نا تجربہ کار سیاسی قائدین

نا تجربہ کار سیاسی قائدین

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کابینہ میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کے ماتحت رہ کر سیاست نہیں کرسکتے۔ مریم نواز کے ماتحت کام نہیں کریں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی وہ اتنے سیاسی یتیم نہیں کہ ا پنے سے جونیئر کو ’سر‘ یا’ میڈم‘ کہتے پھریں ۔

وہ نواز شریف اور شہباز شریف کے ماتحت سیاست کر سکتے ہیں لیکن مریم نواز کے ما تحت کام نہیں کرسکتے۔ نواز شریف کے دیرینہ ساتھی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نواز شریف کی پارٹی قیادت کے معاملے میں غیر یقنی صورت حال اور دیگر سیاسی مسائل کا شکار ہے۔ نواز شریف بہت عرصے سے اپنی صاحبزادی کو سیاسی تربیت دے رہے ہیں۔

مریم، وزیر اعظم ہاؤس میں اتنی با اختیار تصور کی جاتی تھیں جیسے وہ ڈپٹی وزیر اعظم ہوں عام خیال یہ ہے نواز شریف بھی انہیں وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا چلن بھی خوب ہے۔

پھر کہتے ہیں کہ جمہوریت چاہئے۔ کیا پارلیمانی جمہوریت میں ایسا ہی ہوتا ہے جیسا پاکستان میں ہو رہا ہے یا جیسا رواج ڈال دیا گیا ہے یا جیسے سیاسی جماعتوں کو چلایا جارہا ہے۔

اسی دوران ایم کیو ایم سے وابستہ سنیٹر نسرین جلیل کا یہ بیان سامنے آیا کہ ایم کیو ایم میں اب ون مین شو نہیں چلے گا۔ ایم کیو ایم ہی کیا تمام ہی سیاسی جماعتیں ماسوائے جماعت اسلامی، ون مین شو ہی چلا رہی ہیں۔ کیا پیپلز پارٹی میں آصف علی زرداری کی مرضی کے بغیر پتا ہل سکتا ہے؟

کیا مسلم لیگ ن میں نواز شریف اپنی پارٹی کی مجلس عاملہ سے مشاورت کرتے ہیں؟ تحریک انصاف میں فیصلے عمران خان کرتے ہیں اور ماورائے پارٹی آئین کور کمیٹی اس کی تو ثیق کرنے پر با دل نہ خواستہ مجبور ہوتی ہے۔

کیا مسلم لیگ ق میں چوہدری برادران میاں برادران سے مختلف سیاسی رویہ رکھتے ہیں؟ کیا مسلم لیگ ف میں پیر پگارو اپنے سیاسی فیصلوں کی توثیق کراتے ہیں؟ کیا عوامی نیشنل پارٹی میں اسفند یار ولی باقاعدگی سے مجلس عاملہ کے اجلاس کرتے ہیں؟

کیا جمعیت علماء پاکستان ف اور س میں کسی مجلس عاملہ سے مشاورت کرنے کی توقع کی جاسکتی ہے؟ کیا ان پارٹیوں میں نامزدگیوں کی مجلس عاملہ سے عملًا توثیق کرائی جاتی ہے؟ اگر الطاف حسین پارٹی کی قیادت کر رہے ہوتے تو کامران ٹیسوری رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر مقرر ہو سکتے تھے ؟ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں بیشتر تو ون مین شو ہی ہیں۔

کمیشن کی یہ شرط کہ رجسٹریشن کے وقت کم از کم دو ہزار افراد کے نام بطور رکن دکھائے جائیں، کوئی مشکل کام ہے؟ فرد واحد اپنے چند دوستوں کو ساتھ ملا کر خانہ پری کے لئے پارٹی کھڑی کر لیتے ہیں یا پھر وہ لوگ جو اپنی پارٹیوں میں پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں، علیحدگی اختیار کر کے اپنی پارٹی قائم کر لیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن بھی جانتے بوجھتے ڈھکوسلہ کا شکار ہوتا ہے۔

پیپلز پارٹی کو ہی دیکھیں۔ آصف علی زرداری کی حد تو ٹھیک تھا کہ وہ پارٹی کی سربراہی کریں لیکن انہوں نے اپنی سیاسی ضرورت کے تحت اپنے بیٹے بلاول کو پارٹی کا چیئر مین نامزد کر دیا۔

اعتزاز احسن ، میاں رضا ربانی، قمر الزمان کائرہ، خورشید شاہ، سید قائم علی شاہ اور دیگر کئی حضرات بلاول کی ماتحتی میں کام کر رہے ہیں ۔ بیشتر اراکین اسمبلی کو اس بات سے غرض نہیں کہ قیادت کون کر رہا ہے۔

