حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر 14

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر 14

وہ اور بڑے ہوئے تو انہوں نے تجارت شروع کر دی، اپنے والد کی طرح۔ بہت چھوٹے پیمانے پر! یہ مجھے کبھی معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کس چیز کی تجارت کرتے تھے، پھلوں کی، جانوروں کی، مصالحوں کی، عطر کی یا ریشم کی۔ اس بات کا کبھی ذکر نہیں آیا۔ ان تمام معمولات کے باوجود جن میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، محمدﷺ کی اپنی ذات غیر معمولی تھی۔ وہ تمام مکی انسانوں سے بہت مختلف تھے۔

مکہ تاجروں، سوداگروں اور دکان داروں کا شہر تھا اور ہر کاروبار میں چھل کپٹ کرنے والوں کی بہتات تھی۔ ان میں محمدﷺ واحد شخص تھے، جن کے بارے میں ہر زبان پر یہ تھا کہ وہ لین دین میں انتہائی ایماندار ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی کو دھوکا نہیں دیا۔ کسی کو اپنے مال کے بارے میں مغالطے میں نہیں رکھا۔ جو نقص ہوا، گاہک کو پہلے بتا دیا۔ مکے کے ماحول میں اُن کی ذات ایک عجیب مثال تھی، سب سے الگ۔ اتنا اعتبار تھا اُن کا کہ شہر کے لوگ اُن کے پاس اپنی امانتیں رکھوا جاتے تھے۔ سارے مکے میں وہ الامین کے نام سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ یہ شاید اس لئے بھی کہ اُن کا اپنا نام سب کے لئے بہت غیر مانوس تھا۔ محمدﷺ سب کے لئے ایک نیا نام تھا جو پہلے کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر 13 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ان کی امانت اور ایمان داری کا چرچا اس قدر پھیل گیا تھا کہ اُن سے تین تین گنا عمر کے تاجر انہیں بلواتے اور انہیں ثالث تسلیم کر کے آپس کے جھگڑے چکاتے۔ اس دور میں انہوں نے اتنے بڑے بڑے فیصلے کئے کہ حضرت سلیمانؑ بھی ہوتے تو ان پر فخر کرتے۔ وہی قصہ لے لیجئے، خانہء کعبہ میں حجرِاسود نصب کرنے کا۔ خانہء کعبہ کی عمارت پرانی ہو گئی تھی، اس کی دیواریں بھی نیچی تھیں اور چھت بھی نہیں تھی۔ اُس میں رکھے ہوئے بُت اور چڑھاوے کا سامان غیر محفوظ تھا۔ اُن دنوں جدہ میں ایک بحری جہاز خشکی پر چڑھ کر بے کار ہوا پڑا تھا۔ قریشِ مکہ نے وہ جہاز خرید لیا اور اس کی لکڑی سے کعبے کی تعمیرِ نو کا فیصلہ کیا۔ پرانی دیواریں گرا دی گئیں۔ حجرِ اسود کو اپنی جگہ سے ہٹا کر ایک طرف رکھ دیا گیا اور نئی دیواریں حضرت ابراہیمؑ کی رکھی ہوئی بنیادوں سے اٹھائی گئیں۔ جب حجرِاسود کو اُس کے مقام پر رکھنے کا وقت آیا تو ایک قضیہ کھڑا ہو گیا۔ حجرِاسود کو نصب کرنے کی سعادت کس قبیلے کے حصے میں آئے گی۔ چار دعوے دار تھے اور ہر ایک اپنے تئیں، اپنے قبیلے کو اس اعزاز کا مستحق سمجھتا تھا۔ چار پانچ دن سے جھگڑا جاری تھا۔ سارے شہر میں یہی باتیں ہو رہی تھیں مگر مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل رہا تھا۔ کوئی مصالحت پر تیار نہیں تھا۔ ایک دن بات اتنی بڑھ گئی کہ آنکھوں میں خون اُتر آئے اور چاروں قبیلوں کے نوجوان اپنے اپنے گھروں سے تلواریں لانے کے لئے دوڑ پڑے۔ حاضرین میں مخزومی خاندان کے ایک بزرگ ابو اُمیہ بن مغیرہ نے جو وہاں موجود لوگوں میں سب سے معمر تھے، انہیں روکا اور حرمتِ کعبہ کا واسطہ دے کر کہا:

’’اے اہلِ قریش! بات کا فیصلہ نہیں ہو رہا تو کسی کو ثالث بنا لو۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ اب جو پہلا شخص حرم میں داخل ہو اُسے منصف بنا لیا جائے‘‘۔

اُس بزرگ کی نہایت دردمندی سے کہی ہوئی بات سب کے دل پر اثر کر گئی اور سب نے یہ مشورہ تسلیم کر لیا۔ اب سب حرمِ کعبہ کے دروازے پر نظریں جمائے انتظار کرنے لگے کہ اتنے میں محمدﷺ داخل ہوئے۔ اُسی متانت کے ساتھ جو اُن کا مزاج تھی، اُسی خود اعتمادی کے ساتھ جو اُن کا خاصہ تھی، اُسی بردباری کے ساتھ جو اُن کا شیوہ تھی، اسی خندہ پیشانی کے ساتھ جو اُن کی پہچان تھی۔ حلم اور وقار کا حسین امتزاج عدل و انصاف کا نقیب الامین آ پہنچا تھا۔ سب نے خوشی خوشی انہیں ثالث بنا کے معاملہ اُن کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے تنازعے کی نوعیت سنی اور ایک عبا، لانے کو کہا۔ کسی نے عبا پیش کر دی تو انہوں نے اُسے فرش پر بچھا دیا اور حجرا سود کو اٹھا کر اُس کے وسط میں رکھ دیا۔ اس کے بعد سرکاردوعالم ﷺ نے چاروں قبیلوں کے ایک ایک فرد کو دعوت دی کہ وہ عبا کا ایک ایک گوشہ سنبھالیں اور سب مل کر اُسے حجرِاسود سمیت، بیک وقت اُوپر اٹھائیں۔ جب حجرِاسود مطلوبہ بلندی تک اُٹھ گیا تو محمدﷺ نے اُسے اٹھا کر اُس کے مقررہ مقام پر رکھ دیا۔ جہاں وہ آج بھی نصب ہے۔

خانہ آبادی

میں نے پہلی مرتبہ خدیجہؓ کا نام اُس وقت سُنا تھا جب میری ماں نے ایک شہد لگا روٹی کا ٹکڑا میرے منہ میں ڈالا تھا۔ میں کوئی پانچ سال کا تھا۔ یہ روٹی خدیجہؓ کے گھر سے آئی تھی، اُس دن سے آج تک میرے ذہن میں خدیجہؓ کے نام کے ساتھ شہد کی حلاوت وابستہ ہے۔ خدیجہؓ مجّسم عنایت، سرتاپا شفقت تھیں۔ اُن کے گھر کے دروازے ہمیشہ حاجت مندوں کے لئے کھلے رہتے تھے۔ اُن کے یہاں ہر ضرورت مند، ہر مسکین، ہر بے کس، بے نوا کی پذیرائی ہوتی تھی۔ کبھی کبھی اُن کی نوازشیں، اُن کے گھر سے بہت دُور بھی پہنچ جاتی تھیں۔ وہ خود غریبوں کے محلوں میں اُن کا حال پوچھنے آجاتی تھیں اور اُن کی حاجت روائی کرتی تھیں۔ خدیجہؓ اپنی مثال آپ تھیں۔ ایک رئیس خاتون جن کا دل غریبوں کے ساتھ دھڑکتا تھا۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر 15 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /حضرت بلال

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...