سانحہء قصور جیسا دلخراش واقعہ فاروق آباد میں بھی

سانحہء قصور جیسا دلخراش واقعہ فاروق آباد میں بھی

سانحہ قصور کے باعث پچھلے کئی دنوں تک ملک کی فضا ء سوگوار اور ہر آنکھ اشکبار رہی۔ ہر سو بے چینی اور اضطراب کی کیفیت تھی ایک طرف ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے برسرالزام تھیں تو دوسری طرف پولیس بھی شدید تنقید کی زد میں تھی اور عوام میں پولیس کے متعلق پائی جانیوالی غم و غصہ کی لہر واضح تھی ، شہریوں کے پولیس پر سے اعتماد ختم ہونے کی باتیں کی جارہی تھیں عوام کو انصاف کے حصول کی کوئی روشنی کی کرن دکھائی نہیں دے رہی تھی اورہر طرف مایوسی و ناامیدی کے بادل منڈلارہے تھے لیکن جوں ہی معصوم زینب کو درندگی کا نشانہ بنانے والا سفاک ملزم عمران پکڑا گیا نہ صرف عوام نے اطمینان کا سانس لیا بلکہ پولیس پر سے دباؤ خاصا کم ہوا، یقیناسانحہ قصور ہر لحاظ سے قابل مذمت اور نا قابل برداشت ہے مگر اس سانحہ کو ملنے والی میڈیا کی توجہ نے ایک ایسے کیس کو بھلا دیا جو اسی نوعیت کا تھا مگر ملزم تک رسائی کے حوالے سے اس کیس کے شواہد اتنے کم تھے کہ کیس ٹریس ہونا کم و بیش نا ممکن خیال کیا جارہا تھا مگر ان حالات میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرفراز خا ن ورک کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے باعث نہ صرف یہ کیس ٹریس ہوا بلکہ مجرم بھی انجام کو پہنچ گیا جبکہ واقعہ کی روداد یوں ہے کہ سات سالہ ملیحہ جو ضلع شیخوپورہ کے تاریخی شہر فاروق آباد کے ایک نواحی گاؤں نوکھر قدیم میں مقبرہ نورجہاں کی قریبی آبادی شاہدرہ سے اپنے ننھیال کے ہاں اپنے والد شرافت علی اور دیگر اہلخانہ کے ہمراہ آئی ہوئی تھی کہ ایک سفاک اوباش نوجوان کی حیوانیت نے اس معصوم بچی کو اس حال کو پہنچا دیا کہ سوچ کر بھی دل دہل جاتا اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، اس معصوم کو کیا معلوم تھا کہ وہ گھر سے نکلے گی تو دوبارہ گھر پہنچنا اسے نصیب نہ ہوگا، وہ کتنی بے بس ہو گی کہ اپنی فریاد بھی کسی کو نہ سنا سکے گی، اسکی چیخ و پکار بھی سننے والا کوئی نہ ہوگااور اسکا معصوم چہرہ میٹھی زبان جس سے وہ ماما پاپا کہتی تھی ہمیشہ کیلئے خاموش کردی جائے گی ، یقیناًاسکی آہ و بکاء سے عرش بھی کانپ گیا ہوگا، چند روز قبل شاہدرہ سے آئی یہ سات سالہ ننھی پری ملیحہ اپنے والد شرافت اور والدہ کے ہمراہ فاروق آباد کے نواحی گاؤں نوکھر قدیم میں اپنے ننھیال کے ہاں سے بازار سے سودا لینے نکلی جسے اسی علاقہ کے رہائشی سفاک درندے نے اپنی حوس کا نشانہ بنانے کیلئے اغواء کیا پھر اسکے ساتھ بداخلاقی کا شیطانی کھیل کھیلا ، اس کی ہڈیاں توڑیں اور پھر اسے ہمیشہ کیلئے موت کی نیند سلا دیا اور نعش گلی میں پھینک دی، اس پراسرار اور لرزہ خیز واردات کا سراغ لگانا بہت مشکل کام تھا کیونکہ ملزم نے کہیں کوئی بظاہر ایسا سراغ نہیں چھوڑا تھا کہ اس تک پولیس کی رسائی جلد ممکن ہوتی اور نہ ہی بچی کو کسی نے اس وحشی درندے کے ساتھ جاتے یا اس ظالم کو ملیحہ کے اغواء کے وقت دیکھا تھا تاہم واقعہ کی اطلاع پاکر متعلقہ تھانہ کی پولیس سمیت خود ڈی پی او سرفراز خان ورک نے اس کیس کو چیلنج سمجھا اور قوم کی اس بیٹی سات ملیحہ کے قاتلوں کو پکڑنے کیلئے دن رات ایک کردیا ۔ پولیس کی طرف سے تفتیش کا سلسلہ جاری تھا ،ملزم تک جلد سے جلد رسائی کا یہ ناممکن عمل ممکنات کی سیٹرھی چڑھتا چلا گیااور پھر بالآخر ملزم شیراز عرف راجو جو اسی محلہ کا رہائشی تھا اس واقعہ میں ملوث پایا گیا تو پولیس نے اسکی گرفتاری کیلئے تمام تر ٹیکنالوجی پیشہ وارانہ صلاحتیں اور مہارتیں استعمال کیں اور جب پولیس اس سفاک شخص کے قریب پہنچی تو اس کے باقی ساتھیوں نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کردی اور وہ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا ، بلاشبہ یہ پولیس کی عظیم فتح اور کامیابی تھی ننھی پری ملیحہ تو اب اس دنیا میں نہیں رہی لیکن اسکے ورثاء کو ا نصاف ضرور مل گیا ہے ، تاریخ میں ایسی لرزہ خیز اور پر اسرار واردات کے ملزم کا اتنی جلدی انجام کو پہنچنے کی کہیں مثال نہیں ملتی ، واقعہ کی اطلاع پا کر لوگ سفاک درندے کی ہلاکت گاہ پر جوق در جوق جمع ہونا شروع ہوگئے تو دوسری طرف شہر کی سیاسی مذہبی دینی جماعتوں کے رہنماؤں، علماء و وکلاء اور تاجر برادری کی بھی طرف سے ڈی پی او شیخوپورہ کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا یقیناًننھی پری ملیحہ کی روح کو بھی چین مل گیا ہوگا کیونکہ اس کاقاتل بھی اپنے انجام کو جا پہنچا ، مگر افسوسناک امر ہے کہ ڈی پی او سرفراز خان ورک اور ملزم کو ٹریس کرنے کیلئے جدوجہد کرنے والی پولیس پارٹی کی کسی اعلیٰ پولیس آفیسر نے پذیرائی نہ کی اور نہ ہی اس واقعہ کو اس طرح اجاگر کیا گیا جس طرح زینب کیس پر روزانہ بحث ہوتی رہی اور پولیس سمیت تمام متعلقہ ادارے آن بورڈ رہے جس کی شاید واحد وجہ اس کیس کو جلد حل کرلیا جانا تھا اور اگر یہ کیس بھی میڈیا کی یوں زینت بنتا جس طرح زینب کیس بنا تو یقیناًملیحہ کے اہل خانہ کی دلجوئی بھی ہوتی، پولیس کارکردگی کی تعریف بھی ہوتی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھائے جانے کی طرف بھی بات مزید سنجیدگی سے آگے بڑھتی، ملیحہ کی بے حرمتی اور قتل کے باعث پیدا ہونیوالے احساسات اور جذبات کو عملی جامہ پہننانے کیلئے ضروری ہے کہ بچوں کی حفاظت کیلئے تشکیل کردہ نظام کو مزید فعال کیا جائے جب تک یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا ملیحہ اور زینب جیسی بچیاں اپنے گھرانوں کو مسلسل آنسو بہانے پر مجبور کرتی رہیں گی اور کاش ڈی پی او سرفراز خان ورک کی طرح دیگر تمام پولیس افسران جو عوام کا درد اپنا درد سمجھ کر اپنے منصب کا خیال رکھتے ہوئے لوگوں کے دکھوں اور نا انصافیوں کا ازالہ کریں تو قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کو امن و امان کا گہوارہ بنایا اور آئین و قانون کا بول بالا کیا جاسکتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2 /رائے

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...