جرم، مجرم اور خدائی انصاف

جرم، مجرم اور خدائی انصاف
جرم، مجرم اور خدائی انصاف

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جرائم کے خاتمے اورعدل و انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر جرم کی سزا دی جائے۔اسی اصول پرمختلف جرائم کی سزا مقررکی جاتی ہے۔ لیکن جب کوئی شخص کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو عدل و انصاف ہی کاتقاضاہے کہ اسے آنکھیں بند کرکے سزا نہ سنائی جائے۔ نہ کسی عام آدمی کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی متعین فرد پر کوئی الزام لگاکرجرم وسزا کے فیصلے خود کرنا شروع کردے۔

اس مقصد کے لیے عدالتیں بنائی جاتی ہیں جہاں ملزم کو پیش کیا جاتا ہے۔ اس پر جرم کا الزام عائدکیا جاتا ہے۔ ثبوت پیش کیے جاتے ہیں۔ ملزم کو صفائی کا موقع ملتا ہے۔اس تمام عمل کے نتیجے میں پوری صورتحال سامنے آجاتی ہے۔ جرم اپنی نوعیت اور ملزم اپنے حالات کے لحاظ سے کسی رعایت کا مستحق نہ ہو تو سخت ترین سزا سنائی جاتی ہے۔ بصورت دیگر جرم ثابت ہونے کے بعد بھی سزا میں کچھ نہ کچھ تخفیف کردی جاتی ہے۔

انسانوں میں عدل کا یہ کامل شعور اگر موجود ہے تو وہ اس لیے نہیں کہ انسان نے ارتقاکی سیڑھی پر چڑھتے ہوئے حیوانیت سے انسانیت کا سفرطے کیا اور پھر رفتہ رفتہ ارتقا ہی نے انسان کو یہ سب کچھ سکھادیا۔ اس عدل کا ماخذ خدا کی اپنی ہستی ہے۔ اسی نے عدل کایہ شعور دے کر انسان کو اس دنیا میں بھیجا ہے۔چنانچہ اس عدل کا سب سے بڑا مظاہرہ خود اللہ تعالیٰ نے کرکے دکھایا ہے اور اس کی تفصیل کو قرآن مجید میں تا قیامت محفوظ کردیا ہے۔

قرآن مجید میں شرک کو واحد ناقابل معافی جرم کے طور پر بیان کیا گیا ہے،(النساء4:48)۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتمام حجت کے بعدجب اللہ تعالیٰ نے سرزمین عرب کے لوگوں کو اِسی دنیا میں شرک کی سزا دینے کا فیصلہ کیا تو تمام مجرموں کے حالات کی پوری پوری رعایت کی۔جن لوگوں نے شرک کو بطور دین اختیار کیا تھا ، ان کوزیادہ سے زیادہ سزا یعنی سزائے موت دی گئی۔ وہ اہل کتاب جنھوں نے شرک کیا ، لیکن تاویل کی غلطی کا شکار ہوئے ، ان کو رعایت دیتے ہوئے مغلوبیت کی سزا دی گئی۔اس کے بعد دو گروہوں کا معاملہ خدا کی حکمت اور عدل کو مزید واضح کرتا ہے۔ ان میں سے پہلے منافقین ہیں۔ یہ منافقین اصلاً مذکورہ بالا گروہوں سے متعلق تھے۔ یہ قلباً مشرک تھے لیکن مجبوراً اسلام لے آئے تھے۔ چونکہ یہ اسلام کے مدعی تھے،اس لیے ان کو پچھلے دوگروہوں کی طرح کوئی سزا نہیں سنائی گئی۔ حالانکہ قرآن مجید ہی میں یہ بیان ہوا ہے کہ ان مفافقین کا جرم اتنا سنگین تھا کہ اصل فیصلے کے دن یہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ مگر چونکہ یہ زبانی اسلام کا اقرار کرتے تھے، اس لیے عدل کا لحاظ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کو شرک کی کوئی سزا نہیں سنائی۔ یہیں سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو دلوں کے حال جانتے ہیں، صرف اپنے علم کی بنیاد پر سزا نہیں دیتے۔ورنہ منافقین کے دلوں کا حال اللہ سے پوشیدہ نہ تھا۔ اسی طرح وہ لوگ جن تک حق کی دعوت نہیں پہنچی تھی، ان کو بھی کوئی سزا نہیں دی گئی۔ کیونکہ ان کے پاس یہ عذر تھاکہ ان تک بات ہی نہیں پہنچی۔ چنانچہ ان کو جائے امن فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ وہ کلام اللہ کو سن لیں۔ یہ بھی عدل ہی کا ایک تقاضاتھاکہ جس شخص تک بات نہیں پہنچی اسے سزا نہ دی جائے۔یہ ساری تفصیل سورہ توبہ میں بیان ہوئی ہے۔

