اوپن یونیورسٹی، 3 روزہ بین الاقوامی سائنس کانفرنس شروع ،غیر ملکی ماہرین شریک

اوپن یونیورسٹی، 3 روزہ بین الاقوامی سائنس کانفرنس شروع ،غیر ملکی ماہرین شریک

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبہ فزکس کے زیر اہتمام"نینو میٹریل ماڈلنگ اینڈ سمولیشن" کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس گذشتہ روز )سوموار(کو شروع ہوگئی ہے۔ اپنی نوعیت کی اِس پہلی کانفرنس میں شعبہ فزکس سے وابستہ امریکہ ٗ برطانیہ ٗ جرمنی ٗ جنوبی افریقہ ٗ چین ٗ سویڈن ٗ ازبکستان اور پاکستان کی بڑی جامعات کے 50 سے زائد نامورماہرین تعلیم شریک ہیں۔افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ اوپن یونیورسٹی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ریسرچ جرنلز کی اشاعت اور کانفرنسسز کے انعقاد پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ اس پلیٹ فارم سے سماجی بھلائی کے نئے نئے آئیڈیاز کو ترقی ملے اور ریسرچ کے نتائج کی ترویج کے لئے یہی بہترین ذریعے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی یہ کانفرنس ریسرچ کلچر کے فروغ کے لئے یونیورسٹی میں گذشتہ سوا تین سال سے جاری سرگرمیوں کا حصہ ہے۔قومی و غیر ملکی ماہرین تعلیم نے اوپن یونیورسٹی کی ریسرچ کلچر کے فروغ کے لئے خدمات اور اقدامات کو شاندار الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ نینوٹیکنالوجی پر منعقدہ اس کا نفرنس سے اوپن یونیورسٹی کے سکالرزکی تحقیقی ڈیولپمنٹ ہوگی جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے ضروری ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اوپن یونیورسٹی میں جاری اِن ریسرچ سرگرمیوں سے سماجی مسائل کے حل میں مثبت تبدیلی آئے گی ۔مقررین نے اِن سرگرمیوں کو پاکستان کے دوسرے تعلیمی اداروں کے لئے روڈ میپ قرار دیا۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ اِن کانفرنسسز کا ایک بڑا مقفصد یونیورسٹی کے سکالرز کو سماجی مسائل سے لنک اور بامعنی تحقیق کے لئے قومی و عالمی سطح کے نامور محققین کی تجربات سے مستفید ہونے اور اُن سے راہنمائی حاصل کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوا تین سال قبل وائس چانسلر کے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی انہوں نے یونیورسٹی کی مجموعی ڈیولپمنٹ کے لئے ایک خاکہ تیار کیا اور کچھ اہداف مقرر کئے جن میں ریسرچ کلچر کے فروغ کو سرفہرست ترجیح رکھی اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے نتیجے میں کانفرنسسز کے انعقاد اور ریسرچ جرنل کی تعداد کے حوالے سے اوپن یونیورسٹی پاکستان بھر کی جامعات میں ٹاپ پوزیشن پر آگئی ہے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ سوا تین سال کے مختصر عرصے میں یونیورسٹی نے 29قومی و بین الاقوامی کانفرنسسز منعقد کی ہیں اور 17ریسرچ جرنلز شائع کئے۔کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے شعبہ فزکس کے چئیرمینُ پروفیسر ڈاکٹر ظفر الیاس نے کہا کہ یہ کانفرنس دو حصوں پر مشتمل ہیں ایک نینو ٹیکنالوجی کے پریکٹیکل کام پر اوردوسرا حصہ ماڈلنک اینڈ سمولیشن کی تھیوری پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ ان تین دنوں میں 107مقالے پیش کئے جائیں گے جو ریسرچ کے حوالے سے شعبہ فزکس کے سکالرزکے سیکھنے اور سمجھنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ کانفرنس ہال کے باہر اکیڈمک بلاک کے کوریڈور میں شعبہ فزکس کے ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبہ نے پوسٹرز پریذنٹیشن/نمائش کے تحت نینو میٹریل سے تیارکردہ مختلف پراجیکٹس نمائش میں رکھے ہیں۔ان پراجکٹس میں سکول کی سمارٹ گھنٹی ٗ سفید بورڈ کی صفائی کے لئے آٹومیٹک ربڑ ٗ ریلوے کراسنگ دروازے کی آٹو کنٹرولنگ ٗ سٹریٹ لائٹس کی آٹومیٹنگ آن /آف ٗ مشین کی ضرورت سے زیادہ گرم ہونے کا پتہ چلانے والا آلہ ٗ چھت پر پانی کی ٹینکی کی پانی کی سطح کنٹرول کرنے کا آلہ ٗ پاس ورڈ کی بنیادپر دروازوں کو لاک کرنے کے نظام کا آلہ ٗ ڈیم سپل وے کی کنٹرولنگ کا آلہ جیسے دیگر مفید پراجکٹس اور آلات شامل ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر /راولپنڈی صفحہ آخر