اثاثہ جات ریفرنس، اسحق ڈار کیخلاف ماناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا ء کا بیان قلمبند

اثاثہ جات ریفرنس، اسحق ڈار کیخلاف ماناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا ء کا ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ریفرنس کی سماعت کے دوران پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند کرلیا گیا۔احتساب عدالت کے جج بشیر نے ریفرنس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران واجد ضیاء نے پاناما جے آئی ٹی کی اصل رپورٹ کا والیم 1 اور 9 عدالت میں پیش کردیا۔احتساب عدالت کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے واجد ضیاء نے بتایا کہ5 مئی 2017کو سپریم کورٹ نے میری سربراہی میں جے آئی ٹی بنائی ۔جے آئی ٹی نے اسحق ڈار سمیت مختلف شخصیات کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔اس موقع پر احتساب عدالت کے جج نے واجد ضیاء سے کہا کہ آپ کواپنے کیس میں اسحاق ڈار کیس تک محدود رہنا ہے۔واجد ضیاء نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے ایس ای سی پی، بینکوں، ایف بی آر اور الیکشن کمیشن سے ریکارڈ لیا۔انہوں نے بتایا کہ 1992ء کی ویلتھ سٹیٹمنٹ کے مطابق اسحق ڈارکے اثاثے 9.1 ملین روپے کے تھے جبکہ 09۔2008 میں ان کے اثاثوں کی مالیت 831.6 ملین روپے تک پہنچ گئی۔واجد ضیاء نے بتایا کہ اسحاق ڈار کے اثاثوں میں اس عرصے کے دوران 91 گنا اضافہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ اسحاق ڈار کے اثاثے ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں جبکہ وہ اپنی آمدن سے زائد اثاثوں کا کوئی جواز پیش نہ کرسکے۔واجد ضیاء کے مطابق اسحاق ڈار نے 2005 میں براق ہولڈنگز میں 5.5 ملین پاؤنڈز کی سرمایہ کاری کی جبکہ 2008 میں 4.9 ملین برطانوی پاؤنڈز بیٹے کو قرض دیئے لیکن بیٹے کا نام ظاہر نہیں کیا اور وہ اس رقم کا ذریعہ بھی نہیں بتا سکے۔پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کا بیان ریکارڈ ہونے کے بعد اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 14 فروری تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اثاثہ جات ریفرنس

مزید : کراچی صفحہ اول