قانونی مشیروں کی کم اہلیت عالمی مقدمے ہارنے کا باعث بن رہی ہے،ڈاکٹر رحیم

قانونی مشیروں کی کم اہلیت عالمی مقدمے ہارنے کا باعث بن رہی ہے،ڈاکٹر رحیم

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے سیکرٹری ڈاکٹر رحیم اعوان نے کہا ہے کہ قانونی تعلیم کے دوہرے معیار کو ترک کر کے معیاری قانونی تعلیم کو رائج کرنا ہو گا، قانونی مشیروں کی کم اہلیت پاکستان کے بین الاقوامی مقدمات ہارنے کا باعث بن رہی ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار میں لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے سیکرٹری ڈاکٹر رحیم اعوان نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کم اہلیت کے قانونی مشیرمقدمات کے غیر ضروری التواء کا باعث بن رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بیرون ملک قانون کی تعلیم تین سال کی رائج ہے جبکہ پاکستان میں پانچ سال کی رائج ہونے کے باوجود نتائج اچھے نہ ہونا افسوس ناک ہے،سینئر قانون دان میاں ظفر اقبال کلانوری نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم کمیشن نے قانونی تعلیم کی فراہمی، نصاب اور لاء کالجز کے الحاق سے متعلق اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے جسے 3 مارچ کوعدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ملکی عدالتوں میں شہریوں کے زیر التواء مقدمات اور بین الاقوامی عدالتوں میں پاکستان کے زیر سماعت مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لئے قانون کی معیاری تعلیم اور وکلاء کی انرولمنٹ کا معیاری امتحان لازم ہونا چاہیے ۔تقریب میں مقررین نے انسداد دہشت گردی کے لئے فوجداری قوانین میں اصلاحات ، انصاف کی فراہمی کے لئے بار اور بنچ کا کردار،پاکستان میں انتہاپسندی کی وجوہات ،نفرت انگیز تقاریر کے سد باب کے لئے قانونی ڈھانچہ اور عالمی امن کی ترویج کے لئے بین الاقوامی قوانین کے کردار کے موضوعات پر مقالے پڑھے۔مقررین نے پاکستان میں رائج قوانین میں اصلاحات کے لئے تجاویز دیں جبکہ انصاف کی فوری فراہمی کے لئے بار اور بنچ کے بہتر تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ڈاکٹر رحیم اعوان

مزید : صفحہ آخر