شمالی وزیرستان، نیا مسئلہ؟

شمالی وزیرستان، نیا مسئلہ؟

شمالی وزیرستان کے علاقے خیسور میں قبائلی گل شماد خان عرف متور کئی کے قتل کی واردات نے اس مسئلہ کی نشاندہی کی ہے،جو بعض مطالبات کے حوالے سے تشدد کا ذریعہ بن رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان نے اس قتل میں مقتول کے بھائی پرخے خان کے بیان کو بھی اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے،جس نے الزام لگایا ہے کہ اس کے بھائی کو سچ بیان کرنے کی پاداش میں قتل کیا گیا، جس کی مبینہ ذمہ داری پختون تحفظ تحریک کے زعماء پر عائد ہوتی ہے۔ پرخے خان کے مطابق جرگہ کے ذریعے ان کا گھر گرانے کی کوشش کی گئی۔ ناکامی پر پہلے اس پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور اب اس کے بھائی کو قتل کر دیا گیا، جو ایک غلط اور جھوٹے پروپیگنڈے کے جواب میں حقائق بتانے کا ذمہ دار تھا اور مزید بھی بات کرنا چاہتا تھا۔پی ٹی ایم وزیرستان میں ایک نئی تنظیم ہے، جو ایک نوجوان منظور پشتین نے قائم کی اور ابتدا بے گھر حضرات کے مسائل سے کی۔شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا صفایا کرنے کی مہم کے دوران مقیم حضرات بے گھر بھی ہوئے،ان کی دکانوں اور مکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا، دہشت گردوں سے علاقہ پاک کروا لینے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بے گھر افراد کو واپسی کی اجازت دی اور ان سب کے لئے بحالی پیکیج کا بھی اعلان کیا گیا، جبکہ حفاظت کے لئے چوکیاں قائم کر دی گئیں،لوگوں کو مستقل طور پر قیام اور کاروبار بحال کرنے میں کچھ دشواری ہو رہی تھی، جو مقامی انتظامیہ حکومت کے تعاون سے حل کر رہی تھی۔تاہم پی ٹی ایم نے اس آڑ میں مطالبہ کیا کہ بے گھر ہونے والوں کو معاوضہ دیا جائے،دکان والوں کو دکانوں کی تعمیر کے لئے رقم دی جائے، بارودی سرنگیں(ٹی ٹی پی والے چھوڑ گئے تھے) صاف کی جائیں اور چوکیاں ختم کی جائیں۔ حکام نے تحریک کے سرکردہ حضرات سے مذاکرات کئے اور تمام مطالبات کے حوالے سے یقین دلایا کہ حکومت پہلے ہی سے یہ سب کر رہی ہے اور اس میں تیزی لائی جائے گی۔بعض حفاظتی چوکیاں ختم کر کے تعداد بھی کم کی گئی تاہم تنظیم نے تسلیم نہ کیا اور لاہور سے کراچی اور کوئٹہ تک جلسے کرنا شروع کر دیئے،ان میں سیکیورٹی سروسز کے خلاف نعرہ بازی بھی کی جاتی،اس پر آئی ایس پی آر نے مذاکرات کا عندیہ دیا اور یہ بھی کہا کہ ریاست دشمن سرگرمیاں برداشت نہیں تاہم منظور پشتین اور ان کے ساتھی اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ان کے خلاف قانون کی خلاف ورزی کے کئی مقدمات بھی درج ہوئے۔اب یہ نیا سلسلہ شروع ہوا کہ سیکیورٹی فورسز کے خلاف بے بنیاد الزام لگانے کا جواب دینے اور وضاحت کرنے والے متاثرہ شخص کو قتل کر دیا گیا۔ شمالی وزیرستان میں فوج کی کاوش سے تحریک طالبان کی دہشت گردی ختم کر دی گئی اور اب یہ نئی صورت حال پیدا ہو گئی ہے جسے امن عامہ کے حوالے سے برداشت کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کر لیا جائے تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں پر غور کر کے شہریوں کو خبردار بھی کیا جائے کہ وہ کسی کے ورغلانے میں نہ آئیں، توقع ہے کہ یہ بحرانی حالت بھی حل ہو جائے گی۔

مزید : رائے /اداریہ