عقل و فطرت کا تقاضابھی یہی ہے اور اس سے کہیں بڑھ کر قرآن مجید کی تصریحات بتاتی ہیں کہ قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ عدل کے ان تمام تقاضوں کاپورا پورا لحاظ کریں گے۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ روزِ حشر برپا کرنے اور اس روز ساری انسانیت کو اکٹھا کرنے کی کوئی اور وجہ نہیں ہوسکتی سوائے اس کے کہ جس کو سزا ملے ، سب مانیں کہ وہ سزا کا مستحق تھا۔ یہی معاملہ جزا کا بھی ہے۔

چنانچہ قرآن مجید کی واضح ترین تصریحات ہیں کہ اس روز تمام انسان اللہ کے سامنے پیش متعدد جرائم کی اخروی سزائیں بھی بیان ہوئی ہیں۔لیکن کون کس درجہ کا مجرم ہے اور اسے کتنی سزا ملنی چاہیے؛اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کریں گے۔ اس لیے کہ جرائم کی سزا بیان تو کردی جاتی ہے، مگر مجرم کا فیصلہ عدالت کرتی ہے۔ خدا کی یہ عدالت قیامت کے دن لگے گی۔

موجودہ دور کے مذہبی فکر کا یہ المیہ ہے کہ وہ اس باریک فرق کو نہیں سمجھتی۔ اہل مذہب اب داعی نہیں رہے ہیں، قاضی بن چکے ہیں۔ چنانچہ اب انھیں دین پہنچانے اور سمجھانے کے بجائے زیادہ دلچسپی انسانوں کا فیصلہ کرنے میں رہتی ہے۔ لوگوں کوکافر، مشرک، گستاخ ، ملحد قرار دے کر اِسی دنیا میں ان کی آخرت کا فیصلہ کردینا عام مذہبی رویہ بن چکا ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ اس طرح کے لوگ اپنے احتساب سے غافل رہ کر دوسروں کا فیصلہ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ جبکہ خدا پرست ہمیشہ دوسرے کے لیے رعایت اور اپنے لیے احتساب کے جواز ڈھونڈتا ہے۔ پہلا رویہ خدا کے غضب اور دوسرا اس کی رحمت کو متوجہ کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دین ہم کوصرف دعوتِ حق لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری دیتا ہے۔کچھ لوگ اگرمعاشرتی سطح پر کھڑے ہونا چاہتے ہیں تو ان پر فرض کرتا ہے کہ پہلے تفقّہ فی الدین حاصل کریں اور اس کے بعد انذار کا کام کریں۔ لوگوں کو خدا کی پیشی سے خبردار کریں۔ ایمان و اخلاق کے ان جرائم پر متنبہ کریں جو خدا کی گرفت کا سبب بن سکتے ہیں۔ جہاں تک کسی متعین فرد کا سوال ہے تو اس کے بارے میں کسی شخص کو کوئی فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ بندوں کا فیصلہ کرنا صرف اللہ کا حق ہے۔ہر شخص کاقضیہ اس کی بارگاہ میں پیش ہوگا۔وہ عدل کے تمام تقاضوں کو پورا کرکے فیصلہ کرے گا۔جسے جزا ملنی چاہیے اسے جزا ملے گی۔ جس کو سزا ملنی چاہیے اور جتنی ملنی چاہیے، اسے اتنی ہی سزا ملے گی ۔ اور جس کے پاس کوئی قابل قبول عذر ہوااس کا عذر قبول کیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ ایک انتہائی قابل تعریف ہستی ہیں۔کائنات میں ان کی حمد ان کی طاقت کی وجہ سے نہیں کی جاتی، ان کی خوبیوں کی وجہ سے کی جاتی ہے۔قیامت کا دن خدا کے جمال و کمال کے ظہور کا سب سے بڑا دن ہوگا۔وہ رب جو رائی کے دانے کے برابر کسی پر ظلم نہیں کرتا، اس روز بھی نہیں کرے گا۔ہر شخص کے ساتھ مکمل انصاف ہوگا۔ جس کو معمولی سی رعایت بھی ملنی چاہیے، اسے دی جائے گی۔ہاں کسی کے جرائم کی بنا پر اس کا قطع عذرکرکے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں جس کی بنا پر وہ کسی رعایت کا مستحق ٹھہرے تو یہ کام اللہ تعالیٰ خود کرلیں گے۔ موجودہ دور کے کسی مذہبی آدمی کو بلاکر اس سے قطع عذر کے دلائل نہیں پوچھیں گے۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