25 اقسام کے نشے ,نوجوان نسل کی تباہی کا سبب

25 اقسام کے نشے ,نوجوان نسل کی تباہی کا سبب

منشیات فروشوں اور نوشوں نے شہر خاموشاں کو مسکن بنا رکھا ہے ‘انتظامیہ کی کارکردگی سوالیہ نشان!

پاکستان میں منشیات اور نشہ اور ادویات کا غیر قانونی استعمال کرنے والے افراد کی تعداد66لاکھ تک پہنچ چکی ہے

پاکستان میں محتاط اندازے کے مطابق منشیات کے عادی افراد کی تعداد سات ملین ہے اور نشے کی یہ عادت ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ ہلاکتوں کی وجہ بنتی ہے اینٹی نارکوٹکس فورس کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط اور اسے تلف کر چکی ہے 26جون کو منشیات فروشی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی دن منایا جاتا ہے پاکستان کی مجموعی آبادی اور اس میں منشیات کے عادی افراد کے تناسب کے لحاظ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت منشیات کی روک تھام کے لیے جتنی بھی کوششیں کر رہی ہے وہ ابھی تک کافی ثابت نہیں ہوئیں اور ان میں مزید اضافے کی ضرورت ہے ۔

پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والے شہریوں کی تعداد کتنی ہے اس بارے میں وفاقی یا صوبائی حکومتیں کوئی سالانہ اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے ریسرچ نہیں کرواتیں اس سلسلے میں ایک بااعتماد ذریعہ اقوام متحدہ کا منشیات اور جرائم کی روک تھام کا دفتر ہے جو یو این او ڈی سی کہلاتا ہے اقوام متحدہ کا یہ دفتر بین الاقوامی سطح پر منشیات کے استعمال اور ان کی تجارت سے متعلق حقائق جمع کرتا ہے اسکے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں منشیات اور نشہ اور ادویات کا غیر قانونی استعمال کرنے والے افراد کی تعداد66لاکھ تک پہنچ چکی ہے ان میں بھی سب سے بڑی تعداد پچیس سے لے کر 39برس تک کی عمر کے افراد کی ہے دوسرا سب سے بڑا گروپ پندرہ سال سے لے کر چوبیس سال تک کی عمر کے نوجوانوں کا ہے ان قریب سات ملین افراد میں سے42لاکھ ایسے ہیں جو مکمل طور پر نشے کے عادی ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کے استعمال کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے سے قاصر رہے ہیں اس لیے منشیات فروشی اور اسکے استعمال میں روز بروز اضافہ ہو رہاہے پاکستان میں منشیات کے عادی افراد ہیروئن کا استعمال اور شراب نوشی کثرت سے کرتے ہیں سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا نشہ چرس ہے جو تمباکو کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے ۔قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی چشم پوشی اور غفلت لاپرواہی کے باعث منشیات فروشوں نے قبرستانوں کو محفوظ پناہ گاہ بنا لیا ہے منشیات اور شراب کے نشئیوں نے قبرستانوں میں ڈیرے قائم کر لیے قبرستانوں میں جوئے کے اڈے بھی قائم ہو چکے ہیں جہاں منشیات فروش شام ہوتے ہی قبرستانوں میں منشیات فروخت کرنے کے لئے پہنچ جاتے ہیں پولیس سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے شہر کے قبرستانوں کی حدود میں متعلقہ تھانوں کے افسران نے کبھی پولیس اہلکار تعینات نہیں کیا جسکی وجہ سے منشیات فروشوں کے لیے شہر کے قبرستان محفوظ پناہ گاہ بن چکے ہیں گجرات ‘ سرائے عالمگیر اور جہلم کے قبرستان سب سے زیادہ منشیات فروشی کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔

