”کار کے گیئر جام ہونے لگے تو گاڑی روک لی، اتنے میں ہمارے پیچھے ایک اور کار آ کر رک گئی جس میں ۔۔۔“ نوجوان لڑکیوں نے پاکستان میں ڈکیتی کے نئے طریقے کا انکشاف کر دیا، ان کی گاڑی کو کیسے کنٹرول کیا جا رہا تھا اور پھر کیا ہوا؟ تفصیلات جان کر ہی آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے

”کار کے گیئر جام ہونے لگے تو گاڑی روک لی، اتنے میں ہمارے پیچھے ایک اور کار آ ...
”کار کے گیئر جام ہونے لگے تو گاڑی روک لی، اتنے میں ہمارے پیچھے ایک اور کار آ کر رک گئی جس میں ۔۔۔“ نوجوان لڑکیوں نے پاکستان میں ڈکیتی کے نئے طریقے کا انکشاف کر دیا، ان کی گاڑی کو کیسے کنٹرول کیا جا رہا تھا اور پھر کیا ہوا؟ تفصیلات جان کر ہی آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہم میں سے اکثریت کے پاس جتنی بھی گاڑیاں ہیں تقریباً سب میں ہی ٹریکنگ سسٹم نصب ہے لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ ان ٹریکنگ سسٹمز کیساتھ جیمرز انسٹال کر کے کوئی شخص ایک خاص فاصلے سے گاڑی کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

آپ نے سیاسی رہنماﺅں کے قافلوں کیساتھ موجود پروٹوکول کی گاڑیوں میں لگے جیمرز کے بارے میں تو لازمی سنا ہو گا یا پھر ان گاڑیوں پر لگے بڑے بڑے انٹینا دیکھے ہوں گے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جیمرز کیسے دکھائی دیتے ہیں لیکن شائد آپ کو یہ معلوم نہیں ہو گا کہ ٹریکرز کیساتھ بھی ایک جیمر ہوتا ہے جس کے بہت برے اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

کراچی کی ایک لڑکی ’کائنات جمال‘ نے اپنے ساتھ پیش آنے والے خوفناک واقعے کی تفصیلات فیس بک پر شیئر کیں تو پڑھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور یہ تفصیلات جان کر یقینا آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے۔

مذکورہ لڑکی نے فیس پر جاری اپنے پیغام میں بتایا ”میں اور میرا دوست ’کلاﺅڈ نان‘ سے واپس آ رہے تھے، ہم نئی کرولا گاڑی میں تھے جب ہمیں یہ محسوس ہوا کہ گاڑی کے گیئر جام ہو رہے ہیں جو کہ ایک غیر معمولی بات تھی کیونکہ ہم کسی پرانی گاڑی میں نہیں بیٹھے تھے۔ ایسا تقریباً دو مرتبہ ہوا جس پر میں نے اپنے دوست پر گاڑی روکنے اور اسے چیک کرنے پر زور دیا۔ جیسے ہی وہ گاڑی سے اتررہا تھا، الحمد اللہ اس نے یہ نوٹ کر لیا کہ ایک آلٹو بالکل ہمارے پیچھے کھڑی ہے۔

میرے دوست نے گاڑی کا دروازہ کھولا لیکن دوبارہ بند کر دیا اور ایک منٹ تک انتظار کیا۔ اسی دوران اچھا خاصا لباس پہنے ایک شخص آلٹو گاڑی میں سے نکلا جو اس قدر نارمل لگ رہا تھا کہ میں بے اختیار یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ یہ کوئی اچھا انسان لگ رہا ہے، لیکن اس نے قریب آنا شروع کر دیا۔ میرے دوست نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گاڑی کا دروازہ بند کر دیا اور پھر پتہ ہے کیا ہوا؟ اس نے وہ دروازہ کھولنے کی کوشش کی جس جانب میں بیٹھی ہوئی تھی لیکن اللہ کا احسان ہے کہ دروازہ بند تھا۔ ہم نے گاڑی دوڑا دی اور پھر گیئر جام ہونے لگے۔ لیکن جیسے ہی ہم اس آلٹو گاڑی سے دور ہوئے تو گاڑی بالکل ٹھیک طرح چلنا شروع ہو گئی۔

مطلب! ذرا دیکھیں، وہ لوگ ہماری گاڑی کو کنٹرول کر رہے تھے! اوہ میرے خدا۔۔۔! وہ کوئی لڑکا نہیں تھا کہ 30 سال سے اوپر کا ایک شخص تھا جس کے سر پر بال نہیں تھے لیکن اس نے چشمہ پہن رکھا تھا اور اس کا لباس بھی بہترین تھا۔ لوگوں برائے مہربانی اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلاﺅ اور اپنا خیال رکھو۔ ہم ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جبکہ جنگی جانور بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں!“

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /سندھ /کراچی