برطانیہ کا برمامیں مسلمانو کے قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

برطانیہ کا برمامیں مسلمانو کے قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

نیپیڈو(آن لائن) برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے برما کی ریاست رخائین میں مسلمانوں کے قتلِ عام کی آزادانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کردیا۔برطانوی وزیر خارجہ نے میانمار کا دورہ کیا جہاں انہوں نے آنگ سان سوچی پر رخائین ریاست میں ہونے والے فسادات کی تحقیقات کروانے کے لیے زور دیا۔برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن چار روزہ ایشیا کے دورے پر ہیں جہاں وہ 11 فروری کو میانمار کے دارالحکومت نیپیڈو پہنے جہاں انہوں نے آنگ سان سوچی سے ملاقات کی جن کی شہرت بین الاقوامی برادری میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے بعد پہلے ہی تنزلی کا شکار ہے۔آنگ سان سوچی سے ملاقات کے بعد برطانوی وزیر خارجہ نے بنگلہ دیش کے ضلع کوس بازار کا دورہ کیا جہاں میانمار آرمی کے کریک ڈان کے بعد لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں نے کیمپوں میں پناہ حاصل کی تھی اور اس وقت بھی 70 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان یہاں قیام پذیر ہیں۔اپنے ایک بیان میں برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے میانمار کے حکام پر رخائین ریاست میں مسلمانوں کے قتل عام اور علاقے میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی جامع اور شفاف تحقیقات کی اہمیت کو واضح کردیا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔برطانوی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رخائن ریاست میں ہنگامی بنیادوں پر ایسے قدامات کیے جائیں جس کے تحت روہنگیا مسلمانوں کی اپنے علاقوں میں واپسی ممکن ہو سکے اور وہ بلا کسی خوف و خطر علاقے میں اپنی زندگی گزار سکیں۔خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے میانمار حکومت پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے رخائین ریاست میں بسنے والے مسلمانوں کو سرحد عبور کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ایک غیر سرکاری تنظیم ڈاکٹرز ودآٹ بارڈرز نے تخمینہ لگایا تھا کہ گزشتہ برس ہونے والی ہنگامہ آرائی کے پہلے مہینے میں میں 6 ہزار 700 روہنگیا مسلمان مارے گئے تھے۔میانمار نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے متنازع علاقے میں اقوامِ متحدہ کو کام کرنے سے بھی روک دیا تھا۔خیال رہے کہ میانمار کو اس وقت بین الاقوامی برادری کی جانب سے ان فوجی اہلکاروں کو سزائیں دینے کے دبا کا سامنا ہے جو روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور مظالم میں براہِ راست ملوث تھے۔

مزید : علاقائی