انہیں تو اپنے ٹکٹ اور اپنی کامیابی سے سروکار ہے۔ خجالت تو پرداشت ہی کرتے ہوں گے۔ عملًا ایسا ہی ہے کہ کسی صنعتی ادارے کے کچھ حصص آپ کے پاس ہوں لیکن زیادہ حصص رکھنے والا شخص ہی کمپنی کے سیاہ و سفید کا مالک بن جاتا ہے خواہ اسے کمپنی چلابنے کا تجربہ ہی نہ ہو۔ کم حصص رکھنے والے لوگ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں میں صورت حال زیادہ ہی تکلیف دہ ہے۔ مسلم لیگ ن کو دیکھیں، مشاہد حسین کل تک نواز شریف کے بدترین سیاسی مخالف چوہدری برادران کا دم بھرتے تھے، ایک صبح اچانک ن لیگ میں شامل ہو گئے۔ انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ نواز شریف کی جگہ اگر مریم پارٹی کی سربراہ ہوں گی تو وہ کس طرح کام کر سکیں گے۔

کیا پنجاب میں کوئی مریم نواز یا حمزہ شہباز کو مشورہ دینے کی جرأت کر سکتا ہے؟ کیا پیپلز پارٹی میں بلاول کو کوئی یہ کہنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں وہ درست نہیں ہے۔ یہ موروثی سیاست کا بدترین نمونہ ہے۔

انتخابی حلقوں میں والد کی موت کے بعد بیٹا کسی تجربہ ، تربیت اور سیاست کی واقفیت کے بغیر اپنے والد کی نشست کا حقدار تصور کیا جاتا ہے۔ماضی میں لوگ اپنی اولادوں کی سیاسی تربیت کے لئے انہیں بلدیاتی اداروں سے کام کرنا شروع کرایا کرتے تھے۔

پاکستانی سیاسی منظر نامے میں بہت سارے سوالات ہیں جن کے جواب حاصل کرنا مشکل کام ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ایسی کارپوریٹ کمپنیوں کی حیثیت دے دی گئی ہے جہاں حصص رکھنے والوں کو سال میں ایک مرتبہ بھی اعتماد میں نہیں لیا جاتا ہے۔

اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھنے والے سیاسی رہنماء اپنی سیاسی ضروریات کے پیش نظر مجبور ہیں کہ اپنے سے تعلیم، تجربہ اور عمر میں کہیں کم افراد کے ماتحت کام کریں اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں۔ کیوں کہ اگر ہاں میں ہاں نہیں ملائیں گے تو پارٹی ٹکٹ حاصل کرنا دشوار ہوگا، کوئی منفعت بخش سیاسی سرکاری عہدہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔

مرحومہ بے نظیر بھٹو نے جب اپنی والدہ مرحومہ نصرت بھٹو کو ہٹا کر خود کو پارٹی کی چیئر پرسن نامزد کرایا تھا تو اس کے بعد پارٹی کے کئی سینئر رہنما ؤں نے ان کے ساتھ مشاورت نہ کئے جانے کے بعد عملاً خاموشی اختیار کر لی تھی۔ عبدالحفیظ پیرزادہ، ممتاز بھٹو نے سندھ نیشنل فرنٹ بنا لیا تھا، کوثر نیازی نے اپنی پارٹی کھڑی کر لی تھی، حنیف رامے نے بھی اپنی پارٹی بنالی تھی۔

غلام مصطفے جتوئی ساتھ دے رہے تھے لیکن ایک وقت ایسا آیا جب انہیں زیرو زیرو قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے نیشنل پیپلز پارٹی بنائی۔ غلام مصطفے کھر ساتھ تھے لیکن وہ ان کی سیاسی ضرورت اور مجبوری تھی بعد میں وہ بھی پارٹی کو خدا حافظ کہہ گئے تھے۔

معراج خالد، شیخ رشید، راؤ رشید، ڈاکٹر مبشر حسن، غلام حسین، وغیرہ تجربہ کار سیاست داں جو بھٹو مرحوم کے دور میں پارٹی کے عہدوں پر رہے تھے اور وزیر بھی مقرر ہوتے رہے تھے، پارٹی سے کنارہ کشی اس لئے اختیار کر لی تھی کہ انکلوں کی بات سنی نہیں جاتی تھی۔

1988ء کے ا نتخابات کے بعد مرحومہ بے نظیر بھٹو کو اس وقت کی سول اور فوجی قیادت کے ساتھ ان کی شرائط پر سمجھوتہ کر کے اقتدار لینے کو سیاسی مبصرین آج بھی نا تجربہ کاری قرار دیتے ہیں۔

