بنی گالہ تعمیرات قانون کے دائرے میں ہیں تو ٹھیک ورنہ گرا دیں، چیف جسٹس ثاقب نثار

بنی گالہ تعمیرات قانون کے دائرے میں ہیں تو ٹھیک ورنہ گرا دیں، چیف جسٹس ثاقب ...
بنی گالہ تعمیرات قانون کے دائرے میں ہیں تو ٹھیک ورنہ گرا دیں، چیف جسٹس ثاقب نثار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں غیرقانونی تعمیر کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ آواز اٹھانے والوں کا اپنا دامن بھی صاف ہونا چاہئے،بنی گالہ تعمیرات قانون کے دائرے میں ہیں تو ٹھیک ورنہ گرا دیں، عدالت نے سی ڈی اے اورمتعلقہ یوسی سے عمران خان کے گھرکااجازت نامہ اوردستاویزات طلب کر لیں۔

دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ بنی گالہ گھرکس یونین کونسل میں ہے؟عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے بتایا کہ یہ گھر یونین کونسل 4 میں ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ضرورت پڑی تواجازت نامے کی تصدیق کرالیں گے،غلطی کااحساس ہونے پراصلاح ہوسکتی ہے،یہ بات کسی کیلئے نہیں کہہ رہا۔

بابر اعوان نے کہا کہ کیاسی ڈی اے کی کسی اورگاؤں میں ریگولیشن ہیں؟۔

اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دیکھناہے راول ڈیم کے اردگردہوٹل بن سکتے ہیں یانہیں،ریاست کی ذمہ داری ہے نالوں سے تجاوزات ختم کرے،انہوں نے کہا کہ رات 2 بجے تک فائلیں پڑھنے کاشوق نہیں ہے،اگرایگزیکٹومعاملات دیکھتے توہمیں نہ دیکھناپڑتا۔

چیف جسٹس ثاقب نثا رنے کہا کہ ان معاملات کاانسانی حقوق سے تعلق ہے،راول ڈیم میں گنداپانی جاتاہے،راولپنڈی کے لوگ پیتے ہیں،چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ سی ڈی اے کام نہیں کرتاصرف رپورٹ پیش کردیتاہے،لوگوں کواپنے حقوق کاپتہ چل جائے،یہ بڑاکام ہوگا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد