مجھے کیوں نہیں نکالا؟

مجھے کیوں نہیں نکالا؟
مجھے کیوں نہیں نکالا؟

  

میں سٹیٹس کو کے سخت خلاف تھا، پروٹوکول سے بہت بیزار تھا کرپشن اور کرپٹ لوگوں سے مجھے نفرت تھی۔ میں ہر وقت اور ہر محفل میں یہ باتیں کرتا تھا کہ لوگ پروٹوکول کے بھوکے کیوں ہوتے ہیں، کرپٹ لوگوں کو ان کے عہدوں سے نکالا کیوں نہیں جاتا؟ پھر ایسا ہوا کہ کئی لوگوں نے میری باتیں سننے کے بعد مجھے کچھ اہمیت دینا شروع کی اور مجھے محفلوں اور جلسوں میں بلانا شروع کر دیا یہاں تک کہ ایک پروگرام میں مجھے باقاعدہ پروگرام کمیٹی میں شامل کر لیا اس پروگرام کا اہتمام کرنے اور کامیاب کرنے کے لیے جہاں ہم سے صلاح مشورے کیے گئے وہاں کچھ چندہ وغیرہ بھی اکٹھا کیا گیا اور پھر سٹیج پر بیٹھنے اور تقریریں کرنے والوں کی فہرست بنائی گئی تو اس میں میرا نام نہیں تھا یہ دیکھ کر میں آگ بگولہ ہو گیا اور وجہ پوچھی تو آگے سے مجبوریوں کا اظہار کیا گیا سٹیج پر جگہ کی کمی اور وقت کی کمی کا رونا رویا گیا اور مجھ سے وعدہ کیا گیا کہ آئندہ کسی پروگرام میں آپ کو بھی جگہ ملے گی، لیکن میں تھا کہ سارے پروگرام کو سبوتاژ کرنے پر تل گیا، لہذا سب نے مجبور ہو کر کہا کہ چلو آپ تقریر کر لینا لیکن سٹیج پر بیٹھنے کی ضد نہ کرو۔ لیکن میں نے ان کو جھکتے دیکھ کر اور دباؤ ڈالا اور اپنی بات منوا کر دم لیا۔

اس کے بعد میرا نام بھی اپنے محلے کے سرکردہ لوگوں میں آنے لگا۔ پھر جب محکمہ لوکل کونسل سے ہماری گلیوں کی اسکیم منظور ہوئی جس کا میں نے بھی کئی بار مطالبہ کیا تھا تو مجھے اس پروجیکٹ کمیٹی کا مینجر بنایا گیا جس کمیٹی نے گلیوں کی پختگی کا کام پائیہ تکمیل تک پہچانا تھا، اب وہ رقم میں نے وصول کرنا اور خرچ کرنا تھی جب محکمہ لوکل کونسل سے میری پہلی میٹنگ ہوئی تو پتہ چلا کہدس لاکھ میں سے ہمیں ۹ لاکھ روپے ملیں گے، میں نے وجہ پوچھی تو وہ لوگ مجھے گھورنے لگے تو ان میں سے سیکریٹری لوکل کونسل نے کہا کوئی بات نہیں چوہدری صاحب ابھی نئے ہیں میں ان کو سمجھا دوں گا آپ بس کام کا حکم نامہ جاری کر دیں (ورک آرڈر) بعد میں سیکریٹری مجھے الگ لے گیا اور سمجھایا کہ نہ صرف لوکل کونسل کے محکمہ میں بلکہ ترقیاتی کام کرنے والے تمام محکمہ جات میں یہ روایت ہے کہ کسی بھی سکیم کا دس فیصد محکمہ لیتا ہے تب جاکر کام کو جاری کرنے کا حکم نامہ جاری ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد کام کو پاس کرنے کے بھی کچھ دام ہوتے ہیں اگر میں نے عوام کی نمائندگی کرنی ہے اور آگے بڑھنا ہے تو مجھے یہ سب قبول کرنا ہوگا بلکہ محکمہ والوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنا ہو گی۔ اس طرح میں ناقص کام کروا کر اپنے لیے بھی کچھ پیسے بچا سکتا ہوں۔ پھر جاکر مجھے سمجھ آئی اور میں نے سب کچھ بخوشی قبول کر لیا اور پھر اس کے بعد میں بھی علاقے کا پینچ بن گیا پھر آہستہ آہستہ میں بڑا ٹھیکیدار بن گیا اور محکمانہ اصولوں پر چلتے ہوئے ترقی کی منازل طے کرنے لگ گیا۔ لاکھوں سے کروڑوں کے ٹھیکے لینے لگا۔

