عطا ء الحق قاسمی کی تعیناتی کا معاملہ ، سپریم کورٹ کا نیب کو ریکارڈ کا جائزہ لینے کا حکم

عطا ء الحق قاسمی کی تعیناتی کا معاملہ ، سپریم کورٹ کا نیب کو ریکارڈ کا جائزہ ...

اسلام آباد(صباح نیوز)چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کوئی بادشاہت نہیں ہے جمہوریت قانون کے مطابق ہوتی ہے اب ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں گے،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ایم ڈی پی ٹی وی کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کی تو عدالتی نوٹس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل راناوقار، سینیٹرپرویز رشیداوروزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد عدالت میں پیش ہوئے ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ عطاء الحق قاسمی کی تقرری کے دو حصے ہیں ۔رانا وقار نے بتایا کہ تقرری کی سمری وزارت اطلاعات نے بھیجی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عطاالحق قاسمی کی تعیناتی کی نوٹنگ دکھائیں اور بتائیں کہ تقرری کانوٹنگ کس نے بھیجا تھا ۔ سمری سے قبل کسی نے نوٹ بھیجا ہوگاچیئرمین کاعہدہ خالی ہے ایم ڈی پی ٹی وی کاعہدہ تاحال خالی ہے محمدمالک کے جانے کے بعد یہ عہدہ خالی ہے عدالت کویہ بتائیں عطاالحق قاسمی کی تقرری کاعمل کہاں سے شروع ہوا ؟کیاوزیراعظم سے کوئی ہدایات آئیں ؟ ہمیں اصل سمری دکھائیں اگر تقرری درست نہیں تو اسے غیرقانونی قرار دیں گے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ اگرتقرری غلط ہوئی تو پیسے ان سے وصول کریں گے جنھوں نے تقرری کی تھی جنھوں نے عہدے کافائدہ لیارقم ان سے وصول ہوگی چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت کے پاس عہدے پر کرنے کااختیار نہیں ہے امریکہ کے صدر کوکھوکھاالاٹ کرنے کااختیار نہیں لیکن یہاں بڑی بڑی پوسٹوں سے نوازاجاتاہے ۔چیف جسٹس کے آبزرویشن پر فواد حسن فواد نے کہاکہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کا عہدہ گریڈ بائیس کا نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیوں نہ یہ معاملہ نیب کوبھیج دیں تاکہ نیب انکوائری کر کے جائزہ لے کیاتقرری قانونی تھی یابے ضابطگیاں ہوئیں۔اس دوران سینیٹر پرویز رشید نے عطاالحق قاسمی کا نام دینے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی جب شروع ہواتو نیوز چینل تھا اورمیں وزیربناتوپی ٹی وی پروگرام مارکیٹ سے خریدتاتھا اس لئے کوشش تھی کہ پی ٹی وی اپنی پروڈکشن کرے اس لئے عطاالحق قاسمی کا نام میں نے دیا تھا اس دوران چیف جسٹس نے کہاکہ عطاالحق قاسمی کی کارکردگی پرکوئی بات نہیں کررہے ہم صرف قانون کی حکمرانی دیکھ رہے ہیں ۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ عطاالحق ادبی آدمی ہیں وہ کمپنی کیسے چلاسکتے ہیں پرویز رشید نے کہاکہ کمپنی چلانے کی ذمہ داری چیف ایگزیکٹو کی تھی ۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاپی ٹی وی کوچلانے کیلئے پروفیشنل آدمی نہیں تھا عطاالحق قاسمی کومینجمنٹ کاتجربہ نہیں تھا پرویز رشید نے کہا کہ میری کوشش تھی ایسا چیئرمین لگایاجائے جوپی ٹی وی کی کلچرل ویلیو کوکال کرے ۔چیف جسٹس نے سابق وزیر سے کہاکہ آپ جو گفتگو کررہے ہیں اس کے قانونی نتائج ہوں گے۔چیف جسٹس نے کہاکہ مجھے لگتا تھا کہ ناصر جمال اس سارے معاملے میں معصوم ہیں لیکن لگتا ہے وہ بھی اس سارے معاملے کاایک حصہ ہیں ۔عدالت نے اپنے حکم میں کہاکہ صبا محسن، ناصر جمال اپنے جواب اور بیان حلفی عدالت میں جمع کرائیں اس دوران ممبر ٹیکس ایف بی آر نے عطا الحق قاسمی کے تین سال کے گوشواروں کی تفصیلات عدالت میں پیش کردیں ان کا کہنا تھا کہ سال 2015۔16 2016 اور2017کی تفصیلات لایا ہوں باقی سالوں کی تفصیلات فیلڈ سے منگواکر جمع کرادوں گا۔چیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عطاالحق قاسمی صاحب کب سے کب تک پی این سی اے میں سربراہ رہے اور کس کے وقت میں رہے ساری تفصیلات فراہم کی جائیں اس دوران پرویز رشید نے کہاکہ انہوں نے اپنا جواب اور گزارشات عدالت میں جمع اکرادی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمہ کا فیصلہ خود کریں گے اس لئے تمام دستاویزات منگوا لیتے ہیں۔عدالت نے ہدایت کی کہ تمام فریقین اپنا جواب جمع کروا دیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا عطا الحق قاسمی ایم ڈی کی ذمہ داریاں ادا کرتے تھے۔چیف جسٹس نے فواد حسن فواد کو روسٹرم پر بلا کر استفسار کیاکہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں سیکرٹری ٹو وزیر اعظم تھا۔چیف جسٹس نے کہاکہ آپ صاف ستھرے بیورو کریٹ ہیں ۔کیا آپ نے یہ سمری دیکھی تھی۔فواد حسن نے کہاکہ ہم نے ان کو چیئرمین بنانے کا حکم نہیں دیا ، عدالت نے نیب کوریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کردی ۔

عطا ء الحق قاسمی کی تعیناتی

مزید : صفحہ آخر