انتظار قتل کیس ،وزیراعلیٰ سندھ نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

انتظار قتل کیس ،وزیراعلیٰ سندھ نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے انتظاراحمد جوکہ 13 جنوری 2018 کو سی ویو پر فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے تھے کے والدکی درخواست پر جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی)تشکیل دے دی ہے جوکہ اس قتل کے مقدمے کی تفتیش و تحقیقات کرے گی۔اشتیاق احمد اپنے وکیل اور بھائی کے ہمراہ وزیر اعلی ہاؤس کے گیٹ نمبر 2 پر پہنچے اور انہوں نے وزیر اعلی سندھ سے ملاقات کی درخواست کی۔سیکوریٹی عملے نے اشتیاق احمد کو بتایا کہ وزیر اعلی سندھ دفتر میں نہیں ہیں اور بغیر اپائنمنٹ کے وہ ان سے ملاقات نہیں کرسکتے۔ وہ وہاں کچھ عرصے کے لیے رکے۔ جب وزیر اعلی سندھ کو فون پر اشتیاق احمد کی فوری ملاقات سے متعلق بتایا گیا تو وزیر اعلی سندھ نے اپنے عملے کو ہدایت کی کہ وہ اشتیاق احمد کو ان کے چیمبر میں بٹھائیں وزیر اعلی سندھ آئے اور انہوں نے ان سے وہاں پر ملاقات کی اور ان کی درخواست پر وزیر اعلی سندھ نے سیکریٹری داخلہ قاضی شاہد پرویز کو ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کے تحت جے آئی ٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی اور ایک گھنٹے کے اندر نوٹیفکیشن جاری کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ سیکریٹری داخلہ نے نوٹیفکیشن نمبر (LE-I)HD/08-04/2018(JIT)جاری کیا جس کے تحت ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ، کمیٹی کے دیگر اراکین میں ڈی آئی جی ساؤتھ ، آئی ایس آئی کے نمائندے (میجر رینک سے نیچے نہیں )، آئی جی کے نمائندے (ایس پی کے رینک کے برابر) ، پاکستان رینجرز(گزیٹڈ آفیسر)، اسپیشل برانچ(ایس پی کے رینک کے برابر) اور ایم آئی کا نمائندہ(میجر کے رینک سے نیچے نہ ہو) شامل ہیں ۔نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی اس معاملے کی تحقیقات کرے گی اور 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ ضروری کارروائی کے لیے محکمہ داخلہ کو پیش کرے گی۔

مزید : کراچی صفحہ اول