فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر358

لاہور کے فلمی نگار خانوں کے مالک خالص پیشہ ورانہ انداز میں کام کرتے تھے۔ فلم سازوں کو بہت سی سہولتیں اور مراعات فراہم کرتے تھے جوکہ کراچی میں میّسر نہ تھیں۔ ہم نے خود کئی بار سعید ہارون صاحب سے کہا تھا کہ وہ بھی فلم سازوں کو متوّجہ کرنے کے لیے پُرکشش مراعات اور سہولتیں پیش کریں۔ جس طرح لاہور کے نگار خانے کاروباری مسابقت کے سلسلے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر مراعات پیش کرتے ہیں ۔اسی طرح ایسٹرن اسٹوڈیوز بھی سہولتیں فراہم کریں لیکن ایسا نہ ہوا۔
اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ سعید ہارون صاحب ایک بہت بڑے کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنے خاندان والوں پر اثر رسوخ نہیں رکھتے تھے۔ وہ یوسف ہارون اور محمود ہارون کے چھوٹے بھائی تھے۔ سب سے چھوٹے تھے اس لیے ان کی آواز کوئی نہیں سنتا تھا۔انکی والدہ لیڈی عبداللہ ہارون تحریک پاکستان کی سرگرم اور معززخاتوں تھیں۔ایک فلاح کار کی حیثیت میں بھی انہوں نے کراچی اور سندھ میں خدمات انجام دی تھیں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر357 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
ایک المیہ یہ بھی تھا کہ ان کے بھائیوں کو حواریوں نے یقین دلایا تھا کہ سعید ہارون میں کاروباری صلاحیتیں نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔
سعید ہارون ایک شریف النفس‘ مخلص اور دردمند انسان تھے۔ ان میں بناوٹ نام کو نہ تھی۔ غریبوں کی تکلیف دیکھ کر تڑپ جاتے تھے اور مقدور سے بڑھ کر مدد کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص کاروباری صلاحیتوں سے عاری ہی سمجھا جائے گا۔ کاروبار کرنے کے لیے نرم دلی‘ ہمدردی اور انسان دوستی گھاٹے کا سودا سمجھتے جاتے ہیں لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ جب سعید ہارون صاحب کا اچانک عارضہ قلب کی بنا پر انتقال ہوا تو لاکھوں افراد روتے پیٹتے ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔
یوسف ہارون اور محمود ہارون جو کاروباری کامیابی اور سیاست میں اہم مقام رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں‘ مقبولیت اور ہر دلعزیزی میں سعید ہارون کی پاسنگ بھی نہ تھے۔ یہ احساس انہیں خود بھی سعید کی موت کے بعد ہوا جب لاکھوں سوگوار افراد دھاڑیں مارتے ہوئے ان کے جنازے میں شرکت کے لیے پہنچ گئے۔ اگر سعید ہارون کو اختیارات اور وسائل بھی حاصل ہوجاتے تو وہ کس قدر مقبولیت حاصل کرسکتے تھے‘ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
ایسٹرن اسٹوڈیوز کی جانب سے فلم سازوں کو سہولتیں فراہم نہ کرنے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ’’ہارون گروپ‘‘ ایک دیوقامت ادارہ ہے جس کا انحصار دوسری صنعتوں اور کاروبار پر ہے۔ فلم کو ان کے نزدیک اہمیت حاصل نہیں تھی۔ درحقیقت فلم اسٹوڈیو بھی انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی سعید ہارون کے شوق کی خاطر ایک ’’کھلونے‘‘ کے طور پر بنا دیا تھا تاکہ وہ مصروف رہیں۔ اس کے فائدے اور نقصان سے انہیں زیادہ دلچسپی نہیں تھی جبکہ لاہور کے فلم اسٹوڈیوز کے مالک سرتاپا اسی کاروبار سے منسلک تھے۔ ان کی روزی‘ ترقی اور کامیابی کا انحصار بھی فلم ہی پر تھا۔ ظاہر ہے کہ ان حالات میں وہ اپنے کاروبار کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف رہتے تھے۔ اگر کراچی میں ایسٹرن اسٹوڈیوز یا کوئی اور ادارہ فلم سازوں کو ایسی ہی مراعات اور کاروباری تحفّظ فراہم کرتا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہاں بھی مضبوط بنیادوں پر فلمی صنعت قائم نہ ہوتی۔
