نواز شریف سمیت اہم شخصیات کی عاصمہ جہانگیر کے گھر آمد ، ورثا سے اظہار تعزیت

نواز شریف سمیت اہم شخصیات کی عاصمہ جہانگیر کے گھر آمد ، ورثا سے اظہار تعزیت

لاہور(نامہ نگار خصوصی /نامہ نگار)معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کی وفات پر دوسرے روز بھی ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہاجبکہ ملک بھر کے وکلاء نے ان کے سوگ میں ہڑتال کی ،پاکستان بار کونسل سمیت مختلف وکلاء تنظیموں نے ان کی وفات پر 3روزہ سوگ کا اعلان کررکھا ہے ۔مرحومہ کی نماز جنازہ آج بعدازنماز ظہر سہ پہر 3بجے قذافی سٹیڈیم کے ساتھ ایل سی سی اے گراؤنڈلاہور میں ادا کی جائے گی ۔مرحومہ کے لواحقین سے تعزیت کیلئے ان کے گھر آنے والوں میں سابق وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف ،ان کی صاحبزادی مریم نواز ،اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی ،پاکستان بار کونسل کے ارکان محمداحسن بھون،اعظم نذیر تارڑ،سابق وزیرخارجہ خورشید قصوری،بیرسٹر اعتزاز احسن،پیپلز پارٹی کے راہنما قمرزمان کائرہ ،جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ ،فرید پراچہ اورآصف کرمانی سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بڑی تعداد شامل ہے ۔سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مرحومہ کی بیٹی منیزے جہانگیر سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر نے جمہوریت کی بقا کیلئے جنگ لڑی اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، عاصمہ جہانگیر نے آمریت کے خلاف آواز حق بلند کی اور بے سہارا و نادار افراد کا سہارا بنیں۔ وہ غریب پرور تھیں ،لوگوں کا ساتھ دینے والی تھیں،کمزورسے کمزور کا ساتھ دیتی تھیں اورمشکل حالات میں ساتھ نہیں چھوڑتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ مرحومہ خوش اخلاق تھیں ، جمہوریت کیلئے جہدوجہد کر نے والی خاتون تھیں اور بہت اچھا نام کما کر دنیا سے گئیں،اللہ ان کے درجات بلند کرے۔اس موقع پر میاں محمد نواز شریف نے عاصمہ جہانگیر کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔مریم نواز نے عاصمہ جہانگیر کا مشن جاری رکھنے کے حوالے سے صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہر انسان جو دل رکھتا ہے اسے مظلوموں کی آواز بننا چاہیے، عدلیہ کے مختلف اقدامات پر عاصمہ جہانگیر کی تنقید کے حوالے سے مریم نواز نے کہا کہ سچ بولنے کو تنقید کا نام نہیں دینا چاہیے وہ اصلاح اور اچھے کیلئے ہوتا ہے۔اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر ایک بڑا نام تھیں اور وہ ہمیشہ غریب کی آواز بنیں ، ان کے جانے سے دنیا سے تاریخ کا ایک باب بند ہوگیا ہے۔عاصمہ جہانگیر کی صاحبزادی منیزے جہانگیر نے اپنی والدہ کے حوالے سے کہا کہ وہ تھوڑا تھوڑا کرکے بہت سے لوگوں میں زندہ ہیں، ان کی والدہ نے لوگوں کو بات کرنے کا حوصلہ دیا۔وہ ایک ایسے ملک سے جارہی ہیں، جہاں چھوٹی بچیوں کے ساتھ بداخلاقی کی جاتی ہے اورکوئی آواز بھی نہیں اٹھاتا، ایسے ملک میں وہ لڑتی رہی ہیں اور انہوں نے ہمیں کبھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ انہیں ڈرلگتا تھا، اب وہ ہم میں نہیں لیکن میں سمجھتی ہوں کہ وہ کہیں نہ کہیں ہم سب میں تھوڑی تھوڑی ہمت چھوڑ گئی ہیں ۔مرحومہ کے خاندانی ذرائع کے مطابق نماز جنازہ کے بعدان کی تدفین بیدیاں روڈ پر واقع فارم ہاؤس میں ہوگی ۔وکلاء نے گزشتہ روز ان کے سوگ میں ماتحت عدالتوں میں مکمل جبکہ اعلیٰ عدالتوں میں جزوی ہڑتال کی اور فوری سماعت کے متقاضی مقدمات کے سوا کسی کیس میں پیش نہیں ہوئے ۔

عاصمہ جہانگیر/تعزیتیں

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...