پاکستان میں عزت و ناموس اور چائلڈ پروٹیکشن: ذمہ دار کون؟

پاکستان میں عزت و ناموس اور چائلڈ پروٹیکشن: ذمہ دار کون؟
 پاکستان میں عزت و ناموس اور چائلڈ پروٹیکشن: ذمہ دار کون؟

  

پاکستان میں افراتفری صرف سیاست میں نہیں ۔پورے نظام میں ہے۔ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہوئے اور کامیابی بھی حاصل کی۔ ہم اپنے اداروں اور مسلح افواج پر مکمل اعتماد بھی کرتے ہیں۔

لیکن اسٹریٹ کرائم ، جرگوں کے فیصلے کاروکاری اور وڈیروں کے فیصلوں کے نتیجے میں خواتین کی حرمت کی پامالی آج بھی ملک میں سوالیہ نشان ہے۔

بچوں کے ساتھ جنسی تشدد اور انہیں ہلاک کرنے کا عمل جس تیزی سے بڑھ رہا ہے، وہ بھی الارمنگ ہے۔ زینب کا واقعہ ہو یا مردان کی بچی عاصمہ کا،اساتذہ کے تشدد سے بچے کی ہلاکت کا معاملہ یا ماورائے عدالت قتل یہ تمام محرکات ملک کا امیج خراب کرنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ اسلامی معاشرہ میں یہ سب ہونا خود ایک سوال ہے۔

لیکن بے حسی سے روا رکھی جانے یہ روایتیں ہماری حکومتوں ، اداروں اور سوشل اداروں کا صرف پوائنٹ اسکورنگ کا رویہ مسئلہ کا جاندار حل اور اسکے سدباب کے لئے ٹھوس اقدامات آج بھی اچنبھے کی کیفیت میں ہیں ۔

ایک طرف تو انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں اور دوسری جانب موثر اقدامات کے ذریعے بیخ کنی کی مکمل کوششیں ضروری ہیں۔ مدرسوں اور تعلیمی اداروں میں طالب علموں پر تشدد کرنے والوں کو سزائیں دینے کی ضرورت ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل عطا کر کے اشرف المخلوقات بنا دیا،اس عقل کے باوجود اگر انسان کا دل پتھر بن جائے اس کا ضمیر مردہ ہو جائے یا کسی نے اپنی انسانیت کا گلا گھونٹ رکھا ہے یا دکھاوے کے لئے محض انسان کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے توا ندر سے وہ کیا ہے یہ تو ا س کی فطرت ہی بتا سکتی ہے۔

اگر ہم اپنے ملک پاکستان اور ہمسایہ ملک ہندوستان کے تناظر میں دیکھیں تو صورتحال کچھ عجیب و غریب ہے۔ہمسایہ ملک میں آئے روز ایسے واقعات دیکھنے اور سننے میں آتے ہیں کہ کسی کمزور لڑکی یا عورت کو وحشت کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس میں عمر کی کوئی تخصیص نہیں یہاں تک کے معصومیت کا لحاظ بھی بھول جاتے ہیں ،ہندوستان ہی کاا یک واقعہ ، ایک لڑکی بس میں اپنی ماں اور بھائی کے ساتھ سفر کر رہی تھی چند شقی القلب افرادجب بس کو خالی دیکھتے ہیں تو بچے اور ماں کو سڑک پر پھینک دیتے ہیں، اور لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر چلتی بس سے باہر دھکا دے دیتے ہیں ،ایک امریکی خاتون صحافی اپنے فرائض ادا کرنے ہندوستان آتی ہے لیکن چھیڑ چھاڑ اور ماحول سے تنگ آکروقت سے پہلے ہی اپنا دورہ مختصر کر کے واپس چلی جاتی ہے ،یہ صرف چند واقعات ہیں ایسے بے شمار واقعات وہاں روزانہ کی بنیا د پر وقوع پذیر ہو تے ہیں۔اسی طرح پاک لوگوں کی دھرتی پاکستان میں بھی صورت حال کچھ زیادہ مختلف نہیں،معصوم بچیاں گھروں سے نکلتی ہیں اور درندوں کے چنگل میں پھنس جاتی ہیں۔