ایک اور سبب یہ بھی تھا کہ کراچی میں جو لوگ سرمایہ فراہم کرنے کی غرض سے فلمی صنعت میں آئے وہ اس کاروبار سے واقف نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے کارندوں کے طور پر انہوں نے غلط افراد کا انتخاب کیا جس کی وجہ سے ان کا کثیر سرمایہ نقصان کی نذر ہوگیا اور وہ تائب ہوگئے۔
فلم ایک ایسا کاروبار ہے جو ہمہ وقت توّجہ اور مصروفیت چاہتا ہے۔ دنیا بھر میں فلمی صنعت کی کامیابی میں ایسے ہی افراد اور اداروں کا عمل دخل رہا ہے جو محض فلم پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ فلم میکنگ بسکٹ‘ جوتے‘ کپڑے یا ٹافی بنانے کی طرح کا بزنس نہیں ہے۔ اس میں تخلیق‘ فن اور صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک کاروباری شخص جو دوسرے کاروبار میں تو کامیاب ہوتا ہے‘ فلم کے کاروبار میں اکثر نقصان اٹھاتا ہے کیونکہ وہ اس کے اسرار و رموز سے واقف نہیں ہوتا۔ فلم سازی پارٹ ٹائم کاروبار نہ کبھی رہا ہے اور نہ بن سکتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ کراچی کے سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد میں ان مطلوبہ ضرورتوں پر پورا اترنے والا ایک فرد بھی نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں کا سرمایہ لگانے کے باوجود انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی اور یہی کراچی میں فلمی صنعت کی ناکامی کا بنیادی سبب ہے۔
*****
صحافی ہونے کی وجہ سے ہمیں کراچی کی فلمی صنعت کے بارے میں بھی معلومات حاصل تھیں۔ کچھ عرصے بعد جب نگار ویکلی کے ایڈیٹر الیاس رشیدی صاحب سے ملاقات اور دوستی ہوئی تو ہم نے ان کے پرچے میں ایک ہفتہ وار کالم بھی لکھنا شروع کردیا تھا۔ یہ لاہور کی فلمی سرگرمیوں کے بارے میں تھا جسے ہم ’’علی بابا‘‘ کے قلمی نام سے لکھتے تھے۔ اس کالم میں بہت سی ’’اندرونِ خانہ‘‘ باتیں بھی ہوتی تھیں جس کی وجہ سے یہ بہت مقبول ہوگیا۔ ہماری ملاقات اور رسائی فلمی صنعت کے ہر شخص تک تھی اس لیے بہت سے راز ہائے درون پردہ سے واقف تھے۔ اس طرح کراچی سے ہمارا پہلا باضابطہ‘ رابطہ اور واسطہ قائم ہوا۔ علی بابا کا فلمی نام ہم نے اسی مصلحت سے اختیار کیا تھا کہ جاننے والے ہم سے شکوہ شکایت نہ کریں۔ پھر بھی قریبی لوگوں کو اصلیت کا علم ہوگیا تھا اور وہ ہم سے شکایت کرتے رہتے تھے جیسا کہ سنتوش کمار اور صبیحہ خانم کی شادی اور پہلے بچّے کی پیدائش کا واقعہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔ اس کی خبر سب سے پہلے ہم نے ہی دی تھی۔
کراچی میں لاہور کے فلم سازوں کے فلم یونٹ عموماً جایا کرتے تھے جن کی وجہ سے وہاں کافی رونق اور گہما گہمی پیدا ہوجاتی تھی۔ مشرقی پاکستان کے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے فلم اسٹار کرکٹ میچ بھی منعقد ہوا کرتے تھے۔ پاکستان کے سبھی نامور فنکار ان میچوں میں شریک ہوتے تھے۔ ایک بار تو لاہور سے ریلوے کے خصوصی ڈبوّں میں یہ قافلہ کراچی گیا تھا۔ فلم اسٹارز کو دیکھنے والوں کا جمگھٹا لگ جاتا تھا۔ نگار فلم ایوارڈز کی تقاریب کے سلسلے میں بھی خوب رونق رہا کرتی تھی۔ بڑے بڑے لوگ ان تقاریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرتے تھے۔ ایک بار ذوالفقار علی بھٹّو بھی چیف گیسٹ تھے۔ وہ ان دنوں پاکستان کے وزیر صنعت تھے۔ انہیں لینے کے لیے ہم بھی 70 کلفٹن گئے تھے۔ دوسرے وزراء بھی لاہور اور کراچی کی ان تقاریب میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ کراچی والوں کے لیے فلم اسٹارز کا وہاں اکٹّھا ہوجانا ایک میلے کی حیثیت رکھتا تھا۔ مختلف معززین اور ممتاز صنعت کاروں کی طرف سے جگہ جگہ دعوتیں دی جاتی تھیں جن میں معززین شہر کے علاوہ سفارت کار بھی اکٹھے ہوا کرتے تھے۔ مختصر یہ کہ کراچی کا پاکستان کی فلمی صنعت میں بہت نمایاں کردار تھا۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر359 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...