سیٹیزنز فاونڈیشن کا لٹریچر فیسٹیول میں فکری نشت کا اہتمام

سیٹیزنز فاونڈیشن کا لٹریچر فیسٹیول میں فکری نشت کا اہتمام

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) شہر قائد میں تین روز سے جاری نویں ادبی کتب میلے( کراچی لٹریچر فیسٹیول 2018)کے آخری روزمیں دی سیٹیزنز فاونڈیشن کے تحت فکری نشست کا اہتمام کیا گیاجس کا عنوان "تاثر اورحقیقت کے پیرائے میں بدلتا پاکستان "رکھا گیا، اس سیشن کے پینالسٹ میں ثانیہ سعید(اداکارہ)، نادیہ نیوی والا(فری لانس مصنفہ) ، سدرہ سلیم ( ایم بی بی ایس اور 2009میں ٹی سی ایف سے فارغ التحصیل)اور زیتون کریم (لیکچرر اینڈ2004میں ٹی سی ایف سے فارغ التحصیل )شامل تھے، سیشن کی نظامت کے فرائض ریاض کملانی( وائس پریزیڈنٹس ٹی سی ایف) نے انجام دیئے ، سیشن میں شرکا ء کی بہت بڑی تعداد شامل تھی، جبکہ لوگ ہال کے پیچھے کی دیوار تک موجود تھے۔ سیشن کا آغاز پاکستان میں تعلیم کے بحران کے سوال سے ہوا، جس میں خاص کر لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق بات کی گئی، اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار نادیہ نیوی والا نے کچھ اس طرح سے کیا۔ پہلے ایسا نہیں تھا لیکن اب پنجاب کے بہت سے علاقوں میں سوچ تبدیل ہوگئی ہے، اب ماں باپ لڑکوں کی تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں، جس کا اندازہ اس دلچسپ شماریوں سے لگایا جاسکتا ہے انھوں نے کچھ اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب پنجاب کے اسکولوں میں لڑکوں سے زیادہ بڑی تعداد لڑکیوں کی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں بھی حالات اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ تاہم ان علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم سے محرومی کی ایک اہم وجہ نقل و حرکت یا ٹرانسپورٹیشن ہے۔جبکہ ثانیہ سعید نے اپنے تجربات اورخیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے دیہی اور دوردراز کے علاقوں میں اسکول میں جاکر تعلیم حاصل کرنے میں سب سے بڑی دشواری خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا ان کی تقل و حرکت یا ٹرانسپورٹیشن کا ہے۔جبکہ اگر صنف کی نسبتا دیکھا جائے تو والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی کی جگہ وہ لڑکے کی تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں، میرا خیال ہے کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم نہ دلواکر انہیں زندگی کے ہر شعبے میں ناکام بنارہے ہیں، ہمیں ہر بچے کو اس کی سطح پر تعلیم دینے کی ضرورت ہے، ہمیں بچوں کی خواہشات اور خوابوں کو فروغ دینے کے لیے انہیں تعلیم یافتہ بنانے پر زور دینے کی ضرورت ہے نہ کہ ان کے خوابوں اور خواہشات کو فروغ دیا جائے۔ ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ ہمیں بچوں کو ملک کے ہر گلی کونے ہر موڑ پر تعلیم دینے کی ضرورت ہے جیسا کہ ایک سویلین ادارہ ہونے کے ناطے دی سیٹیزنز فاونڈیشن دوردراز کے علاقوں میں بچوں کو تعلیم سے روشناس کرارہاہے، ہمیں اس ماحول کو جنگی بنیادوں پر اپنانے اور اس جنگ کو جیت کر دکھانے کی ضرورت ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر /راولپنڈی صفحہ آخر