” اب تحریک انصاف کو سیکھ لینا چاہیے کہ جب وہ۔۔۔“ لودھراں الیکشن میں شکست پر سینئر صحافی منصور علی خان میدان میں آگئے، آئینہ دکھا دیا

” اب تحریک انصاف کو سیکھ لینا چاہیے کہ جب وہ۔۔۔“ لودھراں الیکشن میں شکست پر ...
” اب تحریک انصاف کو سیکھ لینا چاہیے کہ جب وہ۔۔۔“ لودھراں الیکشن میں شکست پر سینئر صحافی منصور علی خان میدان میں آگئے، آئینہ دکھا دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن منصور علی خان کا کہنا ہے کہ این اے 154 میں شکست کے بعد پی ٹی آئی کو سیکھ لینا چاہیے کہ جب وہ اپنے نعروں سے دور ہٹیں گے تو ووٹر انہیں مسترد کردیں گے۔

ٹوئٹر پر این اے 154 الیکشن کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے منصور علی خان نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ موروثی سیاست کے خلاف سٹینڈ لیا لیکن تحریک انصاف کو این اے 154 میں شکست کے بعد یہ سیکھ لینا چاہیے کہ جب بھی وہ اپنے نعروں سے دور ہٹیں گے تو ووٹر انہیں مسترد کردیں گے۔ علی ترین شروع سے ہی بطور امیدوار غلط انتخاب تھے۔

منصور علی خان نے مزید کہا کہ علی ترین کو عمران خان اور شیخ رشید سمیت پی ٹی آئی کے تمام اہم رہنماﺅں کی حمایت حاصل تھی اور انہوں نے علی ترین کی انتخابی مہم میں بھی حصہ لیا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت میں شریف خاندان کا کوئی ایک شخص بھی لودھراں نہیں گیا اور نہ ہی اس کی مہم چلائی لیکن اس کے باوجود اس کی پرفارمنس انتہائی شاندار رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی اپنی وہ محفوظ سیٹ جس پر اس کا جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین باآسانی 40 ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جیتا تھا ہار گئی ہے تو پنجاب میں پی ٹی آئی کی ان نشستوں کا کیا بنے گا جو کم محفوظ ہیں؟ کیا واقعی پی ٹی آئی کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔

اینکر پرسن کا کہنا تھا کہ این اے 154 کے انتخاب میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ شمال سے جنوب تک پنجاب میں پی پی کا صفایا ہوگیا ہے۔

لودھراں الیکشن کو لاہور میں متحدہ اپوزیشن کے جلسے سے تشبیہہ دیتے ہوئے منصور علی خان نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کے لاہور والے جلسے کو لودھراں کے ووٹروں نے عملی جامہ پہنادیا۔

’ میں یہ سوچ رہا ہوں کہ این اے 154 کے الیکشن کے بعد چوہدری نثار کیسا محسوس کر رہے ہوں گے‘۔

مزید : سیاست /علاقائی /اسلام آباد /پنجاب /لودھراں