نامور فنکار قاضی واجد بھی داغِ مفارقت دے گئے

نامور فنکار قاضی واجد بھی داغِ مفارقت دے گئے

ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے انتہائی باصلاحیت اور نامور فنکار قاضی واجد بھی 87 سال کی عمر میں داغِ مفارقت دے گئے۔ اتنی عمر ہونے کے باوجود انہیں کوئی مستقل بیماری نہیں تھی اور وہ نارمل زندگی گزار رہے تھے۔ پہلی بار دل کا دورہ پڑا، ہسپتال لے جاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ قاضی واجد 1930ء میں لاہور میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی بعدازاں اُن کا خاندان کراچی شفٹ ہوا تو انہوں نے ریڈیو پاکستان کراچی کے سٹاف آرٹسٹ کی حیثیت سے اپنی فنکارانہ زندگی کا آغاز کیا۔ بچوں کے سیریل ’’نونہال‘‘ سے شہرت ملی۔ بعدازاں انہیں ’’حامد میاں کے ہاں‘‘ سے بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ شوکت تھانوں نے خاص طور پر قاضی واجد کے لئے ایک ڈرامہ ’’ قاضی جی اور وغیرہ وغیرہ‘‘ لکھا، اس کردار سے بھی وہ بہت مشہور ہوگئے۔ پھر جب ٹیلیوژن سکرین سے وابستہ ہوئے تو قاضی واجد اپنی غیر معمولی فنکارانہ صلاحیتوں سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگے۔ ’’ خدا کی بستی‘‘ سے لیکر ’’تنہائیاں‘‘ تک انہوں نے جس ڈرامے میں کام کیا، اپنی بے حد متاثر کن اور فطری اداکاری کے سبب بہت نام کمایا۔ وہ اپنے کردارمیں اس قدر ڈوب جاتے تھے کہ دیکھنے والوں کو حقیقت کا گمان ہوتا تھا۔ ریڈیو اور ٹیلیوژن ڈراموں کو عروج پر پہنچانے اور برصغیر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے فنکاروں میں قاضی واجدسرفہرست تھے۔ حکومت پاکستان نے 1988ء میں انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ وہ ایسے فنکار تھے، جن کا اوڑھنا بچھونا اداکاری ہوا کرتی تھی۔ مکالموں کی اعلیٰ ادائیگی اور چہرے کے تاثرات سے وہ اپنے کردار میں جان ڈال دیتے تھے۔ اپنے ساتھی فنکاروں میں اپنی خوش اخلاقی اور سادگی کے باعث بہت مقبول تھے۔ نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کیا کرتے تھے۔ جونیئر آرٹسٹوں کو وہ سخت محنت اور وقت کی پابندی کی تلقین کیا کرتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد وہ اس قدر مصروف ہوگئے کہ لاہور میں آکر انہیں چند ہفتے گزارنے کا موقع بھی نہ ملا۔ جب اُن سے پوچھا جاتا کہ لاہور کی یاد نہیں آتی؟ وہ ایک آہ بھر کر جواب دیتے تھے کہ کئی باربہت جی چاہتا ہے کہ لاہور جاکر اپنے بچپن اور لڑکپن کی یادوں کو تازہ کروں، مگر اتنی فرصت ہی نہیں ملتی۔ چنانچہ جب کسی ڈرامے یا ثقافتی تقریب کے لئے لاہور جاتا ہوں تو اسی کو غنیمت سمجھتا ہوں۔ فن کے لئے قاضی واجد کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ تقریباً 70سال تک ریڈیو، ٹی وی ڈراموں کے علاوہ انہوں نے کچھ فلموں میں بھی کام کیا اور اعلیٰ فن کارکی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے رہے۔ اُن کی اچانک وفات سے بلاشبہ اُن کے لواحقین دوست احباب اور پرستاروں کو بہت صدمہ پہنچا ہے۔ اُن کی یادیں طویل عرصے تک دلوں کو گرماتی رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت کرتے ہوئے پسماندگان اورپرستاروں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے(آمین)

مزید : رائے /اداریہ