سرکاری نوکریوں کی بندر بانٹ برادریوں میں خانہ جنگی کاباعث بنے گی،خواجہ اکبر

سرکاری نوکریوں کی بندر بانٹ برادریوں میں خانہ جنگی کاباعث بنے گی،خواجہ اکبر

مظفرآباد(بیورورپورٹ)مسلم لیگ ن نیلم کے ممتاز نوجوان راہنما خواجہ محمداکبر ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ میرٹ کے قتل عام سے ریاست میں عوام کاعدم استحکام غیرمستحکم ہورہاہے ۔ سرکاری نوکریوں کی بندر بانٹ برادریوں میں خانہ جنگی کاباعث بنے گی ،وزیراعظم آزادکشمیرممبران اسمبلی اور بیوروکریسی کی من مانیوں کانوٹس لے،40 لاکھ آبادی کاٹیکس چند بیوروکریٹس کی نظر ہورہاہے، محکمہ جات میں بھرتیوں کیلئے این ٹی ایس کے بعد انٹرویو ز کے نمبرات ختم کیئے جائیں۔ان خیالات کااظہار مسلم لیگ ن نیلم کے مرکزی نوجوان راہنما خواجہ محمد اکبر ایڈووکیٹ نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ اسوقت ریاست عدم مساوات کی بناء پر عدم استحکام کاشکار ہے ۔ گڈگورننس کیلئے وزیرا عظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان بیوروکریسی سمیت حکومت میں ہونیوالی بے ضابطگیوں کانوٹس لیاجائے انہوں نے کہاکہ میرٹ کے قتل عام اور عدم،مساوات کی وجہ عوام کا ریاست پر سے اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری نوکریوں میں آ بندر بانٹ کی وجہ سے آزاد کشمیر میں مختلف برادریوں میں خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ وزیراعظم نوٹس لیں۔ حکومت اپنے شہریوں کو ملازمت کے یکساں مواقع فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ آزاد ریاست اور حکومتیں سرکاری ملازمتوں میں میرٹ اور شفافیت کا نظام قائم نہ کر کے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو رہی ہے۔ اگر سرکاری نوکری میرٹ پر دی جائے تو نوجوان دوسرے مواقع ڈھونڈیں گے۔ حکومت چالیس لاکھ کی آبادی سے ٹیکس اکٹھا کر کے چند سو بیوروکریٹس اور حکومتی اشرافیہ کی عیاشیوں پر خرچ کر رہی ہے۔ خواجہ محمد اکبرایڈووکیٹ کاکہنا تھا کہ وزراء اور بیوروکریٹس سرکاری نوکریاں آپس میں بانٹ رہے ہوتے ہیں آئے دن سوشل میڈیا اور اخبارات میں خبریں چھپ رہی ہیں کہ ملازمتوں میں بھرتی کے دوران انصاف کے تقاضے پور ے نہیں کیے جاتے۔ بڑے بڑے افسران اور طاقتور لوگ کسی نہ کسی بہانہ روزگار کے ذرائع پر قابض ہیں۔ کمزور درخواست دہندگان کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے، آ زادکشمیر میں ملازمتیں خریدتے ہیں یا وزراء و ممبران اسمبلی اور چند درجن بیوروکریٹس اپنی اولادوں‘ رشتہ داروں‘ یا سیاسی کارکنوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں یہ شکایات عام ہیں۔ اخبارات اس قسم کی شکایات سے بھری پڑی ہیں لیکن وزیراعظم آزاد کشمیر ان شکایات کا ازالہ نہیں کر رہے۔ بنیادی مسئلہ انصاف کا ہے یہ حکومت کی آئینی‘ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ لوگوں او ر خصوصاً مستحق افراد کو روزگار دے اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کرے۔لیکن دیکھا گیا ہے کہ حق داروں کا حق مارنے کیلئے میرٹ کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے جس کا مقصد خود روزگار حاصل کرنا اور زیادہ مستحق افراد کو روزگار سے محروم رکھنا ہے یہ ایک قسم کی سماجی نا انصافی ہے جس کو نہ روکا گیا تو آزاد کشمیر میں بڑی برادریوں کے درمیان خانہ جنگی کے خطرات موجود ہیں۔۔ریاست کا فرض ہے کہ لوگوں کو ملازمت میرٹ کی بنیاد پر دی جائے تاکہ کمزور ترین طبقات کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔ لیکن جو آفیسران خود میرٹ سے ہٹ کر تعینات ہوئے ہوں وہ افسران ان کمزور طبقات اور لوگوں کے حقوق غصب کرنے کے لیے میرے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ میرٹ کے نام پر ریاست کے وزراء اور چند درجن بیوروکریٹس جیسیطاقتور طبقات نے سرکاری نوکریوں پر قبضہ جمالیا ہوا ہے۔ازاد کشمیر کی سول سوسائٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ بے زبان شہریوں کو سرکاری نوکریوں سے حقوق سے محروم رکھنا خصوصاً حق روزگار سے محروم رکھنا ایک خطر ناک روایت ہے۔ متعصب افسران جو ان جرائم میں ملوث ہیں ان کو نہ صرف عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ ان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں۔ایسے کرپٹ اور متعصب افسران کو سخت ترین سزائیں دی جائیں جو دوسروں کا قانونی اور جائز حق غصب کرتے ہیں۔ محکمہ تعلیم میں این ٹی ایس کے زریعے ہونی والی تقرریوں میں کہیں حد تک میرٹ قائم ہوا لیکن اسمیں بھی وزراء اور ممبران اسمبلی مداخلت کرتے ہوئے سرکاری آفیسران کے زریعے انٹرویو میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی اور سنگین حق تلفی کی گئی۔ سول سوسائٹی وزیراعظم سے مطالبہ کرتی ہے کہ تمام محکمہ جات میں این ٹی ایس کے زریعے تقرریاں کرتے ہوئے انٹرویو کے نمبرات کو ختم کئے جائیں۔ اور سخت مانیٹرنگ کا نظام قائم کیا جایے۔ بے ضابطگیوں میں ملوث آفیسران کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کئے جائیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر /راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...