تیار ہو رہا تھا۔ میں نے یہ سب منظر دیکھا تو حیرانی سے میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ میں نے واپسی پر گھر میں موجود سب کو یہ واقعہ سنایا۔ تو سب نے ہی رس کھانے چھوڑ دیئے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ہمارے انکل کے ساتھ پیش آیا۔ وہ اپنے آفس سے واپس گھر کی طرف آ رہے تھے کہ راستے میں انہوں نے دیکھا، ایک دکان میں بن، تیار ہو رہے ہیں۔ کسی نے بن بنانے والا گرما گرم سانچا (جس میں بن موجود تھے) دوکان کے باہر رکھ دیا۔ کہیں سے ایک آوارہ کتا ادھر آنکلا اس نے سانچے میں سے بن کھانے کی کوشش کی لیکن اس گرم بن کے ساتھ اس کا منھ چپک کر رہ گیا اور وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔ انکل آج بھی سوچتے ہیں کہ نہ جانے وہ بن کس غریب کے حصے میں آیا ہوگا۔ یہ تو ہے۔ بن، کیک اس اور رس بنانے والوں کا طریقہ کار۔ باقی رہا سوال صفائی کا تو اس ضمن میں بڑے بڑے بینرز اور اشتہارات تو دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ جن کے مطابق پتہ چلتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ لیکن عملاً صفائی کہیں نظر نہیں آتی۔ چھوٹے چھوٹے یونٹس کی تو بات رہی ایک طرف، بڑے بڑے مشہور ہوٹل ریسٹورنٹس، پیزا ہٹ، برگر پوائنٹس، چائنیز ریسٹورنٹس، تکہ بوٹلی شاپس، سیخ کباب شاپس اور دیگر فوڈ پوائنٹس کی صفائی کا حال دیکھ کر دل کباب ہو جاتا ہے امید کی ایک کرن، عائشہ ممتاز صاحبہ کی صورت میں نظر آئی جو ہر وقت اپنے فرض کی ادائیگی میں اپنی ٹیم کے ساتھ ابتر صورت حال کی بہتری کے لئے مصروفِ عمل ہیں۔ اسی طرح سے ہم مل جل کر کوشش کریں تو تمام معاملات کو درست کر سکتے ہیں۔ دوسری بات جو بہت اہمیت کی حامل ہے وہ ہے معیار! جس پر توجہ نہ حکومت دیتی ہے اور نہ ہم لوگ! جو کہ ان سب چیزوں کے ذمہ دار ہیں: بے شک مولانا ظفر علی خاں کے بقول:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا!!

مزید :

کالم -