قومی احتساب بیورو کا ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کیخلاف تحقیقات کا حکم

قومی احتساب بیورو کا ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کیخلاف تحقیقات کا حکم

اسلام آباد/لاہور(صباح نیوز،خبرنگار)قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب بریگیڈئیر(ر) مظفر علی رانجھاکے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال، سرکاری کام میں مبینہ طور پر رکاوٹ ڈالنے اور نیب کو مبینہ طور پر قانون کے مطابق56کمپنیوں سے متعلق ریکارڈ کی فراہمی سے انکار پر انکوائری کی منظوری دیتے ہوئے نیب افسران کو بدعنوانیوں کے بارے تمام تحقیقات اور تفتیش کوقانون کے مطابق جلد منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ غیرمعینہ مدت تک التواء میں رکھنے پر اب نہ صرف سخت نوٹس لیا جائے گا بلکہ غفلت برتنے والے نیب افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔اس امر کا اظہارانھوں نے قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں کیا ہے ۔ نیب ایگزیکٹو بورڈ نے بدعنوانی کے 23مقدمات کی تحقیقات کی ہدایت کردی ۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس گزشتہ روز قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر زمیں ہوا ۔اجلاس میں وائس چانسلر یونیورسٹی سرگودھا ڈاکٹر اکرم چوہدری، سابق صدر فاروق لغاری کی صاحبزادی راحیلہ مگسی، گورنمنٹ کالج فیصل آباد اورساہیوال کیمپس کے وائس چانسلر سمیت مختلف 23محکموں کے خلاف تحقیقات کرنے کا بھی حکم دیا ہے نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے ڈاکٹر منظور حسین سومرو سابق چیئرمین پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اسلام آباد /سابق صدرای سی او اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دے دی ہے۔ ڈاکٹر منظور حسین سومرو پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اسلام آباد میں غیر قانونی بھرتیاں کیں، سرکاری خرچ پر20 سے زیادہ بین الااقوامی اور90 اندرونی دورے کئے ،جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان ایگری کلچرل ریسرچ کونسل اسلام آباد کے افسران / اہلکاران کے خلاف انکوائری کی منظوری دی ہے ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پی اے آر سی میں 200 سے زائد مبینہ طور پر قواعد کے خلاف تقرریاں کیں۔جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔اسی طرح سی ڈی اے کے افسران/ اہلکاران اور دیگرکے خلاف انکوائری کی منظوری دے دی گئی ۔ملزمان پرسرکاری پلاٹ نمبر 11 سیکٹر G-6 سوک سنٹر اسلام آباد پنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کوڑیوں کے دام فروخت کرنے کا الزام ہے- پرائیویٹایزیشن کمشن آف پاکستان کے افسران/ اہلکاران اور دیگرکے خلاف پاک امریکن فرٹیلائزرز لمیٹڈڈ داؤدخیل میانوالی کی نجکاری میں مبینہ طور پر پیپرا رولز کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانہ کو 3.889 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ نیپرا کی انتظامیہ ، وزارت پانی و بجلی، آئی پی پی ایس ، میسرز بلیو سٹار ہائیڈل پرائیویٹ لمیٹڈ ، میسرز بخش سولرز پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز سیف سولرز پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرزلکی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ ، میسرزصدکہ سنز انرجی لمیٹڈ ودیگر کیخلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر مبینہ طور پر نرخوں میں سولر پاؤر پلانٹس کے ٹیرف میں مبینہ طور پر قواعد کے خلاف ورزی کرتے ہوئے کا الزام ہے -جس سے قومی خزانہ کو 200 ارب روپے سالانہ سے زائد کا نقصان پہنچا۔ ڈاکٹر اکرم چوہدری وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودہا اور دیگر کیخلاف انکوائری کی منظوری دے دی گئی ہے ، ملزمان پربدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی تقرریاں اور پیپر ا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچایا۔اجلاس میں عبدالرزاق (سابق سینیٹر/ کمپنی ڈائریکٹر)، کامران خان چیف ایگزیکٹو آفیسرز میسرز ملک ایکسچیج پرائیویٹ لمیٹڈ اور عدنان لوہانی انسپکٹر ایف آئی اے کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ہے ۔ملزمان پر مبینہ طورپراختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے منی لانڈرنگ اور رشوت لینے کا الزام ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ نے طلعت محمود ، نعمان نواز، اعجاز احمد اور راجہ کامران اور دیگرکے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی ہے ملزمان پر مبینہ طورپراختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام ہے-جس سے قومی خزانہ کو 3.14 ملین روپے نقصان پہنچایا۔ایگزیکٹو بورڈ نے الخیر ہاوسنگ سوسائٹی کے مالکان/ ڈویلپرز اور دیگر کے انکوائری کی منظوری دی ، ملزمان پرعوام کو لوٹنے اور ہاوسنگ سوسائٹی کے پلاٹ نہ دینے اور عوام کے 27.065 ملین روپے لوٹنے کا الزام ہے-اجلاس میں لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ اور دیگر کیخلاف انکوائری کی منظور ی دی گئی ، ملزمان پرمبینہ طور پر سرکاری زمین کو غیر قانونی مستقلی کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچا۔ منظور قادر سابق ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ودیگر کیخلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ہے ۔ ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طورپر رفاعی پلاٹوں کو کمرشل پلاٹ کی شکل میں تبدیل کرنے کاالزام ہے- جس سے قومی خزانہ کو مبینہ طور پر500 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ محمد محسن ولد عقیل احمد عباسی اور راحیلہ مگسی ولد محمد فاروق لغاری کے کیخلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔یہ کیس سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نیب کو 31-D کے تحت مشتبہ ٹرانزکشن کی تحقیقات کیلئے بھیجا ۔عارف علی شاہ بخاری، KASBنور ڈویلپر پرائیویٹ لمیٹڈ ، سابق ڈائریکٹر / سابق انتظامیہ بی آئی پی ایل اور سٹرکچر ڈ وینچر پرائیویٹ لمیٹڈ کیخلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بدعنوانی، خوردبرد اوردھوکہ دہی کے الزامات ہیں- جس سے قومی خزانہ کو مبینہ طور 375ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈنے سید ناصر عباس ، سابق ڈائیریکٹر جنرل کے ڈی اے اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ملزمان پر غیر قانونی طورپر رفاعی پلاٹوں کو کمرشل پلاٹ کی شکل میں تبدیل کرنے کا الزام ہے- جس سے قومی خزانہ کو مبینہ طور پر354 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈنے محمد حسن بھٹو ، سابق چئیرمین ایس پی ایس سی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی تقرریاں کرنے کے الزامات ہیں- جس سے قومی خزانہ کوبھاری نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں عبدلولی خان یونیورسٹی مردان کے افسران/ اہلکاران اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ان پر مبینہ طور پر الزام ہے کہ یونیورسٹی کے فنڈز جو کہ طلباء کے غیر ملکی وظائف کیلئے مختص تھے وہ مبینہ طور پر غیر مستحق اور میرٹ پر نہ اترنے والے من پسند طلباء کو دیئے جس سے قو می خزانے کو تقریباََ 1176 ملین روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ اجلا س میں جنا ح میڈیکل کالج پشاور کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پرالزام ہے کہ انہوں نے بدعنوانی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اختیارات کا ناجائزاستعمال کیا۔ جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ڈاکٹر احسان علی ، سابق وائس چانسلر عبدلولی خان یونیورسٹی مردان کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ان پر مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں کسٹم کلیکٹریٹ پشاور کے افسران/ اہلکاران ، بینک اہلکاران ، کلیئرنگ ایجنٹ فاٹا اور دیگرکے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیاگیاہے۔ان پر مبینہ طور پر الزام ہے کہ انہوں نے بدعنوانی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اختیارات کا ناجائزاستعمال کیا۔ جس سے قومی خزانے کو24 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بینک آف خیبر پشاور کے افسران/ اہلکاران کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر قواعد و ضوابط اور اپنے اختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئے تقریباَ14 سو افراد کو بھرتی کیا جس سے قومی خزانے کو24ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ملک محمد عثمان چئیرمین ڈسٹرکٹ کونسل ضلع قلعہ عبداللہ بلوچستان و دیگر کے خلاف انکوئری کا فیصلہ کیا گیا ان پر مبینہ طورپر بدعنوانی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اختیارات کے ناجائزاستعمال کا الزام ہے ۔ جس سے قومی خزانے کو 120ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں محمد اسمعیل گجر ، سابق چئیرمین کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کا فیصلہ کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر سرکاری زمیں الاٹ کی اور اپنے اخیتارات کا ناجائز استعمال کیا جس سے قومی خزانے کو 8.402 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ذاکر حسین سابق وائس چانسلر رجسٹرار ، ڈائریکٹر لیہ اور سائیوال کیمپس گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد اور میسرز ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کیخلاف عدم ثبوت کی بنا پر انکوائریاں بند کرنے کی منظور ی دی گئی۔چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے اجلاس کے اختتام پر نیب کے تمام افسران کو ہدایت کی کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہماری اولین ذمہ داری ہے ، نیب افسران تمام انکوائریوں اور انسوسٹی گیشن کوقانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائیں ۔ ان کو غیر معینہ مدت تک التواء میں رکھنے پر اب نہ صرف سخت نوٹس لیا جائے گا اور غفلت برتنے والے نیب افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

قومی احتساب بیورو

لاہور (خبر نگار) ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب پنجاب بریگیڈیئر(ر) مظفر علی رانجھا کے خلاف تحقیقات کا حکم جاری ہونے سے متعلق نیب ترجمان نے کہا ہے کہ نیب کسی بھی ادارے،سرکاری افسر یا پرائیویٹ شخص سے مطلوبہ ریکارڈ طلب کرسکتا ہے۔ڈی جی اینٹی کرپشن نے نیب کو ریکارڈ کو پیش نہ کرکے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔جس پر ڈی جی اینٹی کرپشن کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اس حوالے سے اینٹی کرپشن پنجاب کی ترجمان نے کہا ہے کہ نیب کے ساتھ مکمل طور پر تعاون کرنے کو تیار ہے اور تعاون کیا بھی جارہا ہے۔نیب نے جن کمپنیوں کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن کا ریکارڈ طلب کیا ہے اُن 56کمپنیوں کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن بڑے پیمانے پر تحقیقات کررہا ہے۔جس کی ڈی جی اینٹی کرپشن خود تحقیقات کررہے ہیں اور اسی وجہ سے ان کمپنیوں کا ریکارڈ فراہم کرنے پر تاخیر کی گئی ہے۔ا س میں ڈی جی اینٹی کرپشن نے کسی قسم کا اختیارات سے تجاوز نہ کیا ہے۔

نیب/اینٹی کرپشن پنجاب

مزید : صفحہ اول