ڈیل نہ ڈھیل صرف دلیل

ڈیل نہ ڈھیل صرف دلیل
ڈیل نہ ڈھیل صرف دلیل

  

پچھلے کئی روز سے پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف کی بطور چیئر مین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تقرر پر حکمرانوں اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان جو بیان بازی جاری ہے اس پر مُلک کا سنجیدہ فکر طبقہ اضطرابی کیفیت کا شکار ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئر مین مقرر کیا گیا تھا تو اس وقت حکمران جماعت کی سوچ و فکر کو کیا ہوا تھا۔

یہ تھوڑے عرصے ہی کی تو بات ہے کہ حکمران جماعت کے اتفاق سے ہی انہیں یہ اہم عہدہ سونپا گیا تھا، مگر اب اچانک کیا ہوا کہ وزیراعظم عمران خان سے لے کر وفاقی اور صوبائی وزراء تک سیخ پا ہورہے ہیں ۔

ظاہر ہے جب انہیں یہ عہدہ تفویض کیا گیا تھا تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی کیا گیا ہو گا پھر ایک دم ایسی کیا بات ہوئی کہ حکمرانوں نے انتہائی شدت کے ساتھ ان کی مخالفت شروع کردی اگر میاں شہباز شریف سے بطور چیئر مین پی اے سی اپنے فرائض کی بجاآوری میں کوئی تساہل ہوا یا کوئی لغزش ہوئی یا تجاوز ہوا ہے تو اسے منظر عام پر لایا جانا چاہئے۔

اب وزیراعظم کہتے ہیں’’کہاں ہوا ہے کہ کوئی جیل سے آکرہمارے پی اے سی کا چیئرمین بن جائے ‘‘ تو کیا محترم وزیراعظم ان کی تقرری کے وقت بے خبر تھے کہ ان پر مقدمات ہیں جو کہ ممکن نظر نہیں آتا تو اب ایسا کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا کہ وزیراعظم اور ان کے وزراء یک زبان ہوکر ان کی تقرری کے خلاف تسلسل کے ساتھ سخت بیان جاری فرما رہے ہیں ۔

سیاست ہو یا حکومت کسی بھی فیصلے سے پہلے بڑا سوچ و بچار بہت ضروری ہوتا ہے۔ مگر موجودہ حکومت کے فیصلوں میں عجلت اور غوروخوض کے فقدان کا عنصر غالب نظر آتا ہے جو کسی بھی طرح ملکی و قومی مفادات کے تقاضوں سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا،جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ صرف میاں شہباز شریف کا معاملہ نہیں کئی اور اہم تقرریوں اور تبادلوں پر بھی دو دو تین تین روز میں فیصلے تبدیل کئے گئے۔پنجاب میں جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے میں تین روز میں سیکرٹری اطلاعات اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کو دوسری بار تبدیل کیا گیا۔

اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی پی ٹی آئی برسر اقتدار ہے کہا گیا کہ بیورو کریسی کو سیاست سے پاک کرنے اور سرکاری ملازمین کی مدت کا تحفظ کیا جائے گا۔اس حکم کوبھی صرف 24گھنٹوں میں واپس لے لیا گیا۔ یہ بجا کہ موجودہ حکومت کو کافی مسائل درپیش ہیں اور وہ کماحقہ ان سے نپٹنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہے، مگر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی فیصلے سے پہلے اچھی طرح سوچ و بچار کے بعد ہی کوئی قدم اٹھائے،جہاں تک میاں شہباز شریف کا تعلق ہے تو وہ پہلے ہی تین قائمہ کمیٹیوں جن میں قانون و انصاف، اطلاعات و نشریات اور امور کشمیر شامل ہے،سے خود ہی دستبردار ہوگئے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کو اعتماد میں لے اور بتائے کہ وہ کون سی وجوہات ہیں، جن کی بنا پر میاں شہباز شریف کو پی اے سی کی چیئرمین شپ سے ہٹاناکیوں ضروری ہے تاکہ اس حوالے سے کوئی ابہام باقی نہ رہے ہم وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان سے متفق ہیں کہ کرپٹ عناصر سے کوئی رو رعایت نہ کریں،مگر حساس قومی معاملات میں حکومت مخالف سیاست دانوں کے علاوہ مُلک میں ایسے ذہین ، دانشور اور ذی شعور محب وطن عناصر موجود ہیں ان سے بھی قومی معاملات پر مشاورت کر لی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

بعض جمہوری ممالک میںیہ دیکھا گیا ہے کہ عام انتخابات میں برسر اقتدار آنے والی حکومت نے اپنی پچھلی حکومت کے اہل لوگوں کو نہ صرف اپنی کابینہ میں شامل کیا،بلکہ بعض کو بڑے عہدوں پر بھی تعینات کیا ہے،جو قوم و مُلک کے مفاد میں تھے ۔ بعینہ ہم موجودہ حکومت کے ارباب بست و کشاد سے عرض کریں گے کہ وہ بھی حکومت مخالف سیاست دانوں کو ملکی مفاد میں اعتماد میں لے اور ان سے اہم قومی معاملات پر مشاورت کو معمول بنائے جو نہ صرف حکومت،بلکہ مُلک وقوم کے بھی بہترین مفاد میں ہو گا۔

یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے شعبوں میں بعض ماہرین کی اہم عہدوں پر تقرریاں کی ہیں،جو اس بات کی غماض ہے کہ وزیراعظم عمران خان بصیرت کے حامل ہیں،جس کے باعث ہم ان سے یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ اپنے وزرا کو بھی ہدایات دیں کہ وہ مخالف سیاست دانوں کے بارے میں ایسی گفتگو سے اجتناب کریں، جس میں شدت کا عنصر نمایاں ہو ہم حکومت مخالف سیاست دانوں سے بھی کہیں گے کہ وہ بھی حکومت اور مخالف بیانات میں اعتدال پیدا کریں اور اختلافات کو اس سطح تک نہ لے جائیں جہاں حکومت اور مخالف سیاست دانوں کے باہمی مذاکرات کی حد ختم ہو جائے،جو کسی بھی طور پر ملکی مفاد میں نہیں کہ ایک تو ملک پہلے ہی معاشی اور دیگر کئی بحرانوں کا شکار ہے اور ایسے میں سیاسی بحران سم قاتل کا کام کرے گا،جو محب وطن حلقوں میں تشویش کا باعث ہو گا۔

ہم کسی طور پر نہیں چاہیں گے کہ حکومت کرپٹ عناصر کو ڈھیل دے یا ڈیل کرے،مگر شہبار شریف کے معاملے میں حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ انہیں پی اے سی کی چیئرمین شپ سے علیحدہ کرنے کے لئے قوم کو اعتماد میں لے اور دلیل سے قائل کرے کہ حکومت وقت کا یہ اقدام مُلک و قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔ بصورت دیگر کئی ابہام جنم لیں گے اور عوام یہ سمجھنے پرمجبور ہوں گے کہ ایسا صرف سیاسی مخالفت کی بنا پر کیا جا رہا ہے۔

مزید : رائے /کالم