بارود کے دھوئیں میں پلتے بچے

بارود کے دھوئیں میں پلتے بچے
بارود کے دھوئیں میں پلتے بچے

  

دھماکے، چیخ و پکار، خون آلود چہرے اور کنکریوں کی مانند بکھرے انسانی اعضاء۔ کیا بربادیوں کی داستان اختتام پذیر ہونے جا رہی ہے؟۔ پاکستان کے دشمن نئی توانائیوں سے دوبارہ منظر عام پر آ نے کے قابل نہیں رہے۔حقیقی دہشت گرد کون تھے؟۔

پس پردہ مقاصد کیا تھے؟ اور ماسٹر مائنڈ کیا نتائج حاصل کرنا چاہتے تھے؟۔ گذرے برسوں کی کڑیاں ملائیں تو ایک ہی تصویر بنتی نظر آتی ہے۔ ’’ غیر مستحکم پاکستان‘‘۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ افغانستان میں پاکستان کا کردار بڑھانے پر دوبارہ غور شروع ہوچکا ، امریکہ دہشت گردی کی بیخ کنی پر پاکستانی کوششوں کا عالمی سطح پر معترف نظر آرہا اور افغان قیادت بھی اپنا لب و لہجہ تبدیل کرتے ہوئے پاکستانی فوج پر اعتماد کا اظہار کر چکی ہے۔ ایسے وقت میں عالمی دہشت گرد گروپوں سے محتاط رہنے کی ازحد ضرورت ہوگی ۔ افغانستان میں امن کئی گروپوں کے لئے قابل قبول نہیں ہوگا۔

ان گروپوں نے پاکستانی ریاست کو کئی دفعہ کھلا پیغام پہنچایا وہ کسی صورت بنیاد پرستی پر مبنی ایجنڈہ ادھورا چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ حملوں میں عارضی وقفوں کا یہ ہرگز مطلب نہیں دہشت گرد تتر بتر ہوچکے ہیں البتہ ان کا کمانڈ اینڈ چین سسٹم ٹوٹ چکا ہے۔ ماضی بڑا خوفناک تھا۔ ایک طرف ریاست دوسری طرف شر انگیزی پر تلے عناصر۔ ایک طرف اٹھارہ کروڑ انسان دوسری جانب چند ہزار جنونیوں پر مشتمل ٹولہ۔

یہ جنونی ٹولہ کسی نہ کسی حوالے سے ابھی بھی گاہے بگاہے منظر عام پر آجاتا ہے؟۔اگرچہ کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے لیکن چند سوال بدستور موجود ہیں ۔ کیا موجودہ حکومت سماج کو مذہب کی آڑ میں رینگتے نفرت کے اژدہے سے نجات دلوا پائے گی۔کیا سانحہ ساہیوال جیسی موت کی بدصورتیوں سے نجات حاصل کر پائے گا؟۔

پاکستانی ریاست بڑی دشوار گذار راہوں سے گذر رہی ہے۔ خوف کی وجہ سے ابھی تک کوئی حکومت ایسی منظم پالیسی تشکیل نہیں دے سکی جو ان اداروں، گروپوں اور تنظیموں پر ہاتھ ڈال سکے جن کا کام غیر ملکی اشاروں پر سماج میں ابتری پیدا کرنا ہے۔

بے پناہ وسائل، کروفر، قیمتی گاڑیاں، آتشگیر ہتھیار اور محافظوں کی فوج ۔ کیا ان چیزوں کے ہوتے ہوئے کوئی تنظیم دین کی خدمت کا دعوی کر سکتی ہے؟۔ بظاہر یہ گروپ دین کی ترویج کی خاطر قائم کئے گئے۔ لیکن آج یہ برتری اور بقاء کی خاطر نہ صرف آپس میں مورچہ زن ہو چکے بلکہ ریاست کی بھی اینٹ سے اینٹ بجانے پر کمر بستہ نظر آرہے ہیں۔

ان گروپوں اور تنطیموں نے سماج کی اکثریت کو ایسے نفرت انگیز بحث مباحثوں میں الجھا رکھا ہے جن میں ہر کوئی اپنے آپ کو سچا اور فاتح دیکھنا چاہتا ہے۔ ان کی دین سے دوری کا یہ عالم ہوچکا ہے کہ خودکش حملہ آور پورے اعتقاد کے ساتھ اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کو منافق قرار دیتے ہوئے جسموں کے پرخچے اڑا رہا ہے۔

