کیا مرد و خواتین کا اکٹھے جنازہ پڑھنا جائز ہے ؟عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ کے بعد علما میدان میں آ گئے ،واضح اعلان کر دیا

کیا مرد و خواتین کا اکٹھے جنازہ پڑھنا جائز ہے ؟عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ کے ...
کیا مرد و خواتین کا اکٹھے جنازہ پڑھنا جائز ہے ؟عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ کے بعد علما میدان میں آ گئے ،واضح اعلان کر دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(خالد شہزاد فاروقی)معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر ایڈدوکیٹ کی نماز جنازہ قذافی سٹیڈیم میں ادا کی گئی جس میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سمیت اہم سیاسی و سماجی شخصیات سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی تاہم نماز جنازہ کے موقع پر مر دو زن کے ایک ہی صفوں میں کھڑے ہو کر نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے جبکہ ملک کے ممتاز اور جید علمائے کرام نے بھی عاصمہ جہانگیر کی مخلوط نماز جنازہ کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح نماز جنازہ ادا کرنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ،اس غیر شرعی فعل کی ذمہ داری نماز جنازہ کی امامت کرنے والے اور نماز جنازہ کا اہتمام کرنے والے تمام افراد پر عائد ہوتی ہے ۔

   اس حوالے سے جب ممتاز دینی درسگاہ جامعہ نعیمیہ لاہور کے مہتمم اور مشہور عالم دین ڈاکٹر علامہ راغب حسین نعیمی سے استفسار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خواتین کے لئے نماز جنازہ میں شرکت کرنا فرض ہے نہ واجب،نماز جنازہ مٰیں شریک ہونے والی عورتوں نے ایک ایسا کام کیا ہے جو خواتین کے ذمہ تھا ہی نہیں ، اگر انہوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی تو پہلے انہیں مکمل شرعی پردہ اختیار کرتے ہوئے اسلامی شعار کی پاسداری کرنی چاہئے تھی ،خواتین نے اسلام کے اس اہم فعل میں اس طرح کھلے میدان میں بے پردہ شریک ہو کر انتہائی غیر شرعی فعل سرانجام دیا ہے۔ ڈاکٹر علامہ راغب حسین نعیمی کا کہنا تھا کہ نماز جنازہ کا اہتمام کرنے والوں کو پہلے سے علم تھا کہ نماز جنازہ کے موقع پر خواتین بھی آئیں گی تو انہیں اس کا الگ سے اہتمام کرنا چاہئے تھا اور کسی بڑے ہال یا اسی میدان میں ٹینٹ لگا کر خواتین کی صفوں کو مردوں کے پیچھے ہونا چاہئے تھا ،نماز جنازہ کی امامت کرنے والے حیدر فاروق مودودی کوئی عالم دین نہیں لیکن اس غیر شرعی فعل کی ذمہ داری نماز جنازہ پڑھانے والے اور اس کے منتظمین پر بھی عائد ہوتی ہے ۔

اہل تشیع مکتبہ فکر کے ممتاز عالم دین حافظ کاظم رضا نقوی نے بھی مخلوط نماز جنازہ کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نماز جنازہ میں شرکت کرنے والی ان خواتین وکلا اور انسانی حقوق کی کارکنوں نے اپنی ساتھی رہنما کے انتقال پر تعزیت اور اظہار افسوس کے لئے لازمی آنا تھا تو وہ ان کے گھر جا کر تعزیت کرتیں ،اس طرح نماز جنازہ کی ادائیگی کی اسلام میں اجازت ہے اور نہ ہی کسی طور بھی ایسے نماز جنازہ کو شرعی قرار دیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی وفات پر حیدر فاروق مودودی کی امامت میں خواتین کی مخلوط نماز جنازہ تو ہونا ہی تھا ،یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ،ان لوگوں سے ایسے ہی افعال کی توقع رکھی جا سکتی ہے ۔ایک سوال پر حافظ کاظم رضا نقوی نے کہا کہ بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں خواتین کی  نمازجنازہ کی ادائیگی کو بطور مثال کسی صورت بھی پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بیت اللہ میں ہونے والی کسی بھی نماز جنازہ کی ادائیگی کے لئے کوئی ایک خاتون بھی خصوصی طور پر باہر سے آکر شرکت نہیں کرتی وہ پہلے ہی سے وہاں سے موجودہوتی ہیں۔

اہل حدیث مکتبہ فکر کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ القدس چوک دالگراں کے دار الفتاء کے سربراہ مولانا عبد الوہاب روپڑی کا اس بارے میں کہنا تھا کہ نماز جنازہ فرض کفایہ ہے اگر بستی کا کوئی ایک شخص بھی نماز جنازہ میں شریک ہو تو سب کا فرض ادا ہو جاتا ہے ،شرعی لحاظ سے خواتین کا نماز جنازہ پڑھنا غیر شرعی نہیں ہے لیکن جس طرح آج عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ کا جو منظر تھا وہ مکمل خلاف شریعت کام تھا ۔انہوں نے کہا کہ جب حضرت بیضاؓ کے دو بیٹے وفات پا گئے تو اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے حکم دیا کہ ان کی نماز جنازہ مسجد میں ادا کی جائے تا کہ وہ بھی ان دونوں بچوں کی نماز جنازہ میں شریک ہو سکیں ،یہی ایک حدیث ہے جس کی وجہ سے علماء مسجد میں نماز جنازہ اداکرنے کی حجت لیتے ہیں، اس ایک واقعہ کو مد نظر رکھتے یا دلیل بنا کر پیش کیا جائے تو خواتین نماز جنازہ میں شرکت تو کر سکتی ہیں لیکن مخلوط نماز جنازہ کو کسی طور بھی جائز یا شریعت کے مطابق قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

مزید : قومی