میں نے ہی اپنے دوست کو قتل کیا مگر یاد نہیں ایسا کیوں اور کب کیا : ملزم کا عدالت میں حیران کن موقف

میں نے ہی اپنے دوست کو قتل کیا مگر یاد نہیں ایسا کیوں اور کب کیا : ملزم کا ...
میں نے ہی اپنے دوست کو قتل کیا مگر یاد نہیں ایسا کیوں اور کب کیا : ملزم کا عدالت میں حیران کن موقف

  

ابو ظہبی (ڈیلی پاکستان آن لائن ) متحدہ عرب امارات کے صدر مقام ابوظہبی میں قتل کے ملزم نے اعتراف جرم کے بعد عدالت کو بتایا ہے کہ اسے یہ یاد نہیں کہ قتل کیوں کیا ۔

خلیج ٹائمز کے مطابق اپنے ہم وطن اورابوظہبی میںساتھ رہنے والے نوجوان کوچھریوں کے وار کر کے قتل کرنے کے الزام پر نیپال کے مزدور کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے مقتول پر حملے کا اعتراف کر تے ہوئے عدالت کے سامنے موقف اپنایا کہ وہ نشے میں دھت تھا لہذٰ ا یہ یاد نہیں کہ کیوں اور کیسے ایسا کیا ۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ دونوں نے شراب نوشی کر رکھی تھی اور جب وہ اپنے کمرے میں واپس گئے تو کسی بات پر تکرار ہوئی جو خونی تصادم میں تبدیل ہو گئی جس کے بعد ملزم نے چھری اٹھا کر اپنے دوست کی گردن ، چھاتی اور چہرے پر وار کیے جو جان لیوا ثابت ہوئے ۔

TapMad نے ہمہ وقت سرگرم رہنے والوں کے لئے انٹرٹینمنٹ کی نئی دنیا متعارف کروادی

استغاثہ نے عدالت کو مزید بتایا کہ حادثے کے بعد پولیس کو طلب کیا گیا جنہوں نے نوجوان کو شدید زخمی اور خون آلود حالت میں ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہوسکا تاہم ملزم کو گرفتار کر لیا گیا جس نے دوران تفتیش اعتراف جرم کر لیا ہے ۔

عدالت میں ملزم نے جرم مانتے ہوئے انوکھا موقف اپنا یا کہ شراب کے نشے کی وجہ سے یہ سب ہوا تاہم میں نے اپنے دوست کو جان بوجھ کر قتل نہیں کیا ۔ ”مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ میں نے کب اور کیوں اس پر حملہ کیا “۔ مجھے یہ یاد ہے کہ اس نے مجھے مارا اور دھکے بھی دیے ۔

شادی کے سیزن میں اس چیز سے بال دھونے سے ان میں ایسی چمک آئے گی کہ سب آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے

جب جج نے ملزم سے پوچھا کہ اس نے دوست پر حملہ کیوں کیا تو اس نے جواب دیا کہ ”مجھے یاد نہیں ہمارے درمیان کیا بات بحث کا باعث بنی اور مجھے چاقو کیوں اٹھانا پڑا “۔

ملزم نے عدالت کو بتایا کہ وہ میرا دوست تھا لہذٰا میں اسے زخمی یا قتل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا مگر سب کچھ شراب کے نشے کی وجہ سے ہوا ۔ عدالت نے ملزم کو آئندہ سماعت پر وکیل کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا اور حکم دیا کہ مقتول کے خاندان سے رابطہ کر کے پوچھا جائے کہ آیا وہ ملزم کو خون بہا کے بدلے معاف کر سکتے ہیں یا نہیں ۔

مزید :

عرب دنیا -