قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین اور ترقیاتی ادارہ دارالحکومت آرڈیننس 2018ء پیش

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین اور ترقیاتی ادارہ دارالحکومت آرڈیننس 2018ء پیش

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین بل 2018ء اور قومی اسمبلی میں ترقیاتی ادارہ دارالحکومت آرڈیننس 2018ء پیش کر دیا گیاقومی اسمبلی کے اجلاس میں سید نوید قمر نے تحریک پیش کی کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین بل 2018ء نجی کارروائی کے ایجنڈے کے طور پر لانے کے لئے قواعد معطل کئے جائیں۔ تحریک کی منظوری کے بعد نگہت پروین نے تحریک پیش کی کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین بل 2018ء پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے تحریک کی مخالفت نہیں کی۔ ایوان سے اجازت ملنے پر نگہت پروین میر نے بل ایوان میں پیش کیا۔ نگہت پروین میر نے تحریک پیش کی کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین بل 2018ء زیر غور لایا جائے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بل اچھا ہے، تاہم بعض ترامیم کی گنجائش موجود ہے، وہ ہمیں پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ ارکان کی درخواست پر بل مزید غور کے لئے وقتی طور پر موخر کر دیا گیا۔ اجلاس کے دور ان صاحبزادہ محمد یعقوب نے مالا کنڈ ڈویژن بشمول ضلع دیر زیریں میں گیس میٹروں کی تقسیم اور تنصیب میں بے ضابطگیوں سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری شہزادی عمر زادی ٹوانہ نے کہا کہ 2016ء سے ان علاقوں میں گیس کنکشن دیئے جا رہے ہیں جو پہلے آیئے پہلے پایئے کی بنیاد پر جاری ہیں، اگر کسی مخصوص بے ضابطگی کی نشاندہی کر دی جائے تو ازالہ کیا جائے گا۔ توجہ مبذو نوٹس پر صاحبزادہ محمد یعقوب کے سوالات کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ گیس کنکشنوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جائے۔ اس کا نوٹس لے کر چھان بین کرائی جائے گی اور شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔ اجلاس کے دور ان ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سی ڈی اے آرڈیننس 2018ء قومی اسمبلی کے سامنے رکھا جس پر نوید قمر نے کہا کہ اس آرڈیننس سے کوئی بھی منتخب آدمی سی ڈی اے کا چیئرمین نہیں لگ سکتا اور بیوروکریسی ہی یہ کر سکتی ہے۔ یہ سب کام پارلیمنٹ کو بے اختیار بنانے کے لئے ہے۔ آج کیوں ہر جگہ عدالتیں ازخود نوٹس لے رہی ہیں، اس کام سے خود اپنے ہاتھ کاٹے جا رہے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ سول سرونٹ یہاں آنا گوارہ نہیں کرتے اور یہ سارے اختیارات ان کو دینے کی بات کر رہے ہیں۔ حکومت اس کو واپس لے، یہ ارکان کسی بھی سول سرونٹ سے زیادہ با اختیار ہیں۔ سپیکر نے پوچھا کہ سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری کو بلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری کو طلب کر لیا۔ سیکرٹری پانی و بجلی کے ساتھ یہاں رہیں گے۔ شفقت محمود نے کہا کہ سول سرونٹ ہوتے تھے، اب نہیں آتے۔ سپیکر نے کہا کہ یہ وزیر کی کمزوری ہے۔ شفقت محمود نے کہا کہ بتایا جائے کہ سی ڈی اے جیسے گندے محکمہ میں کتنے ملازمین کو سزا دی گئی۔ سپیکر نے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری پٹرولیم سیکرٹری کو بلانے گئی ہیں ان کا پتہ کریں کہیں ان کو اغواء نہ کر لیا گیا ہو، ان کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرائیں۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں آرڈیننس درست عمل نہیں، منتخب لوگوں کی موجودگی میں کیسے سول سرونٹ کو اختیار دیئے جا رہے ہیں، یہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے، ہم اس آرڈیننس کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا ہک سپیکر ایک رولنگ دیں کہ کل سے جن جن وزارتوں یا محکمہ کے سوالات پابند ہوں متعلقہ سیکرٹری نہ ہونے پر عملہ کو یہاں سے باہر نکال دیا جائے اور سیکرٹری کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بیورو کریٹ کے تبادلوں کے بعد اس کے مقدمات ہمارے پاس آتے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری نہیں آئے لگتا ہے کہ ڈی ایس پی کو بھیجنا پڑے گا۔ وہ ان کو لے کر آئیں بارش میں کہیں وہ پگھل نہ جائیں۔ ایس اے اقبال قادری نے کہا کہ اس آرڈیننس کو حکومت واپس لے۔ شیر اکبر خان نے کہا کہ آرڈیننس لانے کا عمل درست نہیں ہے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ان کی عدم حاضری کا کوئی جواز نہیں ہے، اراکین نے اس بل کے مواد پر بات نہیں کی، 80 فیصد باتوں کا اس مواد سے تعلق ہی نہیں ۔ صاحبزادہ محمد یعقوب کے مالاکنڈ اور دیر زیریں میں گیس میٹروں کی تنصیب اور تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے توجہ مبذول نوٹس پر اور سی ڈی اے کے حوالے سے آرڈیننس پر کارروائی جاری تھی کہ سپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری پٹرولیم سے پوچھا کہ ان کی وزارت سے مہمانوں کی گیلری میں کون موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کوئی موجود نہیں ہے جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ پٹرولیم ڈویژن کے افسران پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لے رہے سپیکر اور ارکان کے درمیان دلچسپ گفتگو جاری رہی تاہم سپیکر نے متعلقہ افسران کی گیلری میں عدم موجودگی پر وزراء کی بات نہیں مانی اور سخت برہمی کا اظہار کیا۔ سپیکر نے کہا کہ ایک گھنٹہ ہو گیا ہے۔ سیکرٹری توانائی نہیں آئے۔ سیکرٹری کی اجازت کے بغیر ہم نہیں جا سکتے۔ پارلیمانی سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ سیکرٹری آ رہے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ وہ کنویں پر گئے ہیں، ان کے دماغ اور دل پتھر کے بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ آج بہت ہو گیا ہے ان کو کل بلا لیں۔ سپیکر نے کہا کہ وزیر اور پارلیمانی سیکرٹری ان کو معطل نہیں کر سکتے۔ اعجاز جھاکرانی نے کہا کہ ان کو معطل کرنے کی سفارش کریں۔ سپیکر نے کہا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں، اس دوران وزارت پٹرولیم کے ایک آفیسر ایوان میں آئے تو سپیکر نے ان کی سرزنش کی کہ وہ ڈنر پر آئے ہیں جو پانی کی بوتل لے کر آئے ہیں، یہ آپ نہیں لا سکتے۔ شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ آج کافی ہے، ان کو کل بلا لیں اور آج ملتوی کر دیں۔ بعدازاں قومی اسمبلی کااجلاس ملتوی کردیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...