’ہم اس ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئے، میرے دونوں بچے ٹوائلٹ استعمال کرنے گئے تو واپسی پر جمادار نے انہیں روک لیا اور۔۔۔‘ پاکستانی شہری نے معروف ریسٹورنٹ کے باتھ روم میں پیش آنے والا ایسا شرمناک ترین واقعہ سنا دیا کہ ہر پاکستانی ماں باپ کو شدید پریشان کردیا

’ہم اس ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئے، میرے دونوں بچے ٹوائلٹ استعمال کرنے گئے ...
’ہم اس ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئے، میرے دونوں بچے ٹوائلٹ استعمال کرنے گئے تو واپسی پر جمادار نے انہیں روک لیا اور۔۔۔‘ پاکستانی شہری نے معروف ریسٹورنٹ کے باتھ روم میں پیش آنے والا ایسا شرمناک ترین واقعہ سنا دیا کہ ہر پاکستانی ماں باپ کو شدید پریشان کردیا

  

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے ہاں بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات کتنی کثرت سے پیش آتے ہیں یہ بات ہم سب جانتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس کی ایک بڑی وجہ ہمارا یہ عمومی رویہ بھی ہے کہ اس مسئلے کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا جیسے لیا جانا چاہئیے۔ اچھی بات یہ ہے کہ کچھ پڑھے لکھے اور ذمہ دار والدین ایسے ضرور موجود ہیں جو نا صرف اپنے بچوں کے ان مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ بدبخت مجرموں کا بھی پوری طرح تعاقب کرتے ہیں۔ 

سوشل میڈیا پر ایک ایسے ہی صاحب کی پوسٹ سامنے آئی ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح ایک مشہور ریسٹورنٹ میں ان کے کمسن بیٹو ں کو ہراساں کرنے کا واقعہ پیش آیا۔ بجائے اس کے کہ انتظامیہ ان کا ساتھ دیتی، الٹا مجرم کو بچانے کی تگ و دو کی جاتی رہی۔ اپنی پوسٹ میں یہ صاحب لکھتے ہیں ’’میرے بیٹے مونال ریسٹورنٹ(صدر، راولپنڈی) کے واش روم میں گئے تھے ۔ جب وہ واش روم سے نکلنے والے تھے تو خاکروب جو کہ پہلے ہی وہاں تھا، نے ناصرف انہیں روکا بلکہ ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھے اور انہیں تصویر بنوانے کو بھی کہا۔ میرے بیٹوں نے اس بات سے انکار کیا تو اس نے دھمکی دی کہ وہ انہیں جانے نہیں دے گا جب تک کہ وہ تصویر نہ بنوائیں۔ میرے بچوں کے انکار کے باوجود اس نے ان کی تصویر بنائی۔ 

جب میرے بیٹوں نے مجھے یہ بات بتائی تو میں فوری طور پر منیجر کے پاس گیا۔ اس نے خاکروب کو بلوایا، جو تقریباً 15 منٹ بعد آیا۔ میرے بیٹوں نے اسے پہچانا اور اس کے موبائل فون کا ماڈل اور رنگت بھی بتائی لیکن اس شخص نے الزامات کو ماننے سے صاف انکار کردیا۔ میرے اصرار پر منیجر پانچ، چھ موبائل فون لے آیا اور انہیں چیک کرنے کو کہا لیکن ان میں خاکروب کا موبائل فون نہیں تھا اور نہ ہی وہ یہ ماننے پر تیار تھا کہ اس نے کوئی تصویر لی ہے۔ اگر مجھے وہ تصویر دکھائی جاتی اور میرے سامنے ڈیلیٹ کردی جاتی تو میں اس معاملے کو چھوڑ دیتا۔ مسئلہ یہ تھا کہ منیجر اور خاکروب دونوں سے یہ بات تسلیم کرنے سے ہی انکاری تھے۔ 

اس پر ہم نے پولیس کو بلوالیا اور بالآخر کینٹ سٹیشن کے اہلکار وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے ہمیں کہا کہ ہم درخواست لکھ دیں اور ملزم کو لے کر واش روم میں بھی گئے۔ آدھے گھنٹے بعد ہمیں پولیس کی جانب سے کال آئی کہ انہوں نے تفتیش کرلی ہے اور ملزم کا موبائل فون بھی چیک کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الزاما ت کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ ہم نے انہیں بتایا ہے جو موبائل فون چیک کیا گیا ہے وہ خاکروب کا نہیں ہے، لیکن بے سود۔ 

کس قدر شرمناک بات ہے کہ مونال جیسے ریستوران میں ایسے لوگ کام کررہے ہیں جو بچوں کو ہراساں کررہے ہیں اور انتظامیہ ان کا تحفظ کررہی ہے۔ ہم نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے رابطہ کیا ہے اور اس کیس کو مضبوطی کے ساتھ فالو کریں گے۔‘‘ 

بعد ازاں ان صاحب نے تازہ ترین پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ خاکروب کا موبائل فون برآمد کرلیا گیا اور ناصرف یہ ثبوت مل گیا کہ اس نے بچوں کی تصویر لی تھی بلکہ اس پر دیگر بے شمار فحش ویڈیوز بھی موجود تھیں۔ برآمد کیا گیا موبائل فون پولیس کے پاس ہے جبکہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو مونال ریسٹورنٹ کی انتظامیہ اور مالکان کے ساتھ اب اس معاملے کو اُٹھائے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس