ارب کے بلاسود قرضے 18.5 لاکھ خاندانوں میں تقسیم

ارب کے بلاسود قرضے 18.5 لاکھ خاندانوں میں تقسیم
ارب کے بلاسود قرضے 18.5 لاکھ خاندانوں میں تقسیم

  

پنجاب حکومت کی اولین ترجیح عوام کی معاشی بحالی اور خوشحالی ہے۔ مربوط حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں دیہی و شہری علاقوں میں غربت ،بیروزگاری میں کمی ہوئی ہے۔

شہبازشریف نے بادشاہی مسجد میں ’’وزیر اعلیٰ خودروزگار سکیم‘‘ کے تحت بلاسود قرضوں کی تقسیم کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’وزیراعلیٰ خود روزگار سکیم‘‘ حکومت پنجاب کا ایک ایسا انقلابی پروگرام ہے، جو ملک سے غربت، بے روزگاری اور امیر و غریب کے درمیان خلیج کم کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت گزشتہ 6 سال میں 40 ارب روپے کے بلاسود قرضے 18 لاکھ 50 ہزار خاندانوں میں تقسیم کئے جاچکے ہیں، جن سے سوا کروڑ افراد مستفید ہوئے ہیں۔ ان قرضوں کی واپسی بھی 99.9 فیصد ہے۔ صوبے بھر میں 25 ہزار گھرانوں کو 60کروڑ روپے سے زائد کے بلا سود قرضے دیئے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایک طرف یہ عظیم پاکستانی ہیں، جنہوں نے قرضے حاصل کرکے واپس بھی کئے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ بڑے بڑے تمن دار ہیں، جنہوں نے مرسڈیز گاڑیاں، فیکٹریاں، عالی شان محلات اور عہدے رکھنے کے باوجود سفارش اور رشوت کے ذریعے سیاسی بنیادوں پر اربوں کھربوں روپے کے قرضے معاف کرائے ہیں۔

مَیں سلام پیش کرتا ہوں ان عظیم پاکستانیوں کو جنہوں نے اس سکیم کے تحت بلاسود قرضے حاصل کئے اور امانت اور دیانت کے ساتھ استعمال کرکے واپس کئے ہیں۔ سرکاری ملازمتوں سے بے روزگاری کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔

بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے معاشی پہئے کو تیز کرنا ہوگا۔ زراعت اور صنعت کو فروغ دینا ہوگا اور چھوٹے قرضوں کے پروگراموں کو آگے بڑھانا ہوگا۔ کراچی سے لے کر پشاور تک بڑے بڑے لوگوں نے سیاسی بنیادوں پر اربوں ، کھربوں روپے کے قرضے معاف کرائے اور یہ اشرافیہ کہلاتے ہیں۔

قائد اور اقبال کی یہ سوچ نہیں تھی اور نہ ہی انہوں نے ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا، جہاں غریب قوم کی محنت کی کمائی پر ہاتھ صاف کئے جائیں۔

پنجاب حکومت نے امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لئے بے مثال اقدامات کئے ہیں۔ بقول وزیر اعلیٰ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں دوبارہ خدمت کا موقع دیا تو بلاسود قرضوں کا پروگرام پاکستان کی تمام اکائیوں میں شروع کریں گے۔

عالی شان کوٹھیاں اور فیکٹریاں رکھنے والے تمن داروں نے سیاسی بنیادوں پر قرضے معاف کراکے پاکستان کو کنگال کیا۔ یہ کوئی رام کہانی نہیں، بلکہ سب کچھ عوام کی آنکھوں کے سامنے ہوا ہے۔

ملک سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے استحکام ضروری ہے۔ پاکستان افراتفری اور انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انتشار اور افراتفری ملک کے لئے زہر قاتل ہے، اگر اسے آگے بڑھایا گیا تو خدانخواستہ ہر چیز ملیامیٹ ہو جائے گی اور پاکستان اس کا کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتا۔

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آئندہ الیکشن میں عوام کی خدمت کا موقع دیا تو بلا سود قرضوں کے لئے آئندہ مالی سال میں چار ارب روپے کا اضافہ کیا جائے گااور بلا سود قرضے کی زیادہ سے زیادہ حد کو 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 75 ہزار روپے کر دیا جائے گا۔

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے نیلسن جان نے بتایا کہ اسے بے حد کمزور مالی حالات سے گزرنا پڑا، حتیٰ کہ فاقوں کے دن بھی دیکھنا پڑے۔ خود روزگار سکیم کے تحت قرضے کے لئے اپلائی کیا۔

مجھے اس وقت بے حد خوشی اور حیرت ہوئی، جب مجھے مسیحی برادری سے تعلق ہونے کے باوجود قرضے کا اہل سمجھا گیا اور بلا سود 10 ہزار روپے قرض ملا۔ مَیں نے اسے اسلام میں سچائی اور اخلاص کا نتیجہ اخذ کیا۔ وزیر اعلیٰ کو دعائیں دیتا ہوں، جن کی سکیم کی بدولت فاقہ مستی کا شکار زندگی خوشی اور خوشحالی میں بدل گئی۔خاتون شاہدہ نے گلوگیر لہجے میں بتایا کہ والدین کی بچپن میں وفات کے بعد خالہ نے پالا۔

شادی کے بعد بے شمار مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ خود روزگار کے تحت 20 ہزار روپے کا قرضہ لے کر گھر میں کام شروع کیا۔ مجھے قرضے کی واپسی کے لئے کبھی کسی نے تنگ نہیں کیا۔

سہیل اکبر نے بتایا کہ پانچ بیٹیوں پر مشتمل گھرانہ پالنے کے لئے یا تو مَیں بھیک مانگتا یا پھر ہمت کر کے باعزت روزگار کمانے کی کوشش کرتا۔ مَیں نے 15 ہزار روپے کا بلا سود قرضہ لے کر موبائل ریچارج، ایزی پیسہ اور بیٹری چارج کے چھوٹے سے کام سے اپنی کاروباری زندگی کا آغاز کیا۔

صوبائی وزراء رانا ثنااللہ ، ملک ندیم کامران، مجتبیٰ شجاع الرحمن، عائشہ غوث پاشا، منشاء اللہ بٹ، دیگر وزراء ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، سرکاری افسران، اخوت کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب اور لوگو ں کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔

حکومت کا یہ ایک احسن اقدام ہے اور اس سے عوام کو بغیر کسی سود کے اپنا کاروبار کرکے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع ملے گا،جس کے لئے نوجوان نسل حکومت کی شکر گزار ہے۔

حکومت کی جانب سے کاروبار کے لئے بلاسود قرضے فراہم کرنا مستحق اور غریب افراد کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کی جانب ایک احسن قدم ہے۔ بلا سود قرضوں کی بدولت آپ اپنا کاروبار شروع کرکے نہ صرف خوداپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے، بلکہ دوسرے مستحق افراد بھی آپ سے مستفید ہوں گے۔

ضرورت مند افراد کو دیئے گئے قرضوں کی رقم کو اپنے ذاتی کاروبارکے لئے استعمال کرتے ہوئے لوگ خود بھی مستفیدہوسکتے ہیں اوراپنے کاروبار کے ذریعے دیگرضرورت مند لوگوں کے لئے روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم