زین اَب

زین اَب

نام رکھتے ہوئے اس کے بزرگوں نے بڑے ارمانوں سے اس کا نام زینب (زین اب) رکھا کہ اپنے باپ کی زینت کہلائے ،مگر کچرے کے ڈھیر سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق سات سال کی اس پھول سی بچی کے ساتھ بہیمانہ زیادتی کی گئی اور پھر اسے گلا گھونٹ کر زندگی سے محروم کر دیا گیا۔۔۔ پہلی ویڈیو میں دیکھا کہ انسانی رشتوں پر بھروسہ کے ساتھ وہ بچی معاشرے کی انگلی پکڑے سڑک پر خوش خوش جا رہی ہے۔

پورا شہر ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا دکھائی دیا۔لوگ غلط کہتے ہیں کہ لاش احتجاج نہیں کرتی۔زینب کی لاش تو تدفین کے بعد دفن نہیں ہوئی ۔یہ مظلوم لاش اس وقت تک ہوا میں معلق رہے گئی، جب تک میزان قائم نہیں ہوتا۔ نہ جانے یہ میزان کب لگے گا۔

محصور حکومت کے محکوم اداروں کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ اپنی ذات کے بھنور سے نکل سکیں۔ جب عدالت خود بطور مستغیث عدل ڈھونڈتی دکھائی دے ،ناکام پولیس خود قتل کرنے پر مجبورہو۔

بے لگام میڈیا کا خبر کی سنسنی خیزیت پر اتنا کاروباری انحصار ہو کہ "خبر"بنانی پڑے ۔انتخابی مستقبل کے دلدل میں پھنسی پارلیمنٹ ہو اور نظریئے سے بے نیاز سیاست ذاتی مفاد ات کی قیدی ہو اس تعطل میں زینب کی چیخیں کون سُنے گا؟

یہ سرمایہ پرست ادارے لاشوں کی مارکیٹنگ کے ہنر میں تو مہارت رکھتے ہیں مگر اس سوال کا جواب نہیں دے سکے کہ ایک اسلامی ریاست کہلانے کی مدعی ریاست میں اس قدر گھناؤنے جرائم میں ہولناک اضافہ کیسے ممکن ہوا؟

کہیں کسی جعلی بدبودار نظام کو چھپانے کے لئے اسلام کا لیبل تو استعمال نہیں کیا جا رہا۔دکھاوے کے ریاستی فرمان کی بے چارگی دیکھی نہیں جاتی۔ قانون کی حکمرانی بھی کرپشن کے کچرے سے ڈھانپی زینب ہی کی لاش لگتی ہے۔

جب ریاست عوام کوترقی اور بہبود مہیا کرنے کی بجائے،اپنے تمام وسائل حکمران اقلیت کے پاس گروی رکھ دے اور ایک عام شہری کی جان،مال اور عزت کے تحفظ کی ضمانت نہ دے سکے تو خود ریاست کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔

زینب ایک اکیلی بچی نہیں جو کسی جنگل میں درندوں میں پھنس گئی تھی، بلکہ زینب اسلامی تہذیب کے پرچارک ملک میں امان مانگتی ہے۔

اس سچ کو تسلیم کرنا حقیقت پسندی ہو گی کہ ہمارے معاشرے میں کوئی بنیادی خرابی ہے اور کوئی غیر جانبدارانہ تجزیہ کرے تو ہمارے معاشرے کی بنیادی صفات تشّدد اور منافقت ہی ہیں،جن سے معاشرتی بحران پیدا ہوا۔ زینب اس معاشرتی بحران کی علامت ہے۔ہر زینب ریاست سے پوچھتی ہے کہ کیا میں گھر کی دہلیز سے باہر آ سکتی ہوں۔زینب کس پر بھروسہ کرے سماجی رشتے ٹوٹ رہے ہوں تو ہر زینب اکیلی اور بے سہارا ہو جاتی ہے۔

چودھری اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ ’’ریاست ہو ماں کے جیسی‘‘۔ یہ ریاست کیسی ماں ہے، جس کی گود میں گناہ سے نا آشنا بچوں کو بھی پناہ نہیں مل سکتی۔کمزور،معصوم بچہ کس کی انگلی پکڑ کر زندگی کی خار دار راہ کو عبور کرے گا ۔کسی ڈراؤنے تجربے سے گزرنے والا بچہ زندہ بچ بھی جائے تو پھر بھی پوری زندگی اذیت ناک خوف میں گزارے گا۔

حکومتی ترجمان۔۔۔مریم اورنگ زیب نے زینب کے واقعہ سے متاثر ہو کر تجویز دی ہے کہ نصاب میں بچوں کو ایک مضمون پڑھایا جائے جس کے ذریعے انہیں تعلیم دی جائے کہ جو سب کچھ ٹھیک نظر آتا ہے۔

