چین،پاکستان اور ایشیا کی بدلتی ہوئی جیو پالیٹکس

چین،پاکستان اور ایشیا کی بدلتی ہوئی جیو پالیٹکس
چین،پاکستان اور ایشیا کی بدلتی ہوئی جیو پالیٹکس

  

"پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہری ،فولاد سے مضبوط، آنکھوں کی بصارت سے زیادہ عزیز اور شہد سے زیادہ میٹھی"، یہ اور اس طرح کی دیگر تراکیب اسلامی جمہوریہ پاکستان اور پیپلز ریپبلک آف چائنہ کے عظیم اتحاد کے بارے میں استعمال کی جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ نعرے کچھ غیر حقیقت پسندانہ سے محسوس ہوتے ہیں لیکن درحقیقت ان نعروں کے پس منظر میں گلوبل آرڈر (Global Order) نہیں تو کم از کم مجھے ایشیاء کا مستقبل ایک نئی شکل میں بنتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان اور چین کے مابین مضبوط تعلقات تاریخ کے اہم موڑمیں داخل ہو چکے ہیں۔ شکوک و شبہات اور تذبذب کے بادل چھٹ چکے ہیں۔30نومبر 2016ء کوچائنہ کے شہر کونمنگ (Kunming) سے 500ٹن سامان سے لدا ہوا قافلہ دونوں ملکوں کے مابین براہ راست ریل اور بحری فریٹ سروس کے معاہدے کے نتیجے میں کراچی کی طرف کامیاب سفر کر چکا ہے اور اب تک سو کنٹینروں پر لدا ہوا سامان گوادر کے راستے یورپ پہنچایا جا چکا ہے۔ یہ تجارتی سرگرمیاں پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک منصوبے کے تحت پچاس بلین ڈالر سے زائد ہونے والی سرمایہ کاری کا حصہ ہیں۔اگر چین اپنے اقدامات میں کامیاب رہتا ہے تو خطے میں پاکستان کا اثرو رسوخ مکمل طور پر ایک نئی ہیئت اختیار کر لے گا۔

دو ممالک کے درمیان اس دیر پا و باہمی مفاد کے رشتے کو ایک کہاوت کے پس منظر میں بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ "دو متضاد چیزیں ہمیشہ ایک دوسرے کیلئے کشش کی حامل ہوتی ہیں"۔پاکستان اور اس کا سیاسی و سماجی نظام اسلامی جمہوری ہونے کے ساتھ ساتھ برطانوی وراثت کا آئینہ دار بھی ہے جبکہ چین پہلے بھی اور اب بھی سرخ انقلاب سے متاثر ایک کمیونسٹ ریاست ہے۔ پاکستان نے ابتداء ہی سے چین کے بیرونی دنیا سے روابط کیلئے خارجی دروازے کا کردار نبھایا ہے۔1962ء میں ہونے والی بھارت چین جنگ نے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی اشتراک کی راہیں کھول دیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے عالمی سطح پر تبت ، تائیوان اور سن کیانگ کے مسئلے پر کھل کر چین کی حمائیت کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے 1972ء میں رسمی طور پر امریکی صدر نکسن کے دور ہ چین کی راہیں ہموار کیں جبکہ دوسری طرف پاکستان نے بھارتی جارحیت کے مقابلے پر چین سے سفارتی ، معاشی اور فوجی فوائد حاصل کئے ۔ متعدد بار دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت نے باہمی دورے کئے اور اس طرح پُر جوش سفارتی تعلقات کو ہمیشہ سے دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی میں کلیدی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس سے بڑھ کر 83 سالہ ماؤزے تنگ سے ان کی موت سے چند دن پہلے ملنے والی آخری بین الاقوامی شخصیت پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تھی۔ روس کے افغانستان پر حملے اور پاکستان کے امریکی مفادات سے وابستہ ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات کچھ تعطّل کا شکار بھی رہے ۔ کچھ ہی عرصے بعد امریکہ کی بھارت پر مہربانیوں اوراس کی'دہشت گردی کے خلاف جنگ'نے پاکستان پر یہ حقیقت واضح کر دی کہ پاکستان کے بہترین مفادات چین سے وابستہ ہیں۔ چین نے ہمیشہ توقّع سے بڑھ کر ایٹمی پروگرام اور سپلائی میں پاکستان کی مدد کی جس نے پاکستان کو خطّے کی مضبوط فوجی طاقت میں تبدیل کر دیا۔ اس کی تازہ ترین مثال حال ہی میں چین کی طرف سے پاکستان کو چینگدو J - 10B(Chengdu J-10B)لڑاکا طیاروں کی فراہمی ہے جو امریکہ کے جدید ترین لڑاکا طیارے لاک ہیڈ مارٹن ایف - 16C (Lockheed Martin F-16C)کے ہم پلّہ ہیں۔ جیسا کہ چین کے وزیر اعظم لی کیانگ (Le Keqiang)نے چین کے عوام کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ، "اگر آپ چین سے محبت کرتے ہیں تو آپ کو پاکستان سے بھی محبت کرنا ہو گی"۔ الخالد ٹینک کی تیاری ، ایف 22فریگیٹ، ایٹمی پاور پلانٹس اور دیگر ہتھیار اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی محض چند مثالیں ہیں ۔ امریکی تحقیقی ادارے پیوریسرچ سنٹر(Pew Research Center) کے مطابق چینی شہریوں کے بعد چین کو سب سے زیادہ پسندپاکستانی کرتے ہیں۔

