سینیٹ الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا مرحلہ مکمل

سینیٹ الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا مرحلہ مکمل

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سینیٹ الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے ۔سندھ سے 42امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور اور 5کے مسترد ہوگئے ۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کو متحد ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فاروق ستار پارٹی کی کمان سنبھالیں اور مسائل آپس میں بیٹھ کر حل کریں جبکہ صوبائی الیکشن کمشنر سندھ یوسف خٹک نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی تحلیل ہو یا کوئی اور معاملہ اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ایم کیو ایم کے منشور میں 19 اے کے مطابق رابطہ کمیٹی کو امیدواروں کے انتخاب کا اختیار ہے ۔فاروق ستار بھی کل آئے تھے انہوں نے ہماری رائے سے اتفاق کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ایوان بالا کی سندھ سے بارہ نشستوں پر امیدواروں کے کاغذات کی اسکروٹنی مکمل ہوگئی ہے ۔42امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور اور 5کے کاغذات مسترد ہوگئے ہیں جس کے بعد 12 نشستوں پر 39 امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں ۔الیکشن کمیشن سے سینیٹ الیکشن کے لیئے مجموعی طور پر 161 فارم وصول کیئے گئے تھے۔44امیدواروں نے47 فارم جمع کروائے ۔4 امیدواروں کے 5 فارم رد ہونے کے باعث اب12 نشستوں کے لیئے 42 فارم اور 39 امیدوار میدان میں رہ گئے ۔کاغذات نامزدگی واپس لینے کا مرحلہ باقی رہ گیا ہے ۔ایکشن کمیشن میں فارم مسترد ہونے والے امیدوار منگل کو اپیل کرسکیں گے ۔اپیلیں 15فروری تک نمٹائی جائیں گی ۔پیپلزپارٹی کے تمام 20 امیدواروں کے کاغذات درست قرار ،ایم کیوایم اور پی ایس پی کے پانچ امیدوار مقابلے کی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں ۔پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر سکندر میندھرو ،قرت العین عینی مری ،حمیراعلوانی ،کرشنا کولہی،ندا کھوڑو ،یونس کھوڑو ،رخسانہ زبیری ،انور لال ڈین اور انتھوئی نوید کے کاغذات نامزدگی درست قرار دیئے گئے ۔سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ نشست پر تحریک انصاف کے نجیب ہارون جبکہ اقلیتی نشست پر سنجے پروانی کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ۔امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے پر پارٹی کارکنوں نے الیکشن کمیشن میں مٹھائی تقسیم کی اور ایک دوسرے کو کامیابی کی پیشگی مبارکباد دی۔سینیٹ الیکشن کے لیے کاغذات منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیل 15 فروری تک اور 19فروری کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی. پیپلزپارٹی نے اپنے بارہ حتمی امیدواروں کا اعلان کردیا ہے. ایم کیوایم کا داخلی انتشار امیدواروں کا چنا= کرنے میں رکاوٹ ہے۔پیپلزپارٹی کے امیدوارون کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم تمام 12 نشستوں پر الیکشن لڑینگے۔ہم سیاسی جماعت ہیں۔عوام کی خدمت کرکے امیداروں کی کامیابی کی کوشش کرینگے۔ سابق ایس ایس پی ملیر را ؤانوار کے معاملے پر سب سے مدد طلب کی ہے۔ملزمان کی گرفتار ی کے لیے کوششیں کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل فائنل کیلئے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، بڑے ایونٹ کیے ہیں، پی ایس ایل کا فائنل بھی احسن طریقے سے ہوگا، سب کو مل کر عوام کی خدمت کرنی چاہیے، ہم سیاسی پارٹی ہیں عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ایم کیو ایم کے اختلافات پر بات کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ فاروق ستار پارٹی کی کمان سنبھالیں اور مسائل آپس میں بیٹھ کر حل کریں۔فاروق ستار ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ایم کیوایم کے عام ورکرز اور ووٹرز نے سب سے زیادہ تکلیف برداشت کی ہیں ۔آنے والے دنوں میں کراچی کے شہری ایم کیوایم کو مسترد کرینگے۔چیف الیکشن کمشنر سندھ یوسف خٹک نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امیدواوں کی اسکروٹنی کے لئے تین دن رکھے تھے۔احمد چنائے کے جنرل نشست پر کاغذات نامزدگی منظور ہوچکے ہیں تاہم ٹیکنو کریٹس کی نشست پر احمد چنائے کے کاغذات پر کچھ تحفظات ہیں۔ابھی تک 4امیدواروں کاغذات مسترد کئے گئے ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی کے صابر محمود کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ نے دیگر کے کاغذات بھی تجویز کئے تھے ۔ صوفیہ سعید شاہ کے کاغذات بھی تکنیکل بنیادوں پر مسترد ہوئے۔ایم کیو ایم کے عامر ولی الدین چشتی بینکوں کے نادہندہ نکلے جس کی وجہ سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ۔صوبائی الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کی تحلیل اور اختلافات ان کا داخلی معاملہ ہے۔ہمار ا تعلق پارٹی ٹکٹ تک تھا۔رابطہ کمیٹی نے ایک خط کے زریعے خالد مقبولصدیقی کو دستخط کرنے کا اختیار دیا تھا۔ایم کیو ایم کے امیدوار خالد مقبول صدیقی کا اتھارٹی لیٹر لا ئے تھے۔ 2017 کے الیکشن رولز کے مطابق امیدوار پارٹی تسلیم کرنے کی بعد سرٹیفکیٹ لازمی ہوتا ہے ۔ایم کیو ایم نے پارٹی ٹکٹ کے رول19-A کے تحت جو اختیار تفویض کیے ہیں ان کا اپنا بنایا ہوا ہے ۔سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خرید وفروخت پر ایکشن لینے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس حوالے سے ثبوت موجود ہیں تو الیکشن کمیشن کو دے ہم اس پر قانون کے مطابق کارروائی کریں گے ۔الیکشن میں شفافیت کے لیے ہر قدم اٹھائینگے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے وفاقی وزرات داخلہ کوعدم تعاون پر انتباہی خط لکھا ہے ۔وفاقی وزارت داخلہ دوہری شہریت حامل امیدواروں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کررہا ہے ۔امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال میں تاخیر کی ذمہ دار وزارت داخلہ ہوگی۔

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...