در حقیقت ٹھیک نہیں ہے۔اور پورا سماجی ماحول جعلی ہے۔اُسے سمجھایا جائے کہ ہر نزدیک آنے والا ولن ہو سکتا ہے سہمے ہوئے بچوں کو پڑھایا جائے کہ وہ قلعہ بند رہیں نہ جانے کون ڈریکولا ہو ۔

ہر ایک پہ شک کر نے والا بچہ اور برائی کی جارحیت کی توقع رکھنے والا بچہ ہمیشہ ربط باہم اور معاشرتی اثبات سے محروم ہی رہے گا ۔اس کے معاشرتی بندھن کمزور ہوں گے اور سماج دشمنی اس کے لئے بہت آسان ہو گی ۔

بڑا ہو کر بھی وہ سماجی اشتراک اور اجتماعی جدو جہد میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہو گا۔ہر تعلیمی نصاب دھرتی سے فصل کی طرح اُگتا ہے اور ماحول کو تشکیل دیتا ہے، اس لئے خوف میں نصب ، نصاب بیمار ذہنیت اور مسخ شدہ شخصیت پیدا کرے گا۔

جدید ریسرچ تویہاں تک کہتی ہے کہ مائیں بچوں کو کسی کام پر آمادہ کرنے کے لئے کسی خیالی بلا سے بھی نہ ڈرائیں کیوں کہ وہی خیالی بَلا ’’ہاؤ‘‘ اس کے لاشعور میں شکلیں بدل بدل کر آتی ہی رہے گی۔ چھوٹے بچوں کو نصابی تعلیم کے ذریعے سمجھانے کی بجائے والدین اور نزدیکی رشتہ داروں کو سمجھانا زیادہ بہتر ہے،بلکہ بیمار معاشرے کا علاج سوچا جائے۔

سب سے بڑھ کر ’’محلّے‘‘کی اس اکائی کو دوبارہ زندہ کرنا بہت مفید ہو گا، جسے ہم نے بتدریج ختم کر دیا ہے۔ آپ یاد کریں کسی زمانے میں محلہ داری نظام کیسے مشترکہ مسائل پر محکم اشتراک عمل پیدا کیاکرتا تھا،جو اب ختم ہو گیا ہے۔یہاں تک کہ مقتدر طبقے بلدیاتی نظام سے بھی بدکتے ہیں۔

مسلمانوں کے مطلق العنان بادشاہوں نے ’’مواخات‘‘ کے قابل تقلید تصور کو اپنے نظام جبرکادشمن سمجھا ۔کاش آج بھی مواخات کی روشنی میں معاشرے کی بنیادی اکائی کا احیاء ہو سکتا تو ہر محلہ تحفظ کا قلعہ بن جاتا۔ مواخات تو ناقابل تصور سہی۔

محلہ بھی گُم کردیا آخر کار خاندان کی چار دیواری بھی قائم نہ رہی۔افسوس یہ ہے کہ اس ٹوٹ پھوٹ کا تماشہ ریاست دیکھتی رہی، لیکن اس کا متبادل مہیا نہ کر سکی،حتیٰ کہ عدالتوں کے احکام کے باوجود بلدیاتی نظام لاوارث بے وسیلہ اور محتاج ہی رہا۔جب تمام سماجی رشتے کمزور ہو جائیں تو اجنبیت گھروں میں گھر کر لے گی۔اس اجنبیت نے ہر گھر کو تنہا کر دیا ہے،بلکہ ہر گھر کا ہر فرد تنہا مشینوں کے سہارے ڈھونڈتا پھرتا ہے۔

مشین اپنی ساری افادیت کے باوجود انسان کا متبادل نہیں بن سکتی۔تنہائی نے جرم کے امکانات بڑھا دیے ہیں۔جرم کا درندہ گھر میں گھس آیا:

اس نفسا نفسی میں ہر زینب اکیلی ہے

سارا مسئلہ دراصل انفرادی تحفظ کا مسئلہ ہے۔خاندان کمائی کے دھندوں میں مصروف۔ محلہ کی دخل اندازی آج بے محل ٹھہری۔ ریاست،سیاست میں گم۔ہر ایک پر اعتماد کرنے والی معصوم زینب کا تحفظ کون کرے گا، کسی زمانے میں لوگ کہا کرتے تھے ’’خدا دیکھ رہا ہے‘‘۔

پھر سماج کی تنظیم بدلی اور ایک جھجک گناہ کا ہاتھ روکنے لگی تو ایسے جملے ہوا میں پھیلنے لگے’’کوئی دیکھ نہ لے‘‘۔’’کوئی آ نہ جائے‘‘۔آج کل وہ سماجی سنسر بھی ختم ہو گیا۔اب جگہ جگہ لکھا ہوتا ہے’’کیمرہ دیکھ رہا ہے‘‘۔لوڈ شیڈنگ میں کیمرہ نہیں دیکھتا۔ کیمرے کا متعین زاویہ ، مکمل منظرنہیں دکھا سکتا۔