ایشیائی ریاستوں کو آج سب سے زیادہ اور مؤثّر خطرات سیکیورٹی سے متعلّقہ ہیں۔ دہشت گردی ، انتہا پسندی اور بڑھتی ہوئی شدّت پسندی سے چین اور پاکستان میں یہ احساس بڑھا ہے کہ امن و عامہ کے مسائل پر صرف تر قّّی کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔ پاکستان براہ راست دہشت گردی اور انتہا پسندی کا شکار رہا ہے جبکہ چین پر بھی ایغور (Uighar) انتہا پسندگروپ کی ممکنہ شدّت پسندانہ کاروائیوں کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے انٹیلی جنس اداروں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ شمالی ترکستان اسلامک موومنٹ (East Turkistan Movement)اور ایغور علیحدگی پسند گروپ طالبان کے ساتھ اتحاد کر چکے ہیں۔ اس بات کے کافی امکانات ہیں کہ انتہا پسندی اپنی تمام برائیوں کے ساتھ چین کے بہت سے شہروں کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ سی پیک (CPEC)اور اوبور (OBOR) معاہدے دونوں ملکوں کے غیر ترقّی یافتہ علاقوں جہاں شدّت پسندی کے جراثیم موجود ہیں اس ممکنہ انتہا پسندی کی لہر کو روکنے اور سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اقتصادی ترقی کی ڈھال کے طور پر ثابت ہو سکتے ہیں ۔

سی پیک دونوں ملکوں کیلئے کامیابی اور فتح کی نوید ہے ۔گوادر دنیا کا اہم تجارتی مرکز بن سکے گا اور پاکستان کو مغربی اثر سے آزاد ایک مضبوط معاشی طاقت کے طور پر ابھرنے کا موقع ملے گا۔ سی پیک اور اوبور (CPEC & OBOR) کے نتیجے میں ایشیا کے جیو پالیٹیکل (Geo Pollitical) ماحول میں طاقت اور صلاحیت کی ایک نئے سرے سے اٹھان ہو گی۔ صرف پاکستان ہی چین کا حقیقی دوست ہے ؛ بیجنگ کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے ساتھ ایک مضبوط اتحادی کے بغیردنیا کی سپر پاور نہیں بن سکتا ۔ جیسا کہ چین کی فوج کے ایک انتہا ئی اعلیٰ عہدیدار نے پاکستان کے متعلق چین کے مؤقف کے دفاع میں کہا ہے کہ "پاکستان چین کا اسرائیل ہے"۔ایک مضبوط پاکستان نہ صرف افغانستان میں دہشت گرد گروپوں پر نظر رکھ سکے گا بلکہ بھارت کی طرف سے ہونے والی کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کر نے کے قابل ہو گا۔ایشیا کی جیو پالیٹکس اب چین - پاکستان اتحاد اور دونوں ملکوں کے خیالات میں یکسانیت کے سبب خطے میں نئی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرے گی۔ چین اپنے اکلوتے اتحادی کو بہت سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ وہ ایشیا اور مڈل ایسٹ میں ایک سپر پاور کے طور پر اپنی طاقت کا لوہا منوائے۔ یہ دونوں ملکوں کے بہترین مفاد میں ہے ، اور اگر سب کچھ ٹھیک ہو گیا تو اس سے ایشیا کا چہرہ ایسے تبدیل ہو جائے گا جس کا پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

(مضمون نگار جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں)

مزید :

کالم -