بااثر منشیات فروشوں نے بابا مہدی شاہ قبرستان،اسلام پورہ، قبرستان،کریم پورہ ، بابا جادہ، ، روہتاس روڈ قبرستان، قبرستان چوک ،ویسٹ کالونی، چونترہ، کھرالہ قبرستان ودیگر کو مسکن بنا رکھا ہے پولیس کی چشم پوشی کی وجہ سے منشیات فروشوں نے مستقل بنیادوں پر ڈیرے جما لیے ہیں جس کی وجہ سے اب قبرستان بھی غیر محفوظ تصور کئے جاتے ہیں صوبائی دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں منشیات فروشی اورمنشیات نوشی عروج پر پہنچ چکی ہے منشیات فروشی کی لعنت جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ یہ پولیس کے تعاون اور سرپرستی کے بغیر ممکن ہی نہیں سروے کے دوران یہ بات سا منے آئی کہ لاہور میں اس وقت25سے زائد اقسام کے نشوں کا استعمال ہو رہاہے جس کو غریب طبقہ سے لے کر امیرلڑکیاں اور لڑکے تک استعمال کرتے ہیں منشیات کی اقسام میں بوٹی ، بھنگ ،ہیروئن ، چرس، صمد بونڈ، انجکشن ، کوریکس، ٹینو شربت ، کوکین، شراب، پٹرول ، نشہ آور 81گولیاں ،نشہ آور پکوڑے ، بھنگ کے پاپڑ ، افیون، گانجا ، گٹکا مقبول ہیں جیسی منشیات کی اقسام چوراہوں کے علاوہ رائل پارک، قبرستانوں ، مزاروں ، تفریحی پارکوں ، مینار پاکستان ،دریائے راوی کے کنارے ،چوبرجی چوک، ریس کورس، شالیمار پارک، گلشن پارک، جناح باغ ، مقبرہ جہانگیر، بھاٹی گیٹ ،بادشاہی مسجد کے عقب سمیت شہر کے بے شمارعلاقوں، گلیوں، خالی پلاٹوں ، زیر تعمیر مکانوں، گندے نالوں پر فروخت ہورہی ہیں پوش علاقوں ڈیفنس، جوہرٹاؤن ، گلبرک، ماڈل ٹاؤن، اقبال ٹاؤن میں پار ٹی کے نام پرشراب نوشی ، چرس ، کوکین، افہیم اور شیشہ کے نشے کیے جاتے ہیں ایسے واقعات بھی ہوچکے ہیں جن میں نشئی افراد نشہ کے لیے خرچہ نہ ملنے پر اپنی ماں ، باپ، بھائی ، بہنوں اور بیویوں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں نشئی افراد اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے محلہ کے باہر کھڑی گاڑیوں ، موٹرسائیکلوں کے شیشے یا پھر ویل کپ ،چھوٹے بڑے سپےئر پارٹس ، گلیوں کے گٹروں کے ڈھکن اور سرکاری ٹیوپ لائٹس تک بھی چوری کر لیتے ہیں ۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق لاہور میں تقریباً 60 لاکھ افراد مختلف اقسام کی منشیات استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان بھر میں کراچی کے بعد لاہور میں سب سے زیادہ منشیات کا استعمال کیا جاتا ہے شہریوں کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ حشیش، ہیروئن، بھنگ ٹرینکولائزر، کوکین اور اوپیم شہر میں ہر جگہ دستیاب ہے اور نجی اور عوامی شعبے میں منشیات کے استعمال کی روک تھام کا پروگرام نہ ہونے کے باعث یہ دھنداخوب پھل پھول رہا ہے پولیس ریکارڈ کے مطابق لاہور بھر میں 7ہزار سے زائد منشیات کے اڈے چل رہے ہیں لاہور کے 15علاقوں میں پشاور سے منشیات سپلائی کی جاتی ہیں، ان علاقوں میں شاہدرہ، شفیع آباد، بھٹی چوک، تبی سٹی، لاری اڈہ، ریلوے اسٹیشن، لوئر مال، ہنجروال، ڈیفنس، باغبان پورہ، شالیمار، ہربانس پورہ، نارتھ کنٹونمنٹ، کہنا، نشتر کالونی اور رائیونڈ شہر شامل ہیں داتا دربار اور اس کے اطراف کا علاقے زائرین کو نشانہ بنانے کے لئے منشیات فروشوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے گردا جو چرس کی بہتر قسم ہے، کی خواتین اور طالبعلمو ں میں خاصی مانگ ہے اور یہ منشیات کی ہلکی کوالٹی کے مقابلے میں نسبتاً مہنگا ہوتا ہے۔منشیات کا ڈیلر اپنے کاروبار کے تحفظ اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے عام طور پر ماہانہ 10 سے 15 ہزار علاقے کے ایس ایچ او کو دیتا ہے۔باغبان پورہ سے تعلق رکھنے والے منشیات کے ایک ڈیلر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میں ابتدا میں زیادہ نشہ کرنے والے افراد اور نوجوانوں کو نشے کے انجیکشن بیچا کرتا تھا لیکن بعد میں شہر میں شیشہ پارلرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر میں نے بھی اپنا بزنس تبدیل کر لیا۔اب میں شیشہ کیفے کو براہ راست چرس اور ہیروئن فروخت کرتا ہوں اور میرا ماننا ہے کہ یہ کافی محفوظ کام ہے کیونکہ اس دھندے سے وابستہ تمام افراد انتہائی اثر و رسوخ رکھتے ہیں شہر میں 300 سے زائد شیشہ بار کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پوش علاقوں میں واقع ہیں اور ان میں سے اکثر بارز میں پرائیویٹ کمرے ہیں جہاں نوجوانوں کو ہر طرح کا نشہ فراہم کیا جاتا ہے۔ یہاں بہت سے منشیات فروش شیشہ کیفے کو براہ راست نارکوٹکس سپلائی کر رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان شیشہ گھروں کے مالکان کی مانگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شیشہ پینے والے آگ میں چلم کا استعمال کرتے ہوئے چرس اور ہیروئن ملاتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2 /رائے