زینب کے کیس میں تین ویڈیو زمنظر عام پر لائی گئیں۔ہر ویڈیو،مُصرہے کہ دوسری ویڈیو کو مشکوک ثابت کردے۔مقامی تھانہ کی اتھارٹی محلے کے ترغیبی ڈسپلن کا متبادل نہیں۔

پولیس کی تعداد بڑھانے سے عام شہری کو یقینی تحفظ مہیا نہیں کیا جاسکتا۔سماجی شکست و ریخت کی نشاندہی، مسلسل جنسی جرائم میں اضافہ سماجی توڑ پھوڑ کو ظاہر کرتا ہے۔ایک ہی نوعیت کی وارداتوں میں زینب کابارھواں کیس ہے۔

قصور ہی میں حسین خان والا میں 2015ء میں دو سو بچوں کے ساتھ ریپ کی ویڈیو ز بنائی گئیں۔جو مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔مگر وہ کیس ہی سموگ میں کھو گیا۔میڈیا پرمجرمانہ خاموشی چھا گئی۔صرف قصور نہیں، بلکہ ہر شہر میں شہریت کا ریپ ہو رہا ہے۔

گھر والے ایسے جرم پر پردے ڈال کر اپنی عزت بچاتے ہیں۔ تقریباً 1764کیس جنوری سے جون 2017ء کے درمیان درج کرائے گئے۔ جنسی جرائم بے قابو ابہام کا شکار ہیں۔ عدالتیں متضاد فیصلے کرنے پر مجبور ہیں، سماج میں جنسی معاملات میں کہاکچھ جاتا ہے اور کیا کچھ اور جاتا ہے۔

قول وفعل کے تضاد میں اجتماعی منافقت کے خدوخال واضح ہوگئے۔ مختلف متصادم رویئے اپنا لئے گئے، جن سے سماجی اقدار میں دراڑ اتنی بڑھ گی کہ آج اسے پاٹا جانا دُشوار ہو گیا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام ،سرمایہ پرستی میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔اپنی اشیاء کی مارکٹنیگ کے لیے جنس کو بطور آلہ کار استعمال کرنا بالکل جائز مان لیا گیا ہے۔ اشتہار بازی کے ذریعے اجنبی عورت اور مرد، کسی شے کے حصول کی وجہ سے ایک دوسرے کی طرف کھچے چلے جاتے ہیں۔ سحرانگیز اشتہاری اشیاء سماجی اخلاقیات کو منہدم کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔

عورت مرد کے درمیان جنسی بے تکلفی کی بلا جواذ تشہیر خام ذہن میں وہ امیج بناتی ہے،جن کی معاشرہ ثقافتی سطح پر تکذیب کرتا ہے۔راہ چلتے اشتہاری بورڈوں پر اثر انگیز عریاں تصاویر اورذو معنی جملوں میں کھلے عام دعوت گناہ کو فنی کامیابی سمجھا جانا ہے۔خام اذہان پر اس منظم منفی تبلیغ کا اثر گہرا اور مستقل ہوتا ہے۔

معاشرہ اچھائی، برائی کے کچھ اور معیار قائم کر رہا ہے، جبکہ مجرم داخلی سطح پر کچھ اور خواہشات چھپائے پھرتا ہے۔ یہی خاموش شخص جنسی جرم کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں ہے۔ احساسِ گناہ کے بغیروہ معاشرے کی پابندیوں کو توڑنے کے لئے تیار ہو چکا ہے، مگر نہ جرأت رکھتا ہے نہ صلاحیت۔

اس لئے خفیہ منصوبہ بندی کرتا ہے، بلکہ یہ شخص اس وقت مزید خطرناک ہو جاتا ہے، جب وہ ہم خیال لوگوں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے یا پھر سرمایہ اُسے سہارا دے کر جرم کو تفریح میں بدل دیتا ہے۔ وڈیوز بازار میں بکنے لگتی ہیں۔

جنسی طلب بڑھانے والی فحش فلمیں جن میں جنسی جارحیت کو قابل مسرت دکھایا جاتا ہے، جنہیں دیکھنے سے جنسی تعلقات میں تشدد اور زبردستی کو جنسی عمل کا لازمی حصہ قبول کر لیا جاتا ہے۔

پیشہ ور کرداروں پر بنائی گئی، فلمیں کم قیمت پر مل جاتی ہیں لیکن اوریجنل اور حقیقی کرداروں پر بنائی گئی حقیقی فلموں کے منہ مانگے دام ادا کرنے کے لئے تیارگاہک مارکیٹ میں موجود ہیں۔ فلم بنانے والے کاروباری لوگ تو قابلِ مذمت ہیں ہی، لیکن بے تاب خریداروں کی اکثریت کی موجودگی پر کیا کہا جائے۔

اُس سماجی ماحول کا کیا کیا جائے، جس میں طلب و رسد کا توازن قائم ہے۔ منفی انفرادی خواہشیں اجتماعی خواہش میں بدلنے لگتی ہیں اورہر شہر میں معصوم بچے عدم تحفظ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...