آپ جس محکمہ سے بھی ٹھیکے لینا چاہیں اس میں کچھ دے دلا کر خود کو رجسٹر کروائیں اور پھر جب کسی کام کے ٹھیکے کو مشتہر کیا جائے تو اس کے لیے بنک سے ایک کال ڈیپازٹ بنوائیں، اب آپ پوچھیں گے کہ یہ کال ڈیپازٹ کیا ہوتی ہے تومیں بتا دیتا ہوں یہ وہ زر ضمانت ہوتی ہے کہ آپ واقعی ذمہ دار ہیں اور ٹھیکہ لینا چاہتے ہیں تو اس کام کی کل مالیت کا دو فیصد آپ کو محکمہ کے نام کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ٹینڈر ڈالنے کے وقت مقررہ پر محکمہ کے دفتر پہنچیں اور پھر سودے بازی میں شامل ہو جائیں وہ ایسے کہ اس کام کی کل مالیت اگردس کروڑ ہے تو آپکے پاس دولاکھ کی ڈیپازٹ ہوگی اور کام کا ریٹ مثال کے طور پر تیرہ پیسے روپے فی مکعب فٹ مقرر ہے اگر تو آپ مقابلے میں اپنے اپنے ریٹ کا ٹینڈر ڈالیں گے تو آپ کو کم از کم ریٹ پر کام ملے گا اور ہو سکتا ہے کہ آپ تیرہ پیسے کی بجائے 52پیسے فی مکعب فٹ کا ریٹ دے کر کام حاصل کریں، تو وہاں سودے بازی (محکمہ کی ملی بھگت سے) یہ ہوتی ہے کہ سب ٹھیکیدار آپس میں مل جائیں جسے محکمانہ زبان میں پول کہتے ہیں اور ایک بندہ اس کام کو حاصل کرے اور باقی سب کو اس کال ڈیپازرٹ کے برابر یعنی دو دولاکھ روپے ادا کرے اور اسی کے مطابق ایک حصہ محکمہ کو ادا کرے۔

اب آگے چلتے ہیں پچھلے دنوں میں اپنے ایک عزیز کے ساتھ ایف آئی اے کے تھانے چلا گیا اس پر کسی نے لین دین کے معاملے میں ایف آئی اے تھانہ دیونہ منڈی گجرات میں شکایت کر رکھی تھی باقاعدہ کیس رجسٹر نہیں تھا۔

اب آپ یہ بھی پوچھیں گے کہ یہ ایف آئی اے کیا بلا ہے تو چلو بتائے دیتا ہوں۔ فیڈرل انویسٹیگیشن اتھارٹی یعنی وفاقی ادارہ برائے تفتیش اس ادارے کا بہت رعب ہے اور اس کا نام سنتے ہی بڑے بڑوں کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔

میرے اس عزیز کو تھانے میں حاضر ہونے کا حکم ملا ہوا تھا۔ اس نے مجھ سے بات کی کہ میں بے گناہ ہوں لیکن مجھے ڈر ہے کہ مجھے کہیں بند نہ کر دیں میری ملازمت کو بھی خطرہ ہے میری کچھ مدد کریں۔

میں لاہور تھا میں نے صبحمقررہ وقت پر پہنچنے کا وعدہ کیا اور اگلے دن وقت سے پہلے وہاں پہنچ گیا میرا عزیز پہلے سے وہاں موجود تھا اور اس کے مخالف فریق بھی کچھ دیر بعد آگئے۔

لیکن انسپکٹر صاحب ابھی تک دفتر نہیں پہنچے تھے ہم ان کے دفتر گئے وہاں ان کے ریڈرسے ملاقات ہوئی انہوں نے انسپکٹر صاحب کی غیر موجودگی میں ان کا تعارف اس طرح کروایا کہ آپ ایک باریش اور انتہائی دین دار اور ایماندار شخصیت ہیں رشوت کا تو تصور بھی نہ کریں۔

انسپکٹر صاحب اپنی ڈیوٹی کے وقت میں سے آدھا وقت عبادت میں گزارتے ہیں اور تھانہ کے ساتھ ہی ایک چھوٹی مسجد ہے موصوف کا زیادہ وقت اسی مسجد میں گزرتا ہے اور سائلین ان کا انتظار کرتے ہوئے تھانہ کا طواف کرتے ہیں اور زیادہ عقل مند سائلین اس دوران ریڈرسے اپنا معاملہ طے بھی کر لیتے ہیں۔

ہم بھی ان کے انتظار میں بیٹھ گئے اور جناب انسپکٹر صاحب تاخیر سے تشریف لائے اس وقفہ میں ان کے ریڈر صاحب نے پہلے اشاروں کنایوں میں کئی بار ہم سے پیسے مانگے اور پھر ہمیں بدھو سمجھ کر کہنے لگے بھئی ہماری کچھ خدمت کرو تاکہ ہم انسپکٹرصاحب سے آپکی سفارش کریں۔