ہر مسئلے کے مانند اس مصیبت کا بھی حل موجود ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے آگے کون بڑھے گا؟۔ کیا موجودہ حکومت میں اتنا حوصلہ ہے جو دین کی آڑ میں نفرت پھیلانے والوں کو دوبارہ مفید شہری بنانے کی پالیسی تشکیل دے سکے۔ کیا اتنی جرات ہے جو عرب ریاستوں کی طرح، شتر بے مہار مذہبی گروپوں، جماعتوں کو ریاستی کنٹرول میں لے سکے۔ کیا اتنی ہمت ہے جو روزانہ ہزاروں کی تعداد میں منعقد ہونے والی تربیتی نشستوں میں پھیلائی جانے والی نفرت اور برین واشنگ پر کریک ڈاؤن کر سکے۔

اور کیا اتنی سکت ہے جو انسان اور اللہ تعالی کے درمیان حائل شرپسندوں کو کچل سکے؟۔ اگر حکومت میں اتنی ہمت نہیں تو واویلا مچانے، حلق پھاڑنے اور ٹسوے بہانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج کے پاکستان کی سب سے بڑی سچائی ان نفرت کے دیوتاؤں کی توڑ پھوڑ ہے جو پاکستان کا مستقبل نوچنے کے لئے بے چین نظر آرہے ہیں۔ یہ کیسی ان دیکھی جنگ ہے جس کا سرا دکھائی نہیں دے رہا۔

کبھی یہ آگ فاٹا میں بھڑک اٹھتی ہے۔ کبھی اس کا رخ پشاور کی جانب ہوجاتا ہے اور کبھی یکدم راولپنڈی، گجرات ، لاہور اور کراچی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ یہ تو پاکستانی سماج کی خوبی اور باہمی تعلقات کی مضبوطی ہے جو ریاست ڈگمگائی نہیں وگرنہ کوئی اور معاشرہ ہوتا تو کب کا اکھڑ چکا ہوتا۔سولہ سالہ جنگ، باون ممالک کا دباؤ، عالمی طاقتوں کی سازشوں اور معاشی تنگدستی کے باوجود پاکستان میں زندگی کے رواں دواں رہنے نے اس بات کو بھی ثابت کردیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاستیں آخر تک برقرار رہتی ہیں۔ وگرنہ تاریخ میں کئی ایسی ریاستیں گذریں جن کا ڈھانچہ شخصی نظریات پر تعمیر ہوا۔ ادھر شخصیتیں گذریں ادھر معاشرے تقسیم در تقسیم کے عمل سے گذرتے ہوئے بالآخر ٹوٹ گئے۔ پاکستان نے تو پھر سینکڑوں خودکش حملے، ہزاروں ہلاکتیں سہہ لیں۔ اس یورپ کا بھی تو سوچئے جہاں فقط ایک دھماکہ پورے ملک میں خوف و ہراس طاری کر دیتا ہے۔

تاریخ کا سبق یہ ٹھہرا کہ دوسروں کے ہاں آگ بھڑکانے والے خود بھی محفوظ نہیں رہتے۔آج نہیں تو کل دہشت گردی کی یہ آگ بالآکر ان ممالک کا بھی رخ کرے گی جو افغانستان میں پناہ گزین پاکستان مخالف گروپوں کو سرمایہ فراہم کر رہے ہیں۔

پاکستان افغانستان میں پوری دلجمعی سے امن کا خواہاں ہے۔ بظاہر امریکن بھی سدھرے نظر آ رہے ہیں۔ بھارت کو بھی ڈانٹ ڈپٹ کر سائیڈ لائن لگا دیا گیا ہے۔ طالبان کی متوقع حکومت کو معتدل طرز حکومت پر آمادہ بھی کر لیا گیا ہے۔ چین بھرپور سرمایہ کاری کے ساتھ افغانستان کے معاشی ڈھانچے کی ازسر نو تعمیر کی خاطر تیار بیٹھا ہے۔

روس، ایران بھی تعاون پر آ مادہ ہیں۔سبھی کچھ اچھا نظر آرہا ہے۔ اب دعا کرنی چاہئے سبھی فریق کھلے دل سے آگے بڑھیں اور اس قوم کو بھی تہذیبی ارتقاء میں حصہ دار بنانا چاہئے جس کے بچے بارود کے دھوئیں میں جوان ہوتے ہیں۔

Back to

مزید : رائے /کالم