پنجاب اسمبلی کے قریب دھماکا ، ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد گوندل سمیت 13افراد شہید ، 100 سے زائد زخمی ، ملک میں سوگ کا اعلان

پنجاب اسمبلی کے قریب دھماکا ، ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن احمد مبین اور ایس ایس پی ...
پنجاب اسمبلی کے قریب دھماکا ، ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد گوندل سمیت 13افراد شہید ، 100 سے زائد زخمی ، ملک میں سوگ کا اعلان

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہور کے علاقے چیئرنگ کراس مال روڈ پر خو د کش حملے کے نتیجے میں ڈی آئی جی ٹریفک لاہور کیپٹن (ر) سید احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد اکرام گوند ل اور دیگر چھ جوانوں سمیت 13افراد شہید اورسو سے زائدزخمی ہو گئے  جس پر ملک بھر میں سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے اور آج قومی پرچم سرنگوں رہے گا ۔خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان کے منحرف ہونے والے دھڑے ”جماعت الاحرار “ نے قبول کر لی ہے جبکہ خودکش حملے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی بیدیا ں روڈ میں درج کر لیا گیا ہے اور اس کی ابتدائی رپورٹ بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کردی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ شام پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس پر فارما مینو فیکچرز اور کیمسٹس کا پنجاب حکومت کے ڈرگ ایکٹ میں ترمیم کے خلاف دھرنا اور احتجاج جاری تھا کہ ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن (ر) احمد مبین قائم مقام ڈی آئی جی آپریشن لاہور زاہد اکرام گوندل اور دیگر پولیس افسران کے ہمراہ مظاہرین سے مذاکرات کے لئے آئے ،ابھی مذاکرات جاری ہی تھے کہ خود کش بمبار نے کیپٹن (ر) احمد مبین کے قریب کھڑی نجی ٹی وی چینل کی ڈی ایس این جی وین کے پاس جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے ۔ شہید ہونے والوں میں چھ اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ سو سے زائد زخمی ہیں جو گنگا رام ہسپتال ،میو ہسپتال اور سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

دھماکے کے بعد وزیر اعلیٰ شہبازشریف نے کنگا رام جا کر زخمیوں کی عیادت کی اور ان کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنی کی ہدایت کی ۔زخمیوں میں سے کئی افراد کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے

نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حکومتی8 رکنی وفد نے کیمسٹ اور ڈرگ ایسوسی ایشن سے مذاکرات کیلئے تیاری کر لی تھی لیکن ان کی آمد سے قبل ہی دھماکہ ہو گیا۔ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن (ر)احمد مبین نے مظاہرین کو حکومت کی جانب سے درخواست کی تھی کہ عام ٹریفک کی روانی کیلئے سڑک کھول دیں اور احتجاج کو فٹ پاتھ پر منتقل کر دیں جبکہ حکومتی وفد بھی مذاکرات کیلئے آرہاہے،ڈی آئی جی کے مطالبے کو مانتے ہوئے مظاہرین فٹ پاتھ پر منتقل ہو رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوگیا، جس سے ہر طرف تباہی مچ گئی۔دوسری طرف سی ٹی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر محمد اقبال نے دھماکا خودکش ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ”خودکش بمبار “پیدل چل کر آیا تھا ،اور پولیس افسران کو ٹارگٹ کر کے دھماکہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ کی طرف سے ممکنہ دہشتگردی سے متعلق 7 فروری کو الرٹ جاری کرتے ہوئے انتباہ کیا گیا تھا کہ نامعلوم دہشت گرد گروپ سرکاری اور نجی عمارتوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ آئی جی پنجاب مشتاق سیکھیرا کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کر لیے گئے ہیںاورحملہ آور آج ٹی وی کی ڈی ایس این جی کی آڑ لے کر پولیس کے تعاقب میں آیا،موقع دیکھ کر دھماکہ کردیا۔آئی جی پنجاب کا کہناتھا کہ اگرچہ جماعت الاحرار نے خود کش دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے لیکن تحقیقاتی ادارے ہر پہلو سے تفتیش کر رہے ہیں۔

وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو ٹیلی فون کر کے لاہور دھماکے میں پولیس افسران اور دیگر شہریوں کے شہید ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے تحقیقات میں پنجاب حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ادھر چیئرنگ کراس دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی بیدیاں روڈ میں درج کر لیا گیا ہے جبکہ دھماکے کی ابتدائی رپورٹ وزیر اعلیٰ شہہازشریف کو بھجوا دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خودکش حملہ آور کی عمر 16 سے 18سال کے قریب تھی جس نے دھماکے میں 6سے 8کلو وزنی بارودی مواد استعمال کیا اور پیدل چلتا ہوا جائے حادثہ پر پہنچا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خودکش حملہ آور کے ہاتھ ، ٹانگیں اور جبڑا مل گیا ہے جبکہ اس نے سفید شلوار قمیض اور سیاہ جیکٹ پہن رکھی تھی۔ خودکش حملے کے نتیجے میں زیادہ لوگوں کو سر وں پر بیئرنگ لگنے سے شہادتیں ہوئیں جبکہ حملہ آور نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا جس کے اعضاءڈی این اے ٹیسٹ کیلئے بھجوا دیے گئے ہیں ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -