جہانگیر ترین کو جتوانے والے ووٹر وں نے ان کے بیٹے کو ہرا دیا

جہانگیر ترین کو جتوانے والے ووٹر وں نے ان کے بیٹے کو ہرا دیا
جہانگیر ترین کو جتوانے والے ووٹر وں نے ان کے بیٹے کو ہرا دیا

  

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری

زمینی حقائق پر نظر رکھنے والوں کے لئے تو لودھراں کے حلقہ این اے 154 کا نتیجہ غیر متوقع نہیں ہے البتہ جو تجزیہ نگار یہ طے کرکے بیٹھے تھے کہ جہانگیر ترین کا بیٹا علی ترین جیتے گا، انہیں خاصی مایوسی ہوئی ہوگی، درحقیقت یہ بیٹے کی نہیں، باپ کی شکست ہے۔ بیٹا تو انتخابی میدان میں نووارد ہے۔ انتخابی مہم بھی جہانگیر ترین ہی چلاتے رہے اور پولنگ والے دن اپنے ہیلی کاپٹر سے نیچی پرواز کرکے بدترین شکست کا نظارہ کرتے رہے۔ اس حلقے کی حد تک موروثی سیاست کا سِکّہ نہیں چل پایا ہے، یہ حلقہ ویسے بھی اپنی نوعیت کا منفرد حلقہ ہے جہاں چار برس آٹھ ماہ کے دوران تین بار انتخاب ہوئے، پہلی بار 2013ء میں عام انتخاب ہوئے تو جہانگیر ترین جو تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل ہیں آزاد امیدوار صدیق بلوچ سے ہار گئے، عام انتخابات میں یہاں مُسلم لیگ (ن) کا امیدوار بھی تھا وہ بھی ہار گیا۔ یہ حلقہ اُن چار حلقوں میں سے ایک ہے جہاں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بقول ’’منظم دھاندلی‘‘ ہوئی تھی، وہ اس دھاندلی کے خلاف جو تحریک لے کر اُٹھے، اس کا ابتدائی مطالبہ ان چار حلقوں کو کھولنے کا تھا، جس انداز میں وہ چاہتے تھے اس طرح تو یہ کھُل نہیں سکتے تھے البتہ قانونی طریقہ انتخابی عذرداری کا تھا جو ان سب حلقوں میں ہارنے والے امیدوار اختیار کر سکتے تھے اور وہی اُنہوں نے اختیار بھی کیا۔ جہانگیر ترین کی عذرداری پر سُپریم کورٹ نے اس حلقے کا انتخاب کالعدم قرار دے دیا، البتہ کِسی امیدوار کو نااہل قرار نہیں دیا گیا، صدیق بلوچ کو دوبارہ انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی گئی، دوسری بار 2015ء میں ضمنی الیکشن ہوا تو جہانگیر ترین نے صدیق بلوچ کو شکست دے دی جو اب مسلم لیگ (ن) کے امیدوار تھے۔ جہانگیر ترین کو سُپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کی رُکنیت کا نااہل قرار دے دیا تو اب تیسری بار یہاں ضمنی انتخاب ہوا، یہ آخری ضمنی الیکشن تھا اب کوئی پارلیمینٹ پر لعنت بھیج کر استعفا بھی دے دے تو ضمنی انتخاب نہیں ہونے والا، اب عام انتخابات تک یہ نشستیں خالی رہیں گی۔ پوری تصویر یہ سامنے آئی ہے کہ اس حلقے میں ایک بار آزاد امیدوار جیتا (صدیق بلوچ)، دوسری بار تحریک انصاف کا امیدوار جیتا (جہانگیر ترین)، تیسری بار مُسلم لیگ (ن) کا امیدوار جیتا (پیر محمد اقبال)۔ علی ترین کو تحریک انصاف کی جانب سے انتخاب لڑنے کے لئے ٹکٹ دیا گیا تو عدالتوں میں عمران خان کی وکالت کرنے والے نامور وکیل نعیم بخاری نے اس پر اعتراض کیا۔ اُن کا کہنا تھا تحریک انصاف موروثی سیاست کی مخالف ہے، اِس لئے ٹکٹ کِسی اور امیدوار کو دیا جائے، لیکن اُن کی یہ دلیل نہیں مانی گئی کیونکہ یہ جہانگیر ترین کا حلقہ ہے وہ اگر خود الیکشن نہیں لڑ سکتے تو وہی لڑے گا جس پر وہ دستِ شفقت رکھیں گے اور ظاہر ہے اُن کی نظر میں علی ترین سے زیادہ مُستحق کون ہو سکتا تھا، دلیل اتنی ’’وزنی‘‘ تھی کہ موروثی سیاست کے کٹر مُخالف عمران خان کو اپنے سیکرٹری جنرل کی بات ماننا پڑی۔ جہانگیر ترین پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہی نہیں، سب سے بڑے فنانسر بھی ہیں، اُن کا جہاز اور ہیلی کاپٹر پارٹی کے تصرف میں رہتا ہے، اُن کی بات کیونکر ٹالی جا سکتی تھی، چنانچہ پارٹی کے نظریئے کو فراموش کرکے ’’موروثی سیاست زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگا دیا گیا، تاہم یہ یاد رہے کہ کوئی دوسرا اس سے یہ نتیجہ نہ نکالے کہ موروثی سیاست اس کے لئے بھی مباح ہو گئی، یہ اعزاز صرف جہانگیر ترین کے لئے تھا اگر کِسی دوسرے مخالف سیاست دان کا بھائی یا بیٹا الیکشن لڑے گا تو یہ موروثی سیاست تحریک انصاف کے لئے قابلِ قبول نہ ہوگی۔ اپنے لئے پیمانے ہمیشہ مختلف ہوتے ہیں۔

اس حلقے میں تحریک انصاف کے امیدوار کیوں ہار گئے؟ دیکھا جائے تو اُنہی ووٹروں نے علی خان ترین کو ہرایا ہے جنہوں نے اُن کے والد جہانگیر ترین کو جتوایا تھا، ڈھائی برسوں میں یہ تبدیلی کیوں کر واقع ہو گئی؟ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ حلقے کا ووٹر کنفیوژ تھا کیونکہ ایک جانب تو تحریک انصاف اسمبلیوں سے استعفے دیتی رہی اور کئی ماہ تک اس کے ارکان اسمبلی میں نہیں آئے، یہ تو سپیکر ایاز صادق کی مہربانی تھی کہ اُنہوں نے استعفے منظور نہ کئے ورنہ یہ سارے ارکان فارغ ہو جاتے، تازہ ترین واقعہ لاہور میں ہوا جہاں پارلیمینٹ پر لاکھوں لعنتیں برسائی گئیں، اگرچہ استعفے کا اعلان تحریک انصاف کے اتحادی شیخ رشید نے اس امید پر کر دیا تھا کہ اُن کے اعلان کے بعد استعفوں کی بارش موسلادھار برسے گی لیکن یہ نہ ہو سکا، شیخ رشید بھی اعلان تک محدود رہے۔ البتہ ووٹروں کو یہ پیغام گیا کہ جو حضرات جس اسمبلی پر لعنت بھیج رہے ہیں، اُن سے تعلق رکھنے والوں کو دوبارہ منتخب کرکے اس ’’لعنتی اسمبلی‘‘ میں بھیجنے کی کیا ضرورت ہے؟ ووٹروں نے یہ بھی سمجھا کہ جو لوگ ہماری رائے کی پہلے ہی توہین کر رہے ہیں، انہیں دوبارہ منتخب کرنے سے کیا حاصل؟ ایک طرف استعفے دوسری طرف ضمنی الیکشن میں جیتنے کے لئے جان ماری، بات کوئی بنتی نہیں، اِس لئے ووٹروں نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ اس جماعت کو ہرا دیا جائے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد یہ تیسرا ضمنی الیکشن تھا، پہلا الیکشن لاہور کے حلقہ نمبر 120 میں ہوا، یہ نشست نوازشریف نے خالی کی اور اُن کی اہلیہ کلثوم نواز نے جیت لی۔ انتخابی مہم کے دوران ہی اُنہیں علاج کے لئے لندن جانا پڑا جہاں سے وہ اب تک واپس نہیں آئیں اور نہ ہی رکنیت کا حلف اُٹھا سکی ہیں، اس لئے یہ نشست خالی چلی آ رہی ہے۔ دوسرا الیکشن چکوال کے حلقہ پی پی 120 میں ہوا، اِس حلقے میں بھی مُسلم لیگی امیدوار جیتا اور تحریک انصاف ہار گئی حالانکہ یہاں پیپلزپارٹی نے بھی اس کا ساتھ دیا تھا، تیسرا ضمنی انتخاب این اے 154 میں ہو رہا تھا جہاں مُسلم لیگ (ن) جیت گئی، پہلی دونوں نشستیں تو مسلم لیگ (ن) نے ہی خالی کیں اور دوبارہ حاصل کر لیں، البتہ لودھراں میں مُسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کی جیتی ہوئی نشست چھین لی، اس طرح قومی اسمبلی کی مُدّت کے اختتام تک مسلم لیگ (ن) کی ایک نشست بڑھ گئی اور تحریک انصاف کی ایک نشست کم ہو گئی۔ یہاں یہ بات خصوصی طور پر قابلِ لحاظ ہے کہ عمران خان خود اس حلقے میں گئے اور عام جلسے سے خطاب کیا جبکہ مسلم لیگ (ن) کا کوئی مرکزی رہنما اس حلقے میں نہیں گیا۔ اِس کے باوجود تحریک انصاف کی شکست بڑی اہمیت رکھتی ہے، عام انتخابات پر بھی اس نتیجے کا اثر پڑے گا۔

باپ بیٹا

مزید : صفحہ اول /تجزیہ