1970ء کے انتخابات کے بعد یہ دوسرا موقع تھا جب پاکستان میں بہترین جمہوریت نافذ کرائی جاسکتی تھی جہاں منتخب افراد پر مشتمل حکومت آزادانہ طور پر ریاست کی سیاست کو اپنے تابع کر کے فیصلے کر سکتی ہوتی۔

سیاسی جماعتوں میں تربیت کا رجحان ہی نہیں رہا ہے۔ سابق مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان ، اپنی پارٹی کے قائد حسین شہید سہروردی کے جلسوں میں دریاں بچھایا کرتے تھے لیکن سہروردی کی موت کے بعد جب وہ عوامی لیگ پر قابض ہوئے تو وہ بھی مشاورت کے عمل پر یقین نہیں رکھتے تھے ۔

ان کی صاحبزادی حسینہ واجد اپنے والد کی زندگی میں سیاست کی ابجد سے بھی واقف نہیں تھیں لیکن ان کی موت کے بعد ان کی سیاسی جانشین بن گئیں۔

انہوں نے بھی انکلوں کو کنارہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ سیاسی تربیت اس لئے ضروری ہوتی ہے کہ سیاست کے پیچ و خم سمجھ سکیں اور اپنے وقت میں درست فیصلے کر سکیں۔

ایسی سیاسی غلطیاں نہ کر سکیں جن کی وجہ سے پارٹی کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے یا کسی امتحان سے دوچار ہونا پڑے۔ ن لیگ میں نیوز لیک کا مسلہ ایک ایسا ہی مسلہ ہے جس کے بارے میں چوہدری نثار کہتے ہیں کہ اگر پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس نہیں بلایا گیا تو وہ نیوز لیک کی رپورٹ عام کریں گے۔

اس رپورٹ کے عام ہونے کا ملبہ کس پر گرے گا، یہ تو نواز شریف اور مریم نواز اور ان کے قریبی لوگوں کو ہی علم ہے۔ وہ سیاسی نا تجربہ کاری کا واضح ثبوت تھا ۔ ولی خان کی زندگی میں ہی نیشنل عوامی پارٹی میں کام کرنے والے رہنماء محمود الحق عثمانی، قسور گردیزی، وغیرہ وغیرہ کنارہ کش ہو گئے تھے اسی وجہ سے انہیں اسفند یار ولی کے ما تحت کام کرنے کی مجبوری نہیں تھی۔

غوث بخش بزنجو، عطا اللہ مینگل، خیر بخش مری وغیرہ تو نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کے بعد مقدمہ چلنے اور پھر جنرل ضیاء الحق کی حکومت کی جانب سے مقدمہ ختم کرنے کے بعد ہی ولی خان سے اپنی راہیں جدا کر گئے تھے اس لئے انہیں بھی اسفند یار ولی کی ماتحتی میں کام نہیں کرنا پڑا۔

اسفند یار ولی نے پارٹی کو عملاً پختونوں کی پارٹی بنا کر رکھ دیا حالانکہ کراچی میں بائیں بازو کی سیاست کرنے والا بڑا طبقہ نیشنل عوامی پارٹی جو بعد میں عوامی نیشنل پارٹی بن گئی تھی، موجود تھا جس نے ناطہ توڑ لیا اور خاموشی اختیار کر لی۔ بلوچستان میں پارٹی کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو قیادت سے دل برداشتہ ہو گئی تھی۔

اس تماش گاہ میں پارلیمانی جمہوریت کی بقا ہی سیاسی جماعتوں کے استحکام پر منحصر ہے۔ سیاسی جماعتیں جب ملک میں جمہوریت کا زور و شور سے تقاضہ کرتی ہیں تو انہیں اپنی صفوں میں بھی جمہوریت کو عملاً نافذ کرنا چاہئے۔

ایسی پارلیمانی جمہوریت سے عوام کو کیا فائدہ جس میں موروثی سیاسی کلچر ہو یا کارپوریٹ کلچر ہو، خاندانوں کی ملکی سیاست اور انتخابی حلقوں میں سیاست پر اجارہ داری ہو۔ کارکنان کیا صرف نعرہ بازی کرنے کے کام پر لگے رہیں گے اور ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہوگا۔

ایسی سیاست سے تو وہ باز آئے۔ ان کی اسی لاتعلقی نے جمہوریت کو معذور کر دیا ہے اور عوام الناس کے لئے کام کرنے والے سرکاری اداروں کی کارکردگی صفر ہو گئی ہے ۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...