پنجاب اور سندھ کے دیہی علاقوں میں مرد اپنی دشمنی نکالنے کے لئے دشمن کی عورت کو بے عزت کرنا جائز سمجھتے ہیں ، ایسے تمام واقعات میں پولیس اپنے روایتی طریقہ سے تفتیش کرتی ہے

اگر کسی کے گلے میں پھندا فٹ نہ آئے تو فائل داخل دفتر کردی جاتی ہے۔ قصور میں جس گھناؤنے جرم کا انکشاف پچھلے سال ہوا تھا اس گونج کا اثر آج بھی برقرار ہے،حالیہ دنوں میں قصور میں پھر سے چند انسان نما درندوں نے معصوم بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر ابدی نیند سلا دیا ۔

یہ واقعہ نہ تو آج کا ہے اور نہ ہی کسی ایک بچی کے ساتھ پیش آنے والا بلکہ آئے دن کی داستان ہے جن میں بہت سی معصوم جانیں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں ،یہ صرف ایک دو بچیوں کی داستان نہیں ہے بلکہ گاؤں گاؤں اور محلے محلے کی کہانی ہے۔کرائم ریٹ اتنا بڑھ چکا ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ میں صرف ضلع قصور میں زیادتی کے بعدقتل کا بارہواں واقعہ ہے۔

بے شمار واقعات جنھیں ہم اپنی عادت کے مطابق بھلا دیتے ہیں اور انسان نما درندے دن بدن اپنا جال پھیلانے میں کامیا ب ہوتے جارہے ہیں اور ہر روز کوئی طوبیٰ اور کوئی زینب ان درندوں کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔

بس ان تمام بچیوں میں اور زینب میں فرق بس اتنا تھا کہ نہ تو انکے لئے سوشل میڈیاپر آواز بلند کرنے والاکوئی تھا، اور نہ انہیں پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کی اس حد تک کوریج مل سکی کہ آرمی چیف کربناک مو ت پر چونکتے یا چیف جسٹس از خود نوٹس لیتے ورنہ یہ تمام پھول وہ تھے کہ جو کلی بننے سے پہلے ہی مسل دیے گئے، یہ سب وہ تتلیاں تھیں کہ جنھوں نے ابھی اپنی زندگی کی اڑان تک نہ بھری تھی، قصور میں 2006ء سے 2014ء تک جنسی زیادتی کا کار وبار اتنا عروج پر رہا کہ پاکستان کی تاریخ کا اب تک کا سنگین ترین جنسی سکینڈل کہلایا،اس سکینڈل کا شکار بننے والوں میں95فیصد بچے شامل ہیں۔

معصوم بچیاں بھی ہوس کی بھینٹ چڑھیں تواس کا بھی کوئی جواز ہے !عام طور پر زیادتی کا شکار ہونے والی بچیاں انہی درندوں کے ہاتھوں مار دی جاتی ہیں اور جو ذرا ہمت کر کے اپنے والدین کے ساتھ کورٹ کچہری تک پہنچ بھی جائیں تو وکلاء کے سوالات انہیں زمیں میں زندہ دفن ہو جانے پر مجبور کر دیتے ہیں ،بجا ئے اسکے کہ پاکستان پینل کوڈ کے تحت بچوں کے ساتھ بد فعلی کے مجرموں کو جرمانہ کے ساتھ ساتھ عمر قید کی سزا کا حکم دے مگر سوال تو یہ ہے کہ یہ سزائیں دے گا کون؟وہ عدالتیں جن پر دن میں دو ڈھائی سو کیسز سننے کا بوجھ ہے؟؟وہ حکمران جو حکومت بچانے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں؟؟ و ہ اپوزیشن جودلوں کے بجائے پاکستان پرحکومت کے خواب دیکھتی ہو؟؟یا ایک وہ عام پاکستانی جو اپنی بہن بیٹی کی ساکھ کی حفاظت کے لئے فکرمند رہتا ہے، ہماری پوری قوم سے یہ گزارش ہے کہ ہم تمام برائیوں کے خاتمے کے لئے خود بھی ہر اول دستہ بنیں۔ ادارے بڑے سے بڑے گناہ گار کو کٹہرے میں لائیں۔

مزید : رائے /کالم