ورنہ آپکو مخالف فریق کی بہت بڑی رقم ادا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کیونکہ انسپکٹر صاحب بہت ہی سخت ہیں۔ میرے عزیز جو ملزم ٹھہرے تھے وہ بھی اس انسپکٹر کی طرح باریش تھے میں ان سے کوئی توقع نہیں کر سکتا تھا کیونکہ(رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں) خیر میں نے خود قربانی دی اور ان کو کچھ رشوت دے دی لیکن وہ خوش نہ ہوئے۔

پھر انسپکٹر صاحب کے سامنے پیش ہوئے ہم سے پہلے ایک اور مقدمہ کے فریق پیش ہو چکے تھے اب دونوں مقدمات میں انسپکٹر صاحب نے اپنے ریڈر سے رائے مانگی کہ کس کی کتنی غلطی ہے ہمارے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ کچھ کچھ دونوں جھوٹے ہیں لیکن میرے عزیز کو گنہگار بھی ٹھہرایا گیا۔ اب انسپکٹر صاحب وہی بات کر رہے تھے جو ان کے دفتر کے لوگوں کی سفارش تھی۔

اس کے بعد باقی لوگوں کو مزید انتظار کا کہہ کر اور ہمیں آپس میں متفق ہونے کا کہہ کر وہ مسجد تشریف لے گئے۔ اس کے بعد میں نے مخالف فریق کو باہر لان میں بلایا اور ان سے بات پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آپکے عزیز نے ہماری رقم نہیں کھائی لیکن ہم نے اس کے ہاتھ میں رقم دی تھی جو اس نے آگے کسی اور کو دی اور ہمیں دوبئی کا ویزہ دلایا لیکن چند ہی ماہ میں دوبئی کی کمپنی ختم ہونے کے سبب میرا بیٹا واپس آگیا۔

اب ہم بات کر رہے تھے کہ یہاں سے وقت لیکر واپس گھر جاتے ہیں اور آپس میں معاملہ طے کر لیں گے۔ اسی اثناء میں ریڈر صاحب ہمارے قریب آئے ایک طرف ہو کر ہمیں سمجھانے لگے کہ آپ ہمارے ساتھ مک مکا کر لو ورنہ کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔

میں نے وعدہ کیا کہ ہمیں وقت دو ہم آپس میں معاملہ طے کر لیں گے لیکن مجھے کہا گیا کہ ایسا بالکل نہ کرنا آپ جو بھی دینا چاہتے ہیں آج یا اگلی بار ہمیں دے دینا باقی سب ہم ٹھیک کر لیں گے اور اگر آپ کو وقت چاہیے تو ہماری مزید خدمت کی جائے۔ خیر ہم نے کسی طرح ان سے مہلت لے لی۔

پھر ایک گھنٹے کے بعد انسپکٹر صاحب عبادت سے واپس آئے تو میں نے عرض کی کہ جناب ہمیں کچھ وقت دیا جائے میں یہ معاملہ طے کر کے آپکے پاس حاضر کروا دوں گا۔ پھر انسپکٹر صاحب نے سوالیہ نظروں سے اپنے کارندوں کی طرف دیکھا تو انہوں بادل نخواستہ کہا کہ ٹھیک ہے اس کے بعد آفس بوائے باہر تک میرے ساتھ آیا اور تاکید کی کہ مخالف فریق کو کچھ نہیں دینا جو دینا ہے آکر انسپکٹر صاحب کو دے دینا ورنہ آپ کا کیس ختم نہیں ہو گا۔

یہ تو کچھ واقعات تھے اصل میں پورا پاکستان کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے اور جہاں جس کو جتنا موقع ملتا ہے وہ اتنا ہی لوٹتا ہے اور ہر کوئی پروٹوکول کی دوڑ میں سب سے آگے نکلنے کو کوشش میں لگا ہوا ہے۔ تو پھر میں سوچتا ہوں کہ مجھے اور سب کرپٹ لوگوں کو کیوں نہیں نکالا؟

ان سب کو کون نکالے گا؟ اس ملک کا ہر محکمہ 10فیصد تو پہلے مرحلے میں ہی لے جاتا ہے اور بعد میں تو 50فیصد تک بھی چلے جاتے ہیں تو پھر صرف آصف علی زرداری ہی کو مسٹر ٹین پرسنٹکا اعزاز کس طرح حاصل ہے۔

پھر میاں نواز شریف صاحب سچے رو رہے ہیں کہ " مجھے کیوں نکالا " اگر نکالنا ہے تو میرے سمیت سب کو نکالا جائے نا ! لیکن اس طرح تو شاید سارا ملک خالی ہو جائے۔

ویسے میں سوچتا ہوں کہ " مجھے کیوں نہیں نکالا "

مزید